ممنوعہ جماعتوں کے مالی لین دین کو روکنے کے لئے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی مزید ہدایات

پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جس کی سرزمین دہشت گردی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے بہت ہی سازگار ہے۔ وہاں کا ماحول مذہبی شدت پسندی کے لیے بھی بہت معاون ہے اور مسلکی عصبیت کے لیے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں درجنوں دہشت گرد جماعتیں ہیں جو اپنے اپنے ایجنڈے پر کام کرر ہی ہیں۔ کوئی وہاں سے دوسرے ملکوں کے لیے واردات انجام دیتی ہے تو کوئی وہیں کے مخالفین کو اپنی وحشیانہ کارروائیوں کا نشانہ بناتی ہے۔ ان تنظیموں اور گروپوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں ان کے ہمدردوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ان گروپوں کو اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے بہت آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو دہشت گردی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف اگر کسی کارروائی کا امکان ہو تو وہ انھیں ڈھال بھی فراہم کرتے ہیں۔ حکومت میں بھی انتہاپسندوں کے ہمدرد ہیں اور فوج میں بھی ہیں۔ وہ بھی نہیں چاہتے کہ ان گروپوں کا خاتمہ ہو۔ کیونکہ ان کے بھی کاروبار ان سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ حالانکہ پوری دنیا سے پاکستان پر یہ دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ٹھوس کارروائی کرے اور دہشت گردی کو جڑ سے نیست و نابود کرے۔ پاکستان وعدے کرنے میں بڑا فراخ دل ہے۔ وہ فوراً کہتا ہے کہ ہاں ہم یہ کام کریں گے۔ وہ نمائشی اقدامات کرکے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش بھی کرتا ہے کہ ہاں وہ دہشت گردی کا مخالف ہے۔ لیکن دوسرے طریقوں سے دہشت گردوں کے لیے آسانیاں بھی پیدا کر دیتا ہے۔ کہنے کو تو اس نے ضرب عضب، ردُّالفساد اور دیگر کئی آپریشن چلائے ہیں اور اس کا دعویٰ ہے کہ ان آپریشنوں کے نتیجے میں دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور دہشت گرد ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ وہ دہشت گرد گروپوں کے رہنماؤں کو گرفتار بھی کرتا ہے اور انھیں نظربند بھی کرتا ہے۔ لیکن یہ گرفتاری اور نظربندی بھی ایک طرح سے دنیا کی نظربندی کے لیے ہوتی ہے۔ وہ ان نمائشی اقدامات سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن دنیا اور دنیا کے لوگ اتنے احمق بھی نہیں ہیں کہ حالات کو سمجھ نہ سکیں اور صورت حال کو نہ پرکھ سکیں۔ وہ اتنے بھی کم عقل نہیں کہ نمائشی اور حقیقی کارروائی میں فرق نہ کر سکیں اور پاکستان کے دعووں پر آنکھ بند کرکے یقین کر لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو دنیا کو پاکستان کے وعدوں اور دعووں پر یقین ہے اور نہ ہی عالمی اداروں کو۔ اس کا تازہ ترین ثبوت فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس، ایف اے ٹی ایف کے نئے مطالبات ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی تشکیل دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ کی فراہمی روکنے کے لیے ہوئی ہے۔ اس نے پہلے بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اسے جون میں دوبارہ اسی لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ اس نے پاکستان کے سامنے جو نئے مطالبات رکھے ہیں ان میں تمام صرافہ بازار کو دستاویزی بنانا، سونے کا لین دین بینک کارڈ سے کیا جانا، زیورات خریدنے والوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا اور سونا اور زیورات کو کالعدم دہشت گرد گروپوں اور جماعتوں تک پہنچنے سے روکنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں کام کر رہے تمام ٹرسٹوں کے ڈیٹا اکٹھا کرنے، ان کے بینک کھاتوں کی تفصیلات حاصل کرنے اور یہاں تک کہ ان کے ضلعی دفاتر کی تفصیلات یکجا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اس نے پاکستان کو ہدایت دی ہے کہ وہ جو ہزاروں رجسٹرڈ ٹرسٹ تنظیمیں ہیں ان کو بھی منضبط کرنے کو یقینی بنائے۔ اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے ان مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا تو وہ اسے بلیک لسٹ کر دے گا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بین الاقوامی اداروں کو پاکستان کی زبان پر ذرا بھی اعتبار نہیں ہے اور یہ کہ یہ ادارے ایک ایک چیز پر نظر رکھتے ہیں۔ پاکستان اس وقت شدید مالیاتی بحران میں مبتلا ہے۔ وہ آئی ایم ایف کے علاوہ مختلف ملکوں سے قرض اور امداد چاہ رہا ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی اس کو دی جانے والی امدادی رقوم میں تخفیف کر دی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کو بلیک لسٹ کئے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ پاکستانی معیشت اس وقت ڈانواڈول ہے۔ اگر اسے بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے تو اسے حد سے زیادہ مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسے گرےلسٹ میں شامل کرنا بھی اس کے لیے کم خسارے کی بات نہ تھی۔ اس اقدام کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات پر برا اثر پڑا ہے۔ اس کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساکھ کو بھی شدید دھچکہ لگا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے بعد ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس کے سامنے دس نکاتی ایکشن پلان پر جنوری 2019تک عمل درآمد کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس دس نکاتی ایکشن پلان کے مطابق پاکستان کو بتانا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق اقدامات کرنے میں کامیاب ہوا ہے یا نہیں۔ اب اگر وہ مذکورہ نئے مطالبات پر عمل نہیں کرتا ہے تو اس کی کیا حالت ہو جائے گی سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے کوئی اور نہیں بلکہ خود پاکستان ذمہ دار ہے۔ اگر وہ واقعی سنجیدگی کے ساتھ ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی اداروں اور ملکوں کی اپیلوں پر کارروائی کرتا اور دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنے میں مؤثر رول ادا کرتا تو آج اسے یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔

Comments