چابہار پروجیکٹ امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ
بین الاقوامی سیاست میں کئی طرح کے نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ سو، ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے سوال پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑے لمبے عرصے تک کشیدگی کا ماحول رہا۔ اس کی بنیاد پر کشیدگی صرف انہی دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بین اقوامی پیمانے پر بھی اس کے اثرات محسوس کئے جاتے تھے۔ امریکہ کا اصل اعتراض اور الزام یہ تھا کہ ایران غلط ڈھنگ سے اپنے نیوکلیائی پروگرام کو فروغ دے رہا ہے اور نیوکلیائی اسلحے بنانے کی تیاری کررہا ہے جس سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ دوسری طرف ایران ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا تھا۔ ایران پر کئی طرح کی اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں میں کچھ تو ایسی تھیں جو اقوام متحدہ کی طرف سے نافذ کی گئی تھیں اور کچھ ایسی بھی تھیں جو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے ذریعہ عائد کی گئی تھیں۔ اقوا م متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی تو ممبر ممالک پاسداری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن بعض ملکوں کی طرف سے انفرادی طور پر جو پابندیاں عائد ہوتی ہیں، ان کے تعلق سے کوئی ایسی مجبوری تو نہیں ہوتی لیکن ان کی پاسداری نہ کرے سے پابندیاں عائد کرنے والے ملک اور اس پابندی کو نہ ماننے والے ملک کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ بہرحال موجود رہتا ہے اور اکثر ایسے ملکوں کے درمیان تعلقات خراب بھی ہوجاتے ہیں۔ گویا انفرادی طور پر عائد کردہ پابندیوں کے باعث کچھ پیچیدگیاں عالمی پیمانے پر بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ بہرحال امریکہ اور ایران کے درمیان لمبے عرصے تک جاری کشیدگی، امریکی صدر اوبامہ کے دورِ اقتدار میں بڑی حد تک کم ہوئی تھی جب لمبے مذاکرات کے بعد ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس کے تحت بعض پابندیاں ہٹالی گئی تھیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور ایران کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا تھا، اس کے باعث پوری دنیا میں ماحول بہتر ہوا تھا اور ایران کے جن ملکوں سے تجارتی رشتے تھے، وہ کافی حد تک بحال ہوئے تھے لیکن امریکہ میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے امریکہ کی کئی گھریلو اور خارجہ پالیسیوں کے تعلق سے یو ٹرن لے لیا، سو ایران کے تعلق سے 2015 میں جو نیوکلیائی سمجھوتہ ہوا تھا اس سے بھی امریکہ نے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی۔ ظاہر ہے کہ اس فیصلے سے پھر پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں۔ ایران اور ہندوستان کے تعلق صدیوں پر محیط رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ نومبر میں ایک بار پھر ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ یہ ہندوستان کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ ہندوستان ایران سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے۔ ظاہر ہے اس محاذ پر ان دونوں ملکوں کی پریشانیاں بڑھ گئیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ہندوستان سمیت 8 ممالک کو 180 دن کی راحت دی تھی کہ وہ مزید اتنے دن تک ایران سے اپنا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔ اب وہ مدت بھی ختم ہورہی ہے۔ بین اقوامی تعلقات کی نیرنگیاں اور پیچیدگیاں نئے مسائل اور الجھنیں بھی ساتھ لاتی ہیں۔ لہذا کئی ممالک نئے سرے سے بعض الجھنوں کا شکار ہوگئے۔ جہاں تک ہندوستان اور ایران کے رشتوں کا سوال ہے تو ہندوستان نہ صرف ایران سے بڑی مقدار میں تیل حاصل کرتا ہے بلکہ حالیہ دنوں میں ہندوستان نے ایران میں ایک بڑا اور اہم پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے۔ یہ چابہار پورٹ پروجیکٹ ہے۔ قدرتی طور پر یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ اب اس پروجیکٹ کا کیا ہوگا؟ یہ پروجیکٹ نہ صرف اسٹریٹجک اعتبار سے کافی اہم ہے بلکہ ہندوستان، ایران اور افغانستان کے لئے تجارتی سطح پر ایک گیٹ وے ثابت ہونے والا ہے جس کے تحت وسط ایشیائی ملکوں میں تجارت کو فروغ دینا بہت آسان ہوجائے گا۔ اس پورٹ تک مغربی ساحل کے توسط سے ہندوستان کی رسائی بہت آسان ہوجائے گی۔ یہ بحر ہند میں ایران کے صوبۂ سیستان اور بلوچستان میں واقع ہے۔ بہرحال اب راحت اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ایک سرکاری بیان کے ذریعہ یہ وضاحت کردی ہے کہ امریکی پابندیوں کا اطلاق چابہار پورٹ پروجیکٹ پر نہیں ہوگا کیونکہ یہ معاملہ قطعی الگ نوعیت کا ہے اور اسے اقتصادی پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن زیادہ بہتر تو یہ ہوتا کہ امریکہ 2015 میں ایران سے کئے گئے نیوکلیائی سمجھوتے سے علیحدگی نہ اختیار کرتا۔ امریکہ کے دوسرے اتحادی بھی صدر ٹرمپ کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ممکن ہے کسی مرحلے میں صدر ٹرمپ یہ محسوس کریں کہ ایران پر پابندی عائد کرنے کا ان کا فیصلہ مناسب نہیں تھا۔ ایسا کئی معاملات میں وہ کر بھی چکے ہیں۔ بہرحال اس کا انحصار تو ان کی سوچ پر ہوگا۔
Comments
Post a Comment