افغانستان سے متعلق امن مذاکرات میں رکاوٹ
افغانستان میں قیام امن سے متعلق امریکہ اور طالبان کے درمیان جو مذاکرات چل رہے تھے، ان میں ایک بار پھر رکاوٹ پیدا ہوگئی جس کے باعث مزید کنفیوژن پیدا ہوگیا ہے۔ ایک طرف انتخابات کا معاملہ بھی کئی طرح کے نشیب و فراز کا شکار رہا اور صدارتی انتخاب میں تاخیر ہوتی رہی جس کے باعث سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ اشرف غنی حکومت صدارتی انتخاب کے انعقاد تک اپنے عہدے پر برقرار رہے گی۔ دراصل 22 مئی کو ان کا ٹرم ختم ہوجائے گا۔صدارتی الیکشن میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پہلے ہی کافی تاخیر ہوچکی ہے۔ اپریل مئی میں صدارتی انتخاب ہوجانا چاہئے تھا لیکن الیکشن کا عملہ اس کے لئے ابھی تیار نہیں تھا کیونکہ اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے اور ان میں سے بھی کچھ کے انتخابات کے نتیجے ابھی تک نہیں آئے ہیں لہذا صدارتی انتخاب کی تاریخ 20 جولائی طے ہوئی تھی لیکن بعض وجوہ سے وہ بھی ممکن نہ ہوسکا اور 28 ستمبر تک کے لئے یہ معاملہ ٹل گیا ہے۔ اس غیر معمولی تاخیر کے باعث سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ جب تک نئے صدر کا انتخاب نہیں ہوجاتا، ڈاکٹر اشرف غنی اس عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
دوسری طرف امریکی نمائندوں اور طالبان کے ساتھ دوحہ میں جو امن مذاکرات چل رہے ہیں، ان میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگئی اور اس محاذ پر بھی صورتحال غیر یقینی نظر آنے لگی ہے۔ کیونکہ مذاکرات کو غیر معینہ مدت تک کے لئے ٹال دیا گیا ہے۔ دراصل گزشتہ ہفتے افغان حکومت کو ایک وفد بھیجنا تھا جو افغانستان کے اندرونی سیاسی حلقوں کے مابین ہونے والی بات چیت میں شرکت کرتا لیکن طالبان نے افغان حکومت کی طرف سے بھیجے جانے والے وفد کی تعداد کی بنیاد پر بات چیت کرنے سے انکار کردیا۔ دراصل طالبان کا اعتراض یہ تھا کہ اتنی بڑی تعداد پر مشتمل وفد بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔حکومت افغانستان نے، مختلف شعبۂ حیات کے لوگوں کو اس وفد میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ افغانستان کے وسیع تر حلقوں کی نمائندگی ہوسکے۔ اس طور پر وفد کے اراکین کی تعداد 250 تک پہنچ گئی۔ طالبان نے بے لچک رویہ اختیار کرتے ہوئے سیدھے طور پر بات کرنے ہی سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شادی یا کسی اور طرح کی تقریب نہیں تھی کہ اتنے سارے لوگوں کو کسی ہوٹل میں میں آکر کھانا کھانا تھا۔ بہرحال اندازہ یہ ہوتا ہے کہ طالبان کو کسی نہ کسی صورت بات چیت کو ٹالنا تھا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ وفد کے اراکین کی تعداد کم کرنے کی شرط رکھ سکتے تھے۔ حکومت کی طرف سے کوشش یہ ہوئی تھی کہ وفد زیادہ نمائندہ ہو تاکہ افغان سوسائٹی کے مختلف شعبۂ زندگی کے لوگوں کی نمائندگی ہوسکے۔ یہ کوئی بری بات نہیں تھی لیکن ایکدم سے غیر معینہ مدت تک کے لئے بات چیت کو ٹال دینا کوئی دانشمندی کی بات نہیں لگتی۔ طالبان قیادت شروع سے ہی افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کرتی رہی ہے لیکن اب تو یہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ وہ صرف اپنی شرطوں پر ہی سب کچھ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں افغانستان کے دوسرے حلقوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اگر ان کی نیت اچھی ہوتی تو اتنے بڑے پیمانے پر افغانستان میں حملے نہ ہوتے۔ امن مذاکرات بھی چل رہے تھے اور طالبان کے حملے بھی ہوتے ہی رہتے تھے۔ یہ حملے اب بھی نہیں رکے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی ایک سرکاری عمارت پر حملہ ہوا، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغان امور زلمے خلیل زاد نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا ملتوی ہونا بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم تمام حلقوں سے رابطہ قائم کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر شخص اور ہر گروپ مذاکرات کے تئیں سنجیدہ ہو۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان اور ان کے حامی بھی سنجیدہ ہیں اور کیا وہ واقعی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور قتل و غارت گری کا سلسلہ ختم ہو؟ کم از کم طالبان کے رویوں سے ایسا نہیں لگتا۔
دوسری طرف امریکی نمائندوں اور طالبان کے ساتھ دوحہ میں جو امن مذاکرات چل رہے ہیں، ان میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگئی اور اس محاذ پر بھی صورتحال غیر یقینی نظر آنے لگی ہے۔ کیونکہ مذاکرات کو غیر معینہ مدت تک کے لئے ٹال دیا گیا ہے۔ دراصل گزشتہ ہفتے افغان حکومت کو ایک وفد بھیجنا تھا جو افغانستان کے اندرونی سیاسی حلقوں کے مابین ہونے والی بات چیت میں شرکت کرتا لیکن طالبان نے افغان حکومت کی طرف سے بھیجے جانے والے وفد کی تعداد کی بنیاد پر بات چیت کرنے سے انکار کردیا۔ دراصل طالبان کا اعتراض یہ تھا کہ اتنی بڑی تعداد پر مشتمل وفد بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔حکومت افغانستان نے، مختلف شعبۂ حیات کے لوگوں کو اس وفد میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ افغانستان کے وسیع تر حلقوں کی نمائندگی ہوسکے۔ اس طور پر وفد کے اراکین کی تعداد 250 تک پہنچ گئی۔ طالبان نے بے لچک رویہ اختیار کرتے ہوئے سیدھے طور پر بات کرنے ہی سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شادی یا کسی اور طرح کی تقریب نہیں تھی کہ اتنے سارے لوگوں کو کسی ہوٹل میں میں آکر کھانا کھانا تھا۔ بہرحال اندازہ یہ ہوتا ہے کہ طالبان کو کسی نہ کسی صورت بات چیت کو ٹالنا تھا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ وفد کے اراکین کی تعداد کم کرنے کی شرط رکھ سکتے تھے۔ حکومت کی طرف سے کوشش یہ ہوئی تھی کہ وفد زیادہ نمائندہ ہو تاکہ افغان سوسائٹی کے مختلف شعبۂ زندگی کے لوگوں کی نمائندگی ہوسکے۔ یہ کوئی بری بات نہیں تھی لیکن ایکدم سے غیر معینہ مدت تک کے لئے بات چیت کو ٹال دینا کوئی دانشمندی کی بات نہیں لگتی۔ طالبان قیادت شروع سے ہی افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کرتی رہی ہے لیکن اب تو یہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ وہ صرف اپنی شرطوں پر ہی سب کچھ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں افغانستان کے دوسرے حلقوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اگر ان کی نیت اچھی ہوتی تو اتنے بڑے پیمانے پر افغانستان میں حملے نہ ہوتے۔ امن مذاکرات بھی چل رہے تھے اور طالبان کے حملے بھی ہوتے ہی رہتے تھے۔ یہ حملے اب بھی نہیں رکے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی ایک سرکاری عمارت پر حملہ ہوا، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغان امور زلمے خلیل زاد نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا ملتوی ہونا بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم تمام حلقوں سے رابطہ قائم کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر شخص اور ہر گروپ مذاکرات کے تئیں سنجیدہ ہو۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان اور ان کے حامی بھی سنجیدہ ہیں اور کیا وہ واقعی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور قتل و غارت گری کا سلسلہ ختم ہو؟ کم از کم طالبان کے رویوں سے ایسا نہیں لگتا۔
Comments
Post a Comment