موضوع: چین میں اویغور مسلمانوں کی شناخت کے لئے آرٹی فیشیل انٹلی جنس کا استعمال

سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے میں ترقی انسانی فروغ کے لئے لازمی ہے انسان نے ابتدا سے آج تک ارتقا کی کئی منزلیں طے کی ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کسی بھی علم کا استعمال انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہونا چاہیے لیکن اس کے برعکس کچھ ملک ایسے ہیں جو ٹکنالوجی کا استعمال منفی کاموں کے لئے کررہے ہیں جس سے انسانی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور وہ ہر شعبے میں تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس میں سائنس اور ٹکنالوجی کا شعبہ بھی شامل ہے۔ چین کی ترقی کی کہانیاں تو اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں لیکن اس کی ایک ریاست سنکیانگ میں اویغور نسل کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی داستانیں بھی وقفہ وقفہ سے اخبارات کی سرخیاں بنتی رہی ہیں۔ اس وقت چین آرٹی فیشل انٹلی جنس (Artificial Intelligence) یا مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑے پیمانے پر کررہا ہے۔ یوں تو یہ ٹکنالوجی بعض معاملوں میں انتہائی کار آمد ثابت ہوسکتی ہے اور جرائم پیشہ افراد کی شناخت اور انہیں گرفتار کرنے میں یہ موثر رول ادا کرسکتی ہے لیکن اپنی ہی ایک ریاست کی نسلی اقلیتی برادری کے لوگوں کی شناخت حاصل کرنے کے لئے اس ٹیکنالوجی کا ناجائز استعمال نہ صرف اخلاقی اعتبار سے درست نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی حقوق انسانی کے قوانین کے بھی منافی ہے۔ چین نےاپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں تقریباً 10 لاکھ اویغور مسلمانوں کو حراستی کیمپ میں رکھا ہوا ہے۔ جہاں انہیں ظلم و زیادتی کا شکار بنایا جارہا ہے اوران کی مذہبی ، تجارتی اور ثقافتی آزادی سلب کی جارہی ہے۔ چین اپنے اس قدم کو یہ کہتے ہوئے جائز ٹھہرارہا ہے کہ وہ ان لوگوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس طرح سے چین سنکیانگ میں پورے اویغور نسل کے مسلمانوں کو انتہاپسند یا دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایک طرف تو چین پاکستان میں موجود جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بین الاقوامی کوششوں کو ناکام بنارہا ہے اور دوسری طرف اپنے یہاں کی ایک پوری آبادی کو دہشت گرد ثابت کرنے پر بضد ہے۔ چین کا یہ دوہرا معیار دنیا کے سامنے عیاں ہوچکا ہے اور عالمی برادری اب اس کے خطرناک عزائم کے تعلق سے سوال کرنے لگی ہے۔ اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کا سدا بہار اتحادی پاکستان پوری طرح سے خاموش ہے۔ پاکستان خود دہشت گرد پیدا کرتا ہے اور ان کی اعانت کرتا ہے لیکن کشمیر کے تعلق سے وہ ہندوستان پر الزام تراشی کرتا رہتا ہے۔ پاکستان نے بظاہر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے سنکیانگ کے معاملے میں خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ وہاں اویغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اسے نظر نہیں آرہے ہیں۔ چین نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور چین۔ پاکستان اقتصادی کوری ڈور یعنی سی پی ای سی سے ہونے والی ترقی کے نام پر اسے سبز باغ دکھائے ہیں لیکن حقیقی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پاکستان پہلے ہی اقتصادی طور پر بدحال ہوچکا ہے اور اس نے کئی ملکوں سے اربوں ڈالر قرض لے رکھے ہیں اور اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بھی قرض لینے والا ہے۔ اس طرح سے اگر دیکھا جائے تو چین نے جن ملکوں میں سرمایہ کاری کے نام پر فنڈ فراہم کئے ہیں، ان ملکوں کی مالی حالت خراب ہوئی ہے۔ پاکستان کے تعلق سے عالمی سطح پر جو خدشات ظاہر کئے جارہے تھے، وہ درست ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ بہت سے دانشور اور صائب الرائے افراد تو یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں پاکستان چین کی ایک نئے طرز کی نوآبادی نہ بن جائے۔ جو ممالک چین کے قرض کے بوجھ سے بدحال ہیں، ان کی خارجہ پالیسی بھی متاثر ہورہی ہے۔ یہ ممالک آزادانہ طور پر اپنی پالیسیاں نہیں بناسکتے انہیں اپنے یہاں چین کے مفادات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان چین کے صوبے سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتا تو اس کے عوض چین بھی مسعود اظہر کو سلامتی کونسل میں دہشت گرد قرار دیئے جانے کی عالمی کوششوں کو ویٹو کردیتا ہے۔ دہشت گردی کے تعلقات سے یہ دوہرا معیار کسی طرح سے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ جب تک اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر دہشت گردی کی الگ الگ تشریح کی جاتی رہے گی، یہ لعنت دنیا سے ختم نہیں ہوسکتی۔ دہشت گردی کے خلاف موثر لڑائی کے لئے ایک عالمی نظام کا ہونا لازمی ہے جس کی ہندوستان ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔

Comments