پاکستان کا قومی احتساب بیورو یا آگ اگلنے والااژدہا؟

پاکستان میں قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ ہے جو سیاست دانوں ، بیوروکریٹس اور بزنس مین پر لگائےگئے کرپشن کے الزامات سنتا ہے اور فیصلے کرتا ہے۔ لیکن اس کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس کے زیر سماعت آنے والے معاملات میں ملزم کو اس وقت تک مجرم ہی تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ بےگناہ نہیں ثابت کردیتا، جبکہ عام قانون میں ملزم اس وقت تک بےقصور تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ مجرم ثابت نہ ہوجاتا۔ اس نظام انصاف کوقائم کرنے کی سعادت پاکستانی فوج کو حاصل رہی ہے کیونکہ ایک فوجی آمریت کے دوران اسے اس وقت روشناس کرایا گیا جب مارشل لا نافذتھا۔ بہر حال اس وقت اس کاوجود ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ قومی احتساب بیورو اب تک متعدد اپوزیشن سیاست دانوں کی زندگیاں اور کریئر تاراج کرچکا ہے۔ لیکن ایک ستم ظریفی یہ ہے کہ جب کوئی سیاسی پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہےتو نیب پر طرح طرح کے الزام لگاتی ہے اور اسے انتقامی کارروائی کا ایک ذریعہ تصور کرتی ہے لیکن جب اقتدار میں آجاتی ہے تو کچھ ایسے رویہ کا مظاہرہ کرتی ہے کہ‘‘جیسے چل رہا ہے چلنے دو’’۔ اور ان سیاسی پارٹیوں سے تھوڑی دوری پر کھڑی پاکستانی فوج یہ تماشہ دیکھتی ہے اور ذہانت اور کمال ہوشیاری سےقومی احتساب بیورو کو سیاسی پارٹیوں کے غیظ وغضب سے بچاتی ہوئی جس سمت چاہتی ہے موڑ لے جاتی ہے۔

حال ہی میں قومی احتساب بیورو کا معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کے زیر غور آیا۔چیف جسٹس گلزار احمد اس کی موجودہ صورت حال دیکھ کر کچھ گھبراسے گئے۔ عدالت عظمیٰ نےیہ تشویش ظاہر کی کہ پورے ملک میں احتساب کی کل 25عدالتیں ہیں اور ان میں سےپانچ عدالتیں ایسی ہیں جہاں جج نہیں ہیں، جبکہ 1226 معاملات التوا میں پڑے ہوئےہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو 2001 سے لٹکے ہوئےہیں۔ایسے ہی ایک کیس کا ملزم ملک عدم کو روانہ بھی ہوچکاہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بےجا نہ ہوگا کہ جب نیب قائم ہوا تھا تو یہ کہا گیاتھا کہ ہر معاملہ تین ماہ کے اندر اندر نمٹا لینا چاہئے۔ اس پس منظر میں چیف جسٹس نے کہا کہ اگر موجودہ رفتار سے ان معاملات کا فیصلہ ہوتارہا تو انہیں نمٹانے میں کم از کم ایک صدی کا وقفہ اور درکار ہوگا۔ سو حالات کو دیکھتے ہوئےچیف جسٹس نےحکومت پاکستان کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ احتساب کی کم از کم 120 اضافی عدالتیں قائم کرے اور وہاں اہلیت کے حامل ججوں کو بحال کرے۔ چیف جسٹس نے یہ ہدایت بھی دی کہ یہ کام 30 دن کے اندراندر ہوجانا چاہئے۔

یقیناً چیف جسٹس آف پاکستان کے ذہن میں یہ بات آئی ہوگی کہ عدالتیں قائم ہوجانےاور جج بحال ہوجانےکےبعد معاملات جلد ہی سلجھائےجاسکتے ہیں۔ ممتاز صحافی نجم سیٹھی نےاپنے10 جولائی کے اداریے میں لکھاہے کہ شائد عدالت نے ایک نازک سےعنصر کو نظر انداز کردیا اور وہ بات یہ ہے کہ ملزم کو خودہی اپنی بے گناہی کے ثبوت اکٹھا کرنے ہوتے ہیں۔ نیب کاکام تو صرف یہ ہے کہ ملزم کے خلاف الزام عائد کرے ،ضمانت کی عرضی کی مخالفت کرے اور اسے جلد از جلد گرفتار کرے۔ اس کے ذمہ ملزم کے خلاف ثبوت اکٹھا کرنے کا کام نہیں ہے۔ البتہ وہ یہ کام کرسکتا ہے کہ عدالت سے باہر ایک سمجھوتے کےفارمولے پردونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کراکے سمجھوتے کی راہ نکال سکے۔ اور اب تک جن معاملات کا حل تلاش کیا گیا ہے ، ان میں بڑی تعداد ایسے معاملات کی ہے جو بزنس مین یا بیورو کریٹس سے متعلق تھے۔ سیاست دانوں کے معاملات اتنی آسانی سے نہیں سلجھتے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عام طور سے سیاست داں اس بات سے انکار کرتےہیں کہ وہ کرپشن کے کیس میں ملوث ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بے گناہی کا ثبوت اکٹھا کرنا کافی دقت طلب اورصبر آزما مرحلہ ہوتا ہے، اس لئے ایسے مقدمات میں لمبی مدت درکار ہوتی ہے اور کافی لمبے عرصےتک معاملہ ٹلتا رہتا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کسی بھی فعال جمہوریت میں اس طرح کا قانون ہی غیر آئینی قراردے کر رد کردیا جاتا لیکن شائد پاکستانی عدلیہ اس معاملے میں مداخلت کرنے سے کترارہی ہے۔ اس کی دو وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ کام پارلیمنٹ کو کرنا چاہئے لیکن موجودہ حکمراں جماعت اگر خود اس میں دلچسپی نہیں لے سکتی تو پھر عدالت کو کیاغرض ہے کہ وہ اس معاملے میں دلچسپی لے؟ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کرپشن اتنا بڑا عوامی مسئلہ ہے کہ اس کے احتساب کے سلسلے میں کسی ادارےکوتوڑنے کےفیصلے سےعوام میں شدید رد عمل ہوسکتا ہے۔

بہرحال حالیہ برسوں میں حکومتوں کے لئےاحتساب بیوروایک نیا دردسر بنتا جارہا ہے،کیونکہ احتساب بیورو صوبائی حکومتوں کے انسداد بدعنوانی کےمحکمہ میں مداخلت کر رہا ہے۔ صوبوں کےسینئر بیوروکریٹس کےخلاف ایسےالزامات کی چھان بین کرنے کا سلسلہ شروع کیاہے جس سے سرکاری خزانے کو نقصان اٹھاناپڑرہا ہے۔ اس کی وجہ سےسینئرافسران پریشان ہیں اور وہ کسی کام کو ہاتھ میں لینے سے کترانے لگےہیں۔ وہ کسی بڑےفیصلہ پر دستخط کرنےکے لئے محکمہ کے وزیر کی ہدایت کے باوجود تیار نہیں ہوتے، کیونکہ انہیں خوف لاحق ہوتا ہے کہ وہ شک کےدائرے میں آجائیں گے۔

نجم سیٹھی کے مطابق سب کا اپنا اپنا مفاد ہے۔ فوج چاہتی ہے کہ اس قانون میں کچھ ایسی ترمیم ہوجائے جس سے بیورو کریٹس اور بزنس مین کو تو کچھ راحت مل جائےلیکن وہ سیاست داں بالکل نہ بخشے جائیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتی۔دوسری طرف عمران حکومت یہ چاہتی ہے کہ احتساب بیورو، اپوزیشن لیڈروں کی تو گردن ناپتا رہے لیکن خود ان کی حکومت میں شامل کرپٹ عناصر پرقطعی انگلی نہ اٹھائے۔ اس وقت احتساب بیورو نام کےاژدہے کوجنگ ۔جیئو میڈیا گروپ پرحملہ کرنےکےلئےاکسادیاگیاہے ،کیونکہ یہ گروپ عمران حکومت اور فوجی ٹولے کو کا نٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔

نجم سیٹھی اپنےاداریئے کے اختتام پرچبھتا ہوا جملہ لکھتےہیں کہ عفریت کی فطرت سے ہم سب واقف ہیں کہ اس کی ایک عادت یہ بھی ہوتی ہےکہ وہ اپنے ہی آقاؤں پر کسی بھی وقت بغیر وارننگ کےحملہ کرسکتاہے۔ یہ ہےپاکستان کے قومی احتساب بیورو کی حقیقت!

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ