طالبان کے آپسی اختلافات اور افغانستان کا مستقبل



اس سال فروری کے مہینے میں طالبان اور امریکہ کے مابین افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے ایک سمجھوتا ہوا تھا اس کے بارے میں شروع ہی سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہے۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ بات چیت کے دوران بھی افغانستان میں تشدد کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوا تھا ۔ دوسری بات یہ بھی محسوس کی جا رہی تھی کہ طالبان حکومت افغانستان سے بات چیت کرنے یا اندرون افغانستان مصالحت اور مفاہمت کا ماحول قائم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ لیکن رفتہ رفتہ کچھ ایسے انکشافات بھی ہونے لگے جن سے یہ اندازہ ہوا کہ خود طالبان کی اندرونی صفوں میں شدید اختلافات موجود ہیں اور یہ کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کی جس قیادت نے حصہ لیا اس کے پلان اور اس کے متعدد جنگجو ؤں کے خیالات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں کیونکہ یہ بات بطور خاص محسوس کی جا رہی ہے کہ دوحہ میں طالبان قیادت نے مصالحتی انداز اختیار کیا تھا اور کم از کم یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ انسانی حقوق، جمہوریت اور اقتدار میں ساجھے داری جیسے موضوعات پر حکومت افغانستان سے بعد کے مرحلے میں سنجیدہ بات چیت ہو سکتی ہے اور کوئی حل بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ شاید طالبان کی جانب سے یہ انداز اختیار کئے جانے ہی کی وجہ سے امریکہ نے اس ڈیل کو آخری شکل دینے پر اپنی رضامندی ظاہر کی تھی اور بالآخر سمجھوتا ہو بھی گیا لیکن یہ تو طالبان کی اس اعلیٰ قیادت کی بات ہوئی جو بات چیت میں براہ راست حصہ لے رہی تھی۔ لیکن اندرون افغا نستان جو قتل و غارت گری کا کھیل جاری ہے اس پس منظر میں امریکہ کے تھنک ٹینک، سنجیدہ تجزیہ کار اور صحافی افغانستان کی اندرونی صورتحال کا بہ نفس نفیس جائزہ لینا چاہتے تھے اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ افغانستان کے جن علاقوں میں طالبان کا دبدبہ ہے یا جو کلی طور پر طالبان ہی کے قبضے میں ہیں، وہاں کس طرح کا ماحول ہے اور کس طرح کے خیالات پروان چڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹروں کی ایک ٹیم نے افغانستان کی مشرقی سرحد پر واقع ایسے اضلاع کی زمینی حقیقت جاننے کی کوشش کی جو ایک لمبے عرصے سے طالبان کمانڈروں اور جنگجوؤں کی گرفت میں ہیں۔ یہ ٹیم اسی مہینے کے اوائل میں مراورا ضلع کا دورہ کیا۔ لیکن یہ رپورٹر طالبان کی اجازت کے بغیر وہاں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ بہر حال انھیں اس بات کی اجازت تو مل گئی کہ وہ وہاں جائیں اور لوگوں سے بات چیت کریں لیکن ان صحافیوں کے ساتھ طالبان جنگجو بھی گئے۔ وہاں جن لوگوں سے واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹروں کی بات ہوئی ان میں سے بیشتر کا خیال یہی تھا کہ ‘ہم افغانستان میں سو فیصد اقتدار چاہتے ہیں’ مثلاً پچیس سال کے ایک طالبان جنگجو نے جس کا نام یاسر ہے کہا کہ‘ امریکی فوج پر ہم نے لمبی جد و جہد کے بعد فتح حاصل کی ہے لہٰذا اسے ہم رائگاں نہیں جانے دیں گے’۔ رپورٹروں کا کہنا ہے کہ یاسر کے کمانڈروں اور اس ضلع کے کمانڈر اور دوسرے لوگوں نے بھی یہی خیال ظاہر کیا۔ رپورٹروں کے مطابق طالبان کے قبضے والے دوسرے اضلاع تک تو ان کی رسائی مشکل تھی کیونکہ وہاں پابندیاں بہت سخت ہیں لیکن مراورا ضلع میں تو یہی اندازہ ہوا کہ طالبان جنگجوؤں کا ارادہ افغان حکومت سے بات چیت کرنے یا سمجھوتا کرنے کا قطعی نہیں ہے۔ رپورٹروں کے مطابق ان کے پورے دورے کے دوران یہی تاثر ملا کہ وہ اپنی جنگ اور افغان حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ افغانستان پر پورے طور پر ان کا قبضہ نہیں ہو جاتا۔ لیکن رپورٹروں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس چھوٹے سے ضلع میں بھی جہاں پر طالبان گزشتہ نو سال سے قابض ہیں، نظم ونسق چلانے کے وہ قطعی لائق نہیں ہیں۔ یہاں کی تمام کلیدی سروسز مثلاً تعلیم اور حفظان صحت کے شعبے پورے طور پر حکومت افغانستان کے مرہون منت ہیں اگرچہ اس ضلع پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔

ایک طرف امریکہ اپنی فوجیں واپس بلانے کی تیاری کر رہا ہے تو دوسری طرف طالبان جنگجو یہ کہہ رہے ہیں کہ بس کسی بھی وقت وہ پورے افغانستان پر قابض ہو جائیں گے۔ ایک کمانڈر نے یہ کہا کہ فروری میں جو سمجھوتا ہوا وہ دراصل طالبان کے اس خواب کی تعبیر تھا جس کے تحت وہ ‘ کافروں ’ کو شکست دینا چاہتے تھے۔ یاسر نے رپورٹروں سے یہ بھی کہا کہ اقتدار کو بانٹنا ناقابل قبول ہے۔ ہم اسلامی حکومت کو دو حصوں میں نہیں بانٹنے دیں گے۔ اس کے مطابق قطر میں سرگرم طالبان قیادت اگر اقتدار میں ساجھے داری کے فارمولے کو تسلیم بھی کرتی ہے تو طالبان کے جنگجو اس کے خلاف بغاوت کر دیں گے اور آزادانہ طور پر ہتھیار اٹھا لیں گے۔

یہ بات واقعی شدید تشویش کا باعث ہے۔ طالبان قیادت نے بات چیت کے ذریعہ حل تلاش کرنے کے سوال پر رضامندی تو ظاہر کی اورسمجھوتا بھی کیا لیکن اس کے سامنے جو مرحلے ہیں وہ بیحد دشوار ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ ایک سینئر افغان تجزیہ کار اینڈریو واٹکنس کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت کے سامنے بہت سارے مسائل ہیں اور اسے اپنے گروپ کو سنبھالنے، اپنا ہم خیال بنانے اور سمجھوتے کی راہ کو ہموار کرنے میں ایک لمبی مسافت طے کرنی پڑے گی لیکن اس صبر آزما عمل میں یہ خوف بھی دامنگیر ہے کہ سیاسی سمجھوتے سے متعلق بات چیت شروع ہونے کے پہلے ہی مرحلے میں کہیں ایسا نہ ہو کہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک جنگجو ساتھ چھوڑ دیں اور دوسرے جنگجو گروپو ں اور تنظیموں سے جا ملیں۔ اس صورت میں ایک نئی پر تشدد مزاحمت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اینڈریو واٹکنس کے مطابق طالبان قیادت کی یہ تشویش سو فیصد حقیقی ہے۔ گویا اگر افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات کہی جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ افغان حکومت فکرمند ہے کہ سیاسی سمجھوتے کی کیا شکل ہوگی بلکہ خود طالبان قیادت بھی شدید تذبذب اور کنفیوژن کا شکار ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ