موضوع :پاکستان میں اقلیتیں ہمیشہ غیر محفوظ


بانی پاکستان محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فیصلے کے بعد 11اگست1947 کو آئین ساز اسمبلی میں جو تقریر کی تھی اس کا متن یہ تھا کہ اس نوازائیدہ ملک میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا ، ہر شخص آزاد ہوگا ،مندر مسجد یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے پر کوئی پابندی نہیں عائد ہوگی۔مختصر یہ کہ ریاست کو اس بات سے کوئی سروکار نہ ہوگا کہ کس شخص کا مذہب کیا ہے ۔ یقیناً مسٹر جناح کی اس بات سے اس وقت پاکستان کی اقلیتوں میں اعتماد پیدا ہوا ہوگا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستا ن میں اقلیتیوں کی تعداد وہاں کی مجموعی آبادی کے کم و بیش 25فیصد کے بقدر تھی۔ لیکن بانی پاکستان کی وہ یقین دہانی حقیت کی شکل میں سامنے نہ آ سکی ۔ تھوڑے ہی دن بعد تمام اقلیتوں کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ انہیں ہر محاذ پر نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کے ساتھ غیر مساویانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں سب سے بڑی اقلیت ہندو اقلیت تھی اس کے علاوہ سکھ، عیسائی اور کچھ دوسری اقلیتیں بھی تھیں ۔ ایک اور اقلیت تو پاکستان نے خود پیدا کر لی جب 1947 میں پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کیا گیا جس کی رو سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ۔ گویا احمدیہ فرقہ بھی اقلیتوں میں شامل ہو گیا۔

رفتہ رفتہ اقلیتوں کی تعداد پاکستان میں کم ہوتی گئی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بہ مشکل تین فیصد یا اس سے کچھ ہی زیادہ لوگ ہوں گے جو اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں آئے دن اذیتیں دی جاتی ہیں ۔ ان کے تئیں نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے اور دل آزار باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں سے یہ رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بالغ اور اکثر نا بالغ غیر مسلم لڑکیوں کو زبر دستی اغوا کر لیا جاتا ہے اور ان کی مرضی کے خلاف ان کا مذہب تبدیل کرا کے کسی مسلمان سے شادی کر دی جاتی ہے ۔ ایک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس کام میں با اثر سیاسی حلقے بھی ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے بھی عموماً جانب داری اور تعصب کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔ اقلیتوں میں اس قدر خوف ہے اور انہیں اس طور پر دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ مظلوم کو عدالتوں سے بھی انصاف ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بہر حال یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔ پاکستان کی سول سوسائٹی اور انصاف پسند لوگ احتجاج بھی کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن بھی اکثر ایسے واقعات کا نوٹس لیتا ہے لیکن احتجاج کی ہر آواز صدا بہ صحرا ہو کر رہ جاتی ہے ۔ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان اکثر یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ بہت بڑے اقلیت نواز ہیں اور ان کے دور اقتدار میں اقلیتیں جتنی محفوظ ہیں اتنی کبھی نہیں تھیں۔اسی جون میں انہوں نے اسلام آباد میں ایک ہندو مندر کی تعمیر کے لئے ایک معقول رقم کی منظوری دی لیکن ان کے اس فیصلے کے فوراً بعد انتہا پسند مذہبی حلقوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی اور یہ دھمکی دی کہ وہ مندر نہیں تعمیر ہونے دیں گے ۔ بعض سیاسی پارٹیوں نے بھی اس کی مخالفت کی جن میں مولانا فضل الرحمن کی جمعیۃ العلمائے اسلام بھی شامل ہے ۔پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم نے بھی ہاں میں ہاں ملائی ہے ۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ قائد اعظم جنرل پرویز مشرف کی پسند کی سیاسی پارٹی تھی جو انہی کے دوراقتدار میں قائم ہوئی تھی ۔بہر حال شاید انہی باتوں کی وجہ سے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مندر کی تعمیر کا کام روک دیا۔ مندر کے لئے جو زمین الاٹ کی گئی تھی وہاں باونڈری کی تعمیر کا کام شروع ہواتھا۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے وجہ یہ بتائی کہ کچھ قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں ۔ یہ وہی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہے جس نے حال ہی میں بڑے اطمینان سے لال مسجد کے بد نام زمانہ مولانا عبد العزیز کے لئے بیس کنال زمین کے متنازعہ ٹکڑے کا مسئلہ حل کرایا تھا اور جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لئے زمین کا وہ ٹکڑا الاٹ ہوا تھا۔

یہ تو خیر ہوا ،لیکن اقلیتوں کے تئیں کس بڑے پیمانے پر نفرت پھیلائی جاتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بہت سے نیوز چینلوں نے انتہا پسند مولویوں کے زیر اثر مندر کی تعمیر کے کام پر روک لگ جانے سے ’’فتح کا جشن‘‘ منانا شروع کیا۔ یعنی یہ تاثر دیا کہ گویا ایک بڑا تاریخی معرکہ سر کر لیا گیا ہے ۔لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز بھی کہیں نہ کہیں سے سنائی دے جاتی ہے بھلے ہی سننے والا کوئی نہ ہو۔ اخبار ڈان نے اپنے اداریئے میں کہا ہے کہ مولانا عزیز کے معاملے کو جس طرح سلجھا لیا گیا کیا اسی طرح ہندو فرقے کے لئے یہ کام نہیں ہو سکتا تھا؟ اداریے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدم رواداری نے بہر حال معرکہ سر کر لیا لیکن کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے لئے مذہبی آزادی کا تصور ماند پڑتا جا رہا ہے ؟ پاکستان کے بعض دوسرے اخباروں نے بھی ارباب اختیار کی اس بے حسی کا ذکر کیا ہے ۔ انسانی حقوق کی بین الاقوای تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی اس بات کا سخت نوٹس لیا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ مذہبی اور سیاسی حلقوں کے دباو میں آئے بغیر ہندو مندر کی تعمیر کا کام مکمل کرائے کیونکہ ہر شخص کو مذہب اور عقیدے کے معاملے میں آزادی حاصل ہے۔ ایمنسٹی نے یہ بھی یاد دلایا ہے کہ خود پاکستان کے آئین کےتحت بھی مذہبی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داری بھی ہے ۔ ایمنسٹی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ مندر کی تعمیر کا کام روکنا تعصب کی ایک بد ترین مثال ہے جس کا ازالہ فوراً کیا جاناچاہئے۔کیا اس صورت حال میں عمران خان یہ حوصلہ دکھائیں گے کہ وہ سچ کا ساتھ دیں ، یا اسی طرح انتہا پسندوں کے آگے سپر ڈال دیں گے جیسا انہوں نے اپنی اقتصادی مشاورتی کمیٹی میں ایک احمدیہ ماہر اقتصادیات کو شامل کر کے کیا تھا۔ یعنی پہلے اسے شامل کیا اور پھر انتہاپسندوں کے دباؤ میں آ کر نکال باہر کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ