دہشت گردی سے متعلق ایک بیان پر عمران خان چوطرفہ حملوں کی زد میں

پاکستانی سیاست دانوں کی بعض باتیں بڑی دلچسپ اور کبھی کبھی مضحکہ خیز بھی لگتی ہیں۔ ویسے تو مختلف ملکوں کے بہت سارے سیاست دانوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مختلف موقعوں پر مختلف اور متضاد بیان داغتے ہیں اور جب کوئی متنازعہ بیان کسی کی گرفت میں آجاتا ہے تو وہ پہلے تو سرے سے انکار کردیتے ہیں یا پھر یہ کہہ کر صفائی دیتے ہیں کہ ان کا بیان اصل سباق میں نہیں پیش کیا گیا۔ پارٹیاں بدلنے والے سیاست داں بھی بڑے دلچسپ کرتب دکھاتے ہیں۔ پارٹی بدلنے کے ساتھ ہی ساتھ ان کے نظریات اور خیالات بھی راتوں رات اور کبھی کبھی گھنٹے دو گھنٹے ہی میں بدل جاتے ہیں۔ بہرحال اس طرح کے بازیگر ان سیاست بڑے دلچسپ رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی اپنے بیانات کے لئے کافی مشہور رہے ہیں۔ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو بہت سے معاملات میں ان کا خیال کچھ اور ہوتا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد کچھ اور ہوگیا ہے۔ دہشت گردی کے سوال پر ان کا رویہ ایسا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے حامی اور ہمدرد تصور کئے جاتے تھے لیکن اب بہرحال وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ پاکستان کو خود اپنی سلامتی اور بہتری کے لئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے تحت بعض گروپوں کے خلاف جو دکھاوے کی کارروائیاں پاکستان میں ہوتی ہیں انہی کارروائیوں کی مثال دے کر حکومتِ وقت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ کارروائی کررہی ہے۔ سو عمران خان بھی اسی طرح کے بیانات دینے لگے ہیں لیکن حال ہی میں انہوں نے اپنے دورۂ ایران کے درمیان صدر ایران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک بیان میں کہا کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ ایران میں بعض ایسے گروپوں نے دہشت گردانہ حملے کئے ہیں جو پاکستان سے آپریٹ کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اس کے بعد بھی کچھ کہا لیکن صرف اسی جملے کے باعث پاکستان میں ان پر تنقید کی بوچھار ہونے لگی۔ وہاں کی قومی اسمبلی میں بحث ہوئی اور بیشتر اپوزیشن پارٹیوں نے ان کے اس بیان پر اعتراض جتایا کہ ایک دوسرے ملک میں جاکر کھلم کھلا انہوں نے یہ اعتراف کرکے کہ پاکستان میں ایسے گروپ سرگرم ہیں جو پڑوسی ملکوں میں حملے کرتے ہیں، پاکستان کی پوزیشن خراب کردی۔ ان کے خلاف پارلیمنٹ میں نواز مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبران نے زیادہ ہی سخت رویہ اختیار کیا اور یہاں تک کہا کہ اسی طرح کے بیانات کے باعث آئی ایم ایف جیسے اداروں نے بیل آؤٹ پیکج کو ایف اے ٹی ایف کی شرطوں سے جوڑ دیا، حالانکہ اپوزیشن لیڈر اتنے سادہ لوح نہیں ہیں کہ وہ یہ بات نہ جانتے ہوں کہ عالمی ادارے پاکستان پر جو پابندیاں عائد کرتے ہیں یا بعض معاملات میں جو شرطیں رکھتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے فیصلے خود ان کی چھان بین اور تفتیش کے بعد کئے جاتے ہیں اور یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان بہت سے دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور وہاں انہیں ٹریننگ اور اسلحے بھی دیئے جاتے ہیں۔ عمران خان یا کسی اور لیڈر کے بیان کی بنیاد پر وہ اپنے فیصلے نہیں کرتے۔

لیکن بہرحال اصل اعتراض یہ کیا گیا کہ انہوں نے ایسا بیان دیا ہی کیوں؟ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح کے بیان کی بنیاد پر آج مسلم لیگ نواز ان کی سرزنش کررہی ہے، کچھ اسی طرح کا ایک بیان خود اس پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیراعظم نواز شیرف نے گزشتہ سال دیا تھا۔ مثلاً انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کس نے دہشت گردوں کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ ممبئی میں جاکر حملہ کریں اور تباہی پھیلائیں؟ اس بنیاد پر فوجی حلقہ تو تلملایا ہی تھا لیکن یہی عمران خان جو اس وقت اپوزیشن لیڈر تھے، انہوں نے نواز شریف کے خلاف بہت سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف نے پاکستان اور پاکستانی فوج کو دنیا بھر میں بدنام کیا ہے اور اب وہی الزام ان پر لگ رہا ہے۔ اس بات کا ذکر یہاں اس لئے کیا گیا کہ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ تو چلتا رہتا ہے لیکن یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اب بھی پاکستان نے کوئی واضح پالیسی نہیں مرتب کی ایسے میں یہ امید کرنا فضول ہے کہ پاکستان عنقریب کوئی ٹھوس قدم اٹھانے جارہا ہے۔

Comments