موضوع: بھارت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بہترین ملک
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت امریکہ کا ایک قابل اعتبار تجارتی پارٹنر ہے۔ بدھ کے روز ہند ۔امریکہ تجارتی کونسل کے زیر اہتمام انڈیا آئیڈیاز ورچول سر براہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زراعت ، صحت اوردفاع سمیت مختلف شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے لئے اپیل کی تاکہ بھارتی معیشت بحال ہو سکے جو کورونا وائرس کی وبا کے باعث سست روی کا شکار ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں نہ صرف کثیر مواقع موجود ہیں بلکہ یہاں کام کرنے کی پوری آزادی بھی ہے ۔اس دو روزہ کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور امریکہ ایک ساتھ مل کر کام کریں تو عالمی معیشت کو پٹری پر لانے میں بھی کافی مدد مل سکتی ہے اور بھارت کی خود انحصاری کی مہم اس عمل میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکمرانی میں شفافیت موجود ہے ۔ یہاں کام کرنے کو کافی آسان بنا دیا گیا ہے اور اصول و ضوابط کے باعث کاروبار میں جو دشواریاں آتی تھیں انہیں دور کر دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ایک بہترین ملک بن چکا ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ان تمام اصلاحات کا ذکر کیا جو ان کی حکومت نے کی ہیں۔ جناب مودی نے یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ بھارت میں وافر مواقع موجود ہیں ، کہا کہ اس وقت بھارت میں تقریباً پچاس لاکھ لوگ انٹر نٹ کا استعمال کر رہے ہیں اور ان میں شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مزید پچاس لاکھ لوگوں کو انٹر نٹ سے جوڑنے کا عمل جاری ہے ۔ جس کے بعد 5جی اور دوسری ڈیٹا ٹکنا لوجیز میں لا تعداد مواقع پیدا ہو جائیں گے ۔
جناب مودی نے ان شعبوں کا ذکر کیا جہاں غیر ملکی سرمایہ کار کافی دلچسپی لے سکتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے زراعت کے شعبہ کا ذکر کیا جہاں کافی اصلاحات کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے ڈبہ بند خوراک کے شعبہ کا بھی ذکر کیا جہاں امید ہے کہ 2025تک آدھی ٹریلین ڈالر تک کی تجارت پہنچ جائے گی۔ صحت کا شعبہ ایک دوسرا شعبہ ہے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے کافی مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے توانائی کے شعبہ کا بھی ذکرکیا اور کہا کہ امریکی کمپنیاں اس شعبہ میں سرمایہ کاری کر کے فائدے اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی گیس پر مبنی معیشت وسیع سے وسیع تر ہو رہی ہے اور صاف توانائی کا شعبہ بھی ترقی کر رہا ہے ۔ بھارت اس وقت بنیادی ڈھانچوں کی توسیع و ترقی کے پروگرام کے تحت شاہراہوں ، سڑکوں اور بندر گاہوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ لہذا یہ شعبہ بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے کافی مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ شہری ہوا بازی وہ شعبہ ہے جس کا وزیر اعظم نے خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دس برسوں کے دوران بھارت میں اس شعبہ کی نجی کمپنیوں کو تقریباً ایک ہزار طیاروں کی ضرورت پڑے گی۔ لہذا ان طیاروں کو بنانے اور علاقائی بازار میں انہیں سپلائی کرنے نیز ان کے انتظام اور ان کی دیکھ ریکھ کے لئے بھی مواقع موجود ہیں۔
جناب مودی نے سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ خلاء کے شعبہ پر بھی توجہ دیں جہاں سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دینے کے لئے کافی اصلاحات کی گئی ہیں۔ انہوں نے دفاع کے شعبہ کا بھی ذکر کیا جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد بڑھا کر 74فیصد کر دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے انشو رینس سیکٹر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت میں اس کا مستقبل تابناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت ،زراعت اور لائف انشو رینس کے شعبوں میں کافی مواقع موجود ہیں۔
2019-20 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری 74ارب ڈالر کی تھی ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کووڈ۔19 جیسی وبا کے دوران بھی اس سال اپریل اور جولائی کے درمیان بیس ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی ۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ آئندہ برسوں میں عالمی معیشت کو جلا بخشنے میں بھارت ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔
اس وقت دنیا میں جو واقعات رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم کا یہ خطاب بر وقت ہے ۔ چین کے جارحانہ برتاؤ اور کورونا وائرس کے تعلق سے اس کے غیر ذمہ دارانہ برتاؤ سے دنیا میں کافی تشویش پیدا ہو گئی ہے اور اب اسے ایک قابل اعتبار پارٹنر نہیں سمجھا جاتا ۔ چین کے اس برتاؤ سے امریکہ اور چین کےد رمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس لئے امریکہ سمیت بہت سے ممالک اب چین سے باہر سپلائی چین تلاش کر رہے ہیں۔ لہذا وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ بھارت ایک کھلا بازر ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ،بالکل درست ہے ۔
جناب مودی نے ان شعبوں کا ذکر کیا جہاں غیر ملکی سرمایہ کار کافی دلچسپی لے سکتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں انہوں نے زراعت کے شعبہ کا ذکر کیا جہاں کافی اصلاحات کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے ڈبہ بند خوراک کے شعبہ کا بھی ذکر کیا جہاں امید ہے کہ 2025تک آدھی ٹریلین ڈالر تک کی تجارت پہنچ جائے گی۔ صحت کا شعبہ ایک دوسرا شعبہ ہے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے کافی مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے توانائی کے شعبہ کا بھی ذکرکیا اور کہا کہ امریکی کمپنیاں اس شعبہ میں سرمایہ کاری کر کے فائدے اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی گیس پر مبنی معیشت وسیع سے وسیع تر ہو رہی ہے اور صاف توانائی کا شعبہ بھی ترقی کر رہا ہے ۔ بھارت اس وقت بنیادی ڈھانچوں کی توسیع و ترقی کے پروگرام کے تحت شاہراہوں ، سڑکوں اور بندر گاہوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ لہذا یہ شعبہ بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے کافی مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ شہری ہوا بازی وہ شعبہ ہے جس کا وزیر اعظم نے خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دس برسوں کے دوران بھارت میں اس شعبہ کی نجی کمپنیوں کو تقریباً ایک ہزار طیاروں کی ضرورت پڑے گی۔ لہذا ان طیاروں کو بنانے اور علاقائی بازار میں انہیں سپلائی کرنے نیز ان کے انتظام اور ان کی دیکھ ریکھ کے لئے بھی مواقع موجود ہیں۔
جناب مودی نے سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ خلاء کے شعبہ پر بھی توجہ دیں جہاں سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دینے کے لئے کافی اصلاحات کی گئی ہیں۔ انہوں نے دفاع کے شعبہ کا بھی ذکر کیا جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد بڑھا کر 74فیصد کر دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے انشو رینس سیکٹر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت میں اس کا مستقبل تابناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت ،زراعت اور لائف انشو رینس کے شعبوں میں کافی مواقع موجود ہیں۔
2019-20 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری 74ارب ڈالر کی تھی ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کووڈ۔19 جیسی وبا کے دوران بھی اس سال اپریل اور جولائی کے درمیان بیس ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی ۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ آئندہ برسوں میں عالمی معیشت کو جلا بخشنے میں بھارت ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔
اس وقت دنیا میں جو واقعات رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم کا یہ خطاب بر وقت ہے ۔ چین کے جارحانہ برتاؤ اور کورونا وائرس کے تعلق سے اس کے غیر ذمہ دارانہ برتاؤ سے دنیا میں کافی تشویش پیدا ہو گئی ہے اور اب اسے ایک قابل اعتبار پارٹنر نہیں سمجھا جاتا ۔ چین کے اس برتاؤ سے امریکہ اور چین کےد رمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس لئے امریکہ سمیت بہت سے ممالک اب چین سے باہر سپلائی چین تلاش کر رہے ہیں۔ لہذا وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ بھارت ایک کھلا بازر ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ،بالکل درست ہے ۔
Comments
Post a Comment