بر صغیر میں القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کی سرگرمیاں



اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے دوران القاعدہ اور آئی ایس نےحالیہ دنوں میں بر صغیر میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ انہیں کوئی بڑی کامیابی تو نہیں ملی ہے لیکن اتنا ضرور محسوس کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کے لئے کچھ نوجوانوں سے انہوں نے رابطے قائم کئے ہیں اور انہیں اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں آئی ایس کے رابطے میں آنے والے افراد کی مجموعی تعداد 150 سے 200 تک ہوگی اور ان کی بڑی تعداد کیرالہ اور کرناٹک جیسی جنوبی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھتی ہے۔ عالمی دہشت گردی کے حوالے سے اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ اِن انڈین سب کانٹی نینٹ (اے کیو آئی ایس) سے اس پورے خطے میں خطرہ لاحق ہے۔ اے کیو آئی ایس نے ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، پاکستان اور میانمار سے بھی کچھ لوگوں کی اپنی صفوں میں بحالی کی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ ان انڈین سب کانٹی نینٹ نے اس علاقے میں دہشت گردانہ حملوں کی بھی منصوبہ بندی کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سینکشنس مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی 26 ویں رپورٹ میں آئی ایس، القاعدہ اور ان سے وابستہ دوسرے افراد اور گروپوں کے حوالے سے کہا ہے کہ آئی ایس ولیہٰ ہند نے گزشتہ سال مئی کے مہینہ میں ہی اعلان کیا تھا کہ کیرالہ اور کرناٹک میں اس کے ممبران کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ اقوام متحدہ کی مذکورہ ٹیم نے اپنی رپورٹ گزشتہ 23 جولائی کو جاری کی تھی۔ اس ٹیم نے مختلف ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں سے بھی رابطہ قائم کرکے صورتحال کا اندازہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی وبا کووڈ 19 کے دوران مختلف ملکوں میں جو لاک ڈاؤن اور دوسری پابندیاں عائد کی گئیں، اس پس منظر میں یہ پتہ لگانے کی بھی کوشش کی گئی کہ ان اقدامات اور پابندیوں کا اثر القاعدہ اور آئی ایس کی سرگرمیوں اور منصوبوں پر کیا پڑا؟ اس سلسلے میں مانیٹرنگ ٹیم کا کہنا یہ ہے کہ ان پابندیوں کے باعث دہشت گرد گروپوں کی نقل و حرکت اور منصوبہ بندیوں پر کافی گہرا اثر پڑا کیونکہ ان کے کاموں میں کافی رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور ان کی سرگرمیاں تقریباً تعطل کا شکار ہوکر رہ گئیں۔ ان کے حملے کرنے کے منصوبوں پر پانی پھر گیا۔ عالمی پیمانے پر آمد و رفت کا سلسلہ رک جانے سے دہشت گردوں کی حرکات و سکنات پر بھی اثر پڑا۔ ان کا نٹ ورک تعطل کا شکار ہوا اور مالی لین دین سے متعلق سرگرمیاں بھی تقریباً ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔

لیکن رپورٹ میں ایک بات بطور خاص تشویش کا باعث ہے۔ وہ یہ کہ اے کیو آئی ایس طالبان کے زیر اثر افغانستان کے نیم روز، ہیلمند اور قندھار صوبوں سے اپنی کارروائیاں جاری رکھ رہا ہے۔ القاعدہ ان انڈین سب کانٹی نینٹ کا موجودہ سربراہ اوسامہ محمد ہے جو ہلاک شدہ عاصم عمر کا جانشیں ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن اور امریکی فوجیوں کی واپسی سے متعلق جو سمجھوتہ ہوا تھا، اس میں امریکہ نے طالبان سے یہ گارنٹی چاہی تھی کہ وہ القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں رکھے گا۔ تو پھر طالبان کے زیر اثر اے کیو آئی ایس کی سرگرمیاں کیا معنی رکھتی ہیںَ اسی سے یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ خود طالبان پر پاکستان ایجنسیوں کا گہرا اثر ہے۔ تو کیا یہ معاملہ کچھ عجیب نہیں لگتا کہ اس صورتحال میں دہشت گردوں کے نٹ ورک اور پاکستان کے درمیان کس طرح کا رابطہ ہوگا؟ کیا یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اے کیو آئی ایس کے خلاف پاکستان اس نوعیت کی کارروائی کرنے کے لئے تیار ہوگا جس طرح کی کارروائیاں اس خطے کے دوسرے ممالک کرسکتے ہیں؟

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے کیو آئی ایس بر صغیر میں انتقامی کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے سابق لیڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ کووڈ۔ 19 سے متعلق پابندیوں کے اثرات کا ذکر کرتےہوئے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کا اثر بڑے پیمانے پر محسوس کیا گیا ہے کہ ان کے باعث عالمی پیمانے پر جو آمدو رفت رکی تو سیاحت والے مقامات تک سیاحوں کا آنا جانا بند ہوا اور جو سیاح دنیا کے مختلف ممالک میں سیاحت کے مقامات تک جانا چاہتے تھے، وہ واپس چلے گئے یا انہیں واپس بھیجنے کا بندوبست کیاگیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیر و سیاحت والے مقامات ویران پڑے رہے، دہشت گردوں کو حملہ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ویسے بھی بھیڑ بھاڑ اور اجتماعات کا سلسلہ بند ہوگیا۔ اس لئے لوگوں کے اکٹھا ہونے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس لئے دہشت گردوں کو اپنا نشانہ طے کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ آئی ایس خراسان کو اس درمیان اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے ماحول انتہائی تنگ نظر آیا۔ اس صورتحال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایس کو اپنی کھوئی ہوئی صلاحیت حاصل کرنے میں خاصی دشواری پیش آرہی ہے۔ ممبر ممالک کا کہنا ہے کہ آئی ایس نے اس بات کی پوری کوشش کی کہ وہ اپنی کارکردگی میں تیزی لائے تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت حاصل کرے لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اپنے مقاصد میں ابھی تک کوئی کامیابی اسے مل پائی ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے اس سلسلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آئی ایس خراسان نے کمزور پڑ جانے کے باعث افغانستان میں 2019 سے اپنا ٹھکانہ بدل لیا اور وہ ننگرہار سے کونار صوبے میں منتقل ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ پے در پے نقصان ہی اٹھا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ خراسان کے ممبران کے بارے میں یہ اندازہ ہے کہ ان کی تعداد 2200 کے قریب ہوگی جبکہ القاعدہ جنگجوؤں کی تعداد 400 سے 600 کے درمیان ہوسکتی ہے۔

مذکورہ رپورٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ خراسان کی طاقت کم ہوئی ہے اور حملہ کرنے کی اس کی صلاحیت میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ القاعدہ کے بارے میں یہ قیاس ہے کہ اس کے ممبروں کی تعداد 600 سے زیادہ نہیں ہے لیکن اس حوالے سے ایک تشویشناک خبر یہ ضرور ہے کہ طالبان سے اس کے رابطے اب بھی موجود ہیں حالانکہ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی شرطوں میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ طالبان، القاعدہ سے اپنا رشتہ توڑ لے گا۔ دوسری تشویش کی بات اس علاقے کے ممالک کے لئے یہ ہے کہ ہندوستان بنگلہ دیش، پاکستان اور میانمار میں القاعدہ اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے اور ان ملکوں کے نوجوانوں کو بھی اپنی صفوں میں شامل کرنے کے پلان پر عمل کررہا ہے۔ اس جانب علاقے کے ملکوں کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چونکہ کورونا وبا کے باعث لاک ڈاؤن اور دوسری پابندیوں کی وجہ سے دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں اور منصوبہ بندیوں پر خاص اثرا پڑا ہے اس لئے اس خطے کے ملکوں کو اس تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے ان گروپوں سے موثر انداز سے نمٹنے کے لئے کوئی نئی حکمت عملی اختیار کرنے کے سوال پر غور کرنا چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ