موضوع: پہلے مرحلہ کے ساتھ ہی  لوک سبھا کے انتخابات شروع

ہندوستان میں عام انتخابات کل پہلے مرحلہ کے ساتھ شروع ہوگئے۔ ایک ارب سے بھی زیادہ آبادی والے اس ملک میں یہ انتخابات سب سے اہم سمجھے جارہے ہیں۔کل پہلے مرحلہ میں لوک سبھا کی 543 میں سے 91 نشستوں کے لیے 18 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام دو علاقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ خبروں کے مطابق تشدد کے اکادکا واقعات کو چھوڑ کر پولنگ پرامن رہی۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے لیے ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلہ میں 1279 امیدوار میدان میں تھے جن کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کل رائے دہندگان نے کردیا۔

یہ انتخابات ایک زبردست جمہوری مشق ہے جسے جمہوریت کا تہوارکا نام بھی دیا جارہا ہے۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف پہلے مرحلہ میں کل 900 ملین ووٹروں میں سے 140 ملین ووٹر ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ 900 ملین ووٹروں کا مطلب ہے امریکہ کی آبادی کا تین گنا۔پہلے مرحلہ کی پارلیمانی سیٹوں کے ساتھ ساتھ آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، سکم اور اوڈیشہ اسمبلیوں کے لیے بھی پولنگ ہوئی۔ سب سے زیادہ پولنگ مغربی بنگال میں ہوئی، جہاں ووٹنگ 81فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہاں ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے جس کا بھارتیہ جنتا پارتی سے سخت مقابلہ تھا۔

543 ارکان پر مشتمل لوک سبھا کے انتخابات کے باقی چھ مرحلوں کی پولنگ ابھی ہونی باقی ہے۔ اب دوسرے مرحلہ کی پولنگ 18 اپریل، تیسرے کی 23 اپریل، چوتھے کی 29 اپریل، پانچویں کی 6 مئی، چھٹے کی 12 مئی اور ساتویں کی 19 مئی کو ہوگی جب کہ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو کرائی جائے گی ۔ امید ہے کہ کل ہونے والی پولنگ یہ رخ طے کردے گی کہ ہندوستان میں کیا ہونے والا ہے جس نے تقریبا 70سال پہلےپارلیمانی جمہوریت کے نظام کو اپنایا تھا۔ خاص پارلیمانی حلقوں میں سے ایک مہاراشٹر کے ناگپور میں مرکزی وزیر اور بی جے پی امیدوارنتن گڈکری کا مقابلہ کانگریس کے ناناپٹولے سے تھا۔ دوسرے معروف لوگوں میں مرکزی وزرا اور بی جے پی امیدوار وی کے سنگھ، مہیش شرما اور ستیہ پال سنگھ کے نام شامل ہیں۔ وی کے سنگھ غازی آباد، مہیش شرما گوتم بدھ نگر اور ستیہ پال سنگھ باغپت سے انتخابی میدان میں تھے۔ یہ تمام انتخابی حلقے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ہیں۔یہ انتخابات 17 ویں لوک سبھا کے لیے ہورہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ پہلے عام انتخابات برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے پانچ سال بعد 1952میں ہوئے تھے۔ ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے۔ اس کا رقبہ ایک برصغیر کے برابر ہے، اس لیے انتخابات کو صاف وشفاف بنانے کے لیے انہیں کئی مرحلوں میں کرانا بہتر ہے۔

جہاں تک انتخابی مہم کا تعلق ہے تو وزیراعظم نریندرمودی سب سے پہلے اس مہم کا آغاز کیا۔ مارچ کے اواخر سے لے کر اب تک انہوں نے کافی ریلیوں سے خطاب کیا جب کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اتنے انتخابی جلسوں سے خطاب نہ کرسکے۔ جناب نریندرمودی اور جناب راہل گاندھی دونوں اترپردیش سے انتخابی میدان میں ہیں۔ کانگریس سربراہ راہل گاندھی تو جنوبی ریاست کیرل میں وائناڈ حلقے سے بھی چناؤ لڑرہے ہیں۔ پچھلی تقریبا ایک دہائی سے ووٹنگ کے دوران نوٹا(NOTA) بٹن کا بھی استعمال کیا جارہا ہے یعنی اگر ووٹران امیدواروں میں سے جن کا نام ووٹنگ مشین میں ہے کسی کو بھی ووٹ پانے کا اہل نہیں سمجھتا تو وہ اس بٹن کو دبا سکتا ہے۔ یہ بٹن ووٹنگ مشین میں سب سے آخر میں ہوتا ہے۔

یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ لوک سبھا چناؤ کے درمیان سوشل میڈیا کا بھی خوب استعمال ہوتا ہے۔ آئندہ پانچ ہفتوں کے دوران اگر ایک طرف امیدوار اور ان کی پارٹیاں چلچلاتی گرمی میں انتخابی مہم میں شامل ہوں گے تو دوسری جانب ان ریلیوں سے پرے وہاٹس ایپ ، فیس بک، ٹوئٹر، ٹک ٹوک اور انسٹاگرام جیسی سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر انتخابات کو لے کر کافی بحث ومباحثے ہوں گے، ایک دوسرے پر الزام تراشے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پلیٹ فارموں نے ہندوستان کے لیے گریوانس افسر مقرر کیے ہیں۔ انتخابی کمیشن نے جو انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے، سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے کچھ رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ چوں کہ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہوگی اس لیے اب یہ بات اسی دن معلوم ہوسکے گی کہ کون سی پارٹی یا پارٹیوں کا اتحاد حکومت تشکیل کرے گا۔

Comments