موضوع:کوریائی جزیرہ نما پر پوتن-کم مذاکرات

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے روس کے مشرقی شہر ولادیووسٹک میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس میٹنگ کو کافی اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ روس اور شمالی کوریا سرد جنگ کے زمانے کے اتحادی ہیں نیز یہ کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس علاقہ میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ماضی میں جو مذاکرات ہوئے ان سے ایسا لگتا تھا کہ روس پس منظر میں چلا گیا تھا لیکن اب پوتن اور کِم کی ملاقات سے لگتا ہے کہ روس ایک بار پھر علاقہ میں اپنے اثرات قائم کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک طرف صدر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کِم کے درمیان میٹنگ چل رہی تھی تو دوسری جانب امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان مشترکہ فوجی مشق بھی جاری تھی۔ اگرچہ یہ مشق بہت بڑی نہیں تھی پھر بھی شمالی کوریا نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ہنوئی میں ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی جس کے بعد واشنگٹن نے پیانگ یانگ پر تازہ پابندیاں عائد کردیں۔ ان تازہ پابندیوں کے بعد شمالی کوریا بھی خاموش نہیں رہا اور اس نے امریکہ کی جم کر تنقید کرنا شروع کردی۔

سوویت یونین کے زمانے سے ہی روس شمالی کوریا کا ایک اہم اتحادی رہا ہے لیکن جنوبی کوریا کے ساتھ بھی رشتے استوار کرنے کی روس کی کوشش کے باعث ماسکو ا ور پیانگ یانگ کے درمیان تعلقات میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔ شمالی کوریا کو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لئے ایک خطرہ تصور کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑ گیا لیکن ایسی صورتحال میں بھی روس اور چین نے اس کا کافی ساتھ دیا۔

ان سب باتوں کے باوجود روس پابندیاں ختم کرنے سے پہلے کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی پالیسی کی حمایت کرتا ہے۔ پچھلے سال روس کے وزیر خارجہ سرجی نے شمالی کوریا کی جانب سے نیوکلیائی پروگراموں کو ختم کرنے کے عوض پابندیوں کو مرحلہ وار اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ روس طاقت کے استعمال جیسی یکطرفہ کارروائی کے بجائے مذاکرات کا حامی ہے۔اس نے کوریائی جزیرہ نما کے مسئلہ کے حل کے لئے چھ پارٹیوں والے مذاکرات کی بھی حمایت کی تھی۔ روس اگرچہ علاقہ کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک دیکھنا چاہتا ہے تاہم وہ امریکہ کے اس مطالبہ کو غیر حقیقی تصور کرتا ہے کہ شمالی کوریا بغیر کسی ٹھوس ضمانت کے اپنے نیوکلیائی ہتھیار ترک کردے۔

پوتن-کِم ملاقات کے ایجنڈے میں کوریائی جزیرہ نما کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا شامل تھا۔ میٹنگ کے بعد صدر پوتن نے کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما نیوکلیائی ہتھیاروں کو ترک کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن وہ اس بات کی ٹھوس ضمانت چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کے مفادات کا پورا خیال رکھا جائے گا اور پیانگ یانگ کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ صدر پوتن نے مزید کہا کہ چیئرمین کم بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ جنوبی کوریا اور امریکہ تعمیری بات چیت کریں۔ جناب پوتن نے جنوبی کوریا سے بھی اپیل کی کہ وہ امریکہ کے سایہ سے نکل کر شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کرے۔

شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ 2018 سے جزیرہ نما کی صورتحال میں امریکی پالیسیوں کے باعث تعطل پید اہوگیا ہے حالانکہ شروع میں بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جزیرہ نما میں امن و سلامتی کا انحصار مکمل طور پر امریکہ کے رویہ پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تب تک ان کا ملک اپنے تحفظ کے لئے خود اقدامات کرے گا۔

روس نے پوتن-کم ملاقات کو تعمیری قرار دیا ہے۔ صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے بھی صدر پوتن کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ اس ملاقات سے علاقہ میں ماسکو کے مفادات کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی کیونکہ امریکہ سے پیانگ یانگ کی قربت روس کے مفادات کے لئے ایک خطرہ ہے۔روس کے ساتھ تعاون سے پیانگ یانگ کا چین پر بھی انحصار کم ہوجائے گا۔

بھارت کوریائی جیزہ نما میں رونما ہونے والے واقعات پر گہری نظر بنائے ہوئے ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ علاقہ میں امن و استحکام قائم رہے جو علاقہ کی سلامتی کے لئے نہایت ضروری ہے۔

Comments