موضوع: عمران خان کے غیر ذمہ دارانہ بیان پر افغانستان کا احتجاج

پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ نے پڑوسی ملکوں کے تعلق سے جو منفی اور تخریب کارانہ نوعیت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اس کا اندازہ آئے دن سیویلین اور فوجی حکام کے بیانات اور رویوں سے بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کے مغربی پڑوسی افغانستان اور مشرقی پڑوسی ہندوستان کے حوالے سے بات کریں تو قدم قدم پر یہی تأثر ملتا ہے کہ ان دونوں ملکوں کے بارے میں پاکستان کے حکمرانوں کے پاس کوئی مثبت بات کہنے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔ ہندوستان کو اس نے اپنا ازلی دشمن تصور کرکے پاکستانی عوام کو مسلسل گمراہ کرتا رہا ہے اور دشمنی چکانے کے لئے دہشت گرد گروپوں کو بطور آلۂ کار استعمال کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں جیش محمد کے حملے کے بعد ہندوستانی فضائیہ نے بالا کوٹ میں جیش محمد کے کیمپ پر جو اسٹرائک کی وہ صرف اور صرف دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے مقصد سے کی گئی تھی اور پوری دنیا نے ہندوستان کی اس کارروائی کو اسی تناظر میں سمجھا بھی لیکن اس کو بنیاد بنا کر پاکستانی حکام نے وہاں کے عوام کو خوفزدہ کرنے کے لئے طرح طرح کی افواہیں اڑانی شروع کردیں۔ تازہ ترین شوشہ وہاں کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ چھوڑا کہ 16 اور 20 اپریل کے دوران ہندوستان پاکستان پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔ یہ بے سر پیر کی بات موصوف کے ذہن میں کیسے آئی۔ یہ تو وہ خود ہی جانیں، لیکن ایک بات صاف نظر آتی ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کے لوگوں میں خوف پیدا کرنا اور ہندوستان دشمن دہشت گرد گروپوں کو اکسانا ہے کہ وہ مزید دہشت گردانہ حملوں کی تیاری کریں۔ عمران حکومت شروع سے ہی پاکستانی فوج کی ہم خیال اور حامی رہی ہے، لہٰذا یہ اندازہ کرنا کچھ مشکل کام نہیں کہ اس طرح کی اشتعال انگیز باتیں عمران خان اور ان کے وزراء اسی کے اشارے پر کہہ سکتے ہیں۔

یہ بات تو خیر ہندوستان کے بارے میں ہے جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، تو اس کے سلسلے میں تو پاکستان کا رویہ یہ رہا ہے کہ اسے اپنا چھوٹا بھائی یا اپنے آپ سے کمتر سمجھا جائے جو اپنے سارے فیصلے بھی پاکستان کی مرضی کے مطابق ہی کرے۔ طالبان سے پاکستان کے رشتے کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے اور طالبان افغانستان میں کس طرح کے نظام کا قائل ہے یہ بھی کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے۔ اس وقت طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین امن مذاکرات چل رہے ہیں۔ طالبان کا شروع سے ہی موقف رہا ہے کہ وہ افغانستان کی آئینی طور پر منتخب حکومت سے کسی طرح کی بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔ وہ براہ راست امریکہ سے ہی بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ظاہر ہے طالبان اشرف غنی حکومت سے قطعی کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ وہ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد سے مذاکرات میں مصروف ہیں اور بات چیت کے پانچ دور مکمل بھی ہوچکے ہیں۔لیکن نتیجہ کیا نکلے گا اور وہاں کا اگلا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا۔ اس کے بارے میں ابھی کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو افغان معاملات میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کئی بار یہ مشورہ مفت دے چکے ہیں کہ اگر طالبان اور امریکہ کے درمیان چل رہی بات چیت کے دوران ہی افغانستان میں ایک عبوری حکومت قائم ہوجائے تو بات چیت زیادہ بار آور ثابت ہوسکتی ہے۔ حالیہ ڈیڑھ ماہ کے عرصے کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم نے کم از کم یہ بات چار بار کہی ہے۔ گزشتہ جمعہ کوایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے یہ وضاحت پیش کی کہ انہوں نے تو ایک برادرانہ مشورہ دیا تھا۔ بہت خوب! گویا پڑوسی ملک کی فکر میں پاکستان کےو زیر اعظم دبلے ہوئے جارہے ہیں۔ ذرا وہ اپنے آپ سے خود پوچھیں کہ کوئی بھی ملک پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات پر اسی طرح کا برادرانہ مشورہ دے گا تو وہ پاکستان کے لئے قابل قبول ہوگا؟

عمران خان کے اس طرح کے تبصرے سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی غرضیکہ ہر اعتبار سے نہ صرف غلط بلکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کرنے اور ان میں دلچسپی لینے کے مترادف ہیں۔لہٰذا اگر افغانستان نے اس پر احتجاج کیا ہے اور پاکستانی سفارت کار کودفتر خارجہ میں طلب کرکے پاکستان سے عمران خان کے بیانات کی وضاحت چاہی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ہر آزاد اور خود مختار ملک یہی چاہے گا کہ دوسرے اس کے گھریلو معاملات میں دخل نہ دیں!

Comments