موضوع: پاکستانی لیڈروں کو کچھ سبق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے ضرور سیکھنا چاہیے
ہر دور میں کچھ لوگ انسانیت کو شرمسار کرنے والے رہے ہیں تو انسان دوست اور امن پسند لوگ اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرتے رہے ہیں کہ وہ انسان ہی نہیں جو دوسروں کے درد کو محسوس نہ کرے۔ 15 مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں دہشت گردانہ حملے کر کے برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ نے 50 لوگوں کو شہید کر دیا تھا اور بڑی تعداد میں لوگ اس کی گولیوں سے زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے خلاف قتل کے 50 اور قتل کی کوشش کے 39 معاملے قائم کیے گئے ہیں۔ دہشت گردانہ حملوں کے فوراً بعد ہی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈرن اور انتظامیہ کے لوگوں نے یہ اشارہ دے دیا تھا کہ انسانوں کے قاتل کو ہیرو نہیں بننے دیا جائے گا۔ دہشت گردانہ وارداتوں کے بعد نیوزی لینڈ کے تمام لوگوں کا رویہ بے حد مثبت، مثالی اور قابل تقلید تھا۔ جیسینڈا آرڈرن اگر چاہتیں تو مسجدوں میں فائرنگ کو کچھ اور رنگ دے سکتی تھیں، انہیں ’قتل عام‘یا ’جنگجو کی کارروائی‘ مانتیں اور حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتیں لیکن انہوں نے دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی اختیار کی۔ فائرنگ کے واقعے کو واضح لفظوں میں دہشت گردانہ واقعہ اور برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ کو دہشت گرد قرار دینے میں تاخیر نہیں کی۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گرد شہرت چاہتا تھا لیکن وہ اس کا نام کبھی نہیں لیں گی کہ اس کی تشہیر ہو۔ وہ گمنامی کے اندھیرے میں گم ہو جائے گا۔ دوسری جانب انہوں نے اسلحہ کے قانون میں تبدیلی کا اعلان کیا۔ اپنے ہر قول اور اپنے ہر عمل سے نیوزی لینڈ کے تمام لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ مظلوموں اورمتاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا سب سے بڑی انسانیت ہے۔
جیسنڈا آرڈرن نے یہ احساس دلایا کہ نہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ دہشت گردانہ واقعوں سے متاثرین کو کسی خانے میں دیکھنا چاہیے۔ وہ دنیا کے ان تمام لیڈروں، بالخصوص پاک لیڈروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہیں جو دہشت گردی کو اپنے مفاد کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ دہشت گردی پر ان کی دوہری پالیسی دیگر ملکوں کے ساتھ خود ان کے ملک کے لوگوں کی ہلاکتوں کا سبب بنتی رہی ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایک بڑا دہشت گردانہ واقعہ ہوا تو اس کے تمام لوگوں کے ساتھ لیڈران اور انتظامیہ کے لوگ بھی یہ سمجھ گئے کہ اسے کسی حیلے بہانوں سے راست یا بالواسطہ طور پر صحیح ثابت کرنا غلط ہے لیکن پاک لیڈران ایسے سیکڑوں واقعوں کے بعد بھی یہ سمجھ نہیں سکے ہیں کہ دہشت گردی انسان مخالف ہے اور انسان مخالف کوئی عمل کسی ملک کی خوشحالی میں معاون نہیں بن سکتا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ایک ہی حملے کے بعد ہر وہ قدم اٹھانے کی طرف توجہ دی جس سے دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہو اور انسان دوست لوگوں کا حوصلہ بڑھے لیکن پاک لیڈران دہشت گردانہ واقعوں پر اپنی بیان بازی سے لوگوں کو بہلاتے رہے ہیں۔ عملی طور پر انہوں نے کبھی یہ ظاہر ہی نہیں کیا کہ وہ دہشت گردی کو انسان مخالف اور اپنے ملک کے خلاف مانتے ہیں۔ پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے مذموم حملوں کے خلاف پاک لیڈران گھرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ ان کا ملک خود دہشت گردی سے متاثر ہے، 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں، ان سے زیادہ دہشت گردی سے کون متاثر ہے لیکن عالمی برادری سے ہمدردی حاصل کرنے کی یہ محض کوشش ہوتی ہے اور یہ بات اب وہ سمجھنے لگی ہے، اس لیے پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب کئی پاک لیڈروں کو بھی یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ دہشت گردی کے تعلق سے وہ زیادہ دنوں تک عالمی برادری کو بیوقوف نہیں بنا سکتے، آج نہیں تو کل دہشت گردوں کے خلاف انہیں حتمی کارروائی کرنی ہی ہوگی، ورنہ پاکستان بالکل ہی الگ تھلگ پڑ جائے گا لیکن یہ کہنے میں تامل نہیں کہ آج بھی حالات کی نزاکت کا احساس تمام پاک لیڈروں کو نہیں ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ دہشت گردی کے تعلق سے جب تک لوگوں کو بہلا سکتے ہیں، بہلاتے رہیں۔ جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا تو دیکھا جائے گا، اس لیے دہشت گردی کی راست یا بالواسطہ حمایت کرنے والے پاک لیڈروں، فوجیوں اور انتظامیہ کو عالمی برادری کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ انسانوں کے خلاف گھناؤنے عمل کو برداشت کرنے کے لیے اب بالکل بھی تیار نہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف وہ فیصلہ کن کارروائی کریں، دہشت گردی ختم کریں، ورنہ اس کے لیے عالمی برادری متحدہ طور پر کوشش کرے گی، کیونکہ انسانوں کی لاشوں پر دہشت گردی کا رقص وہ اب اور نہیں دیکھ سکتی۔
جیسنڈا آرڈرن نے یہ احساس دلایا کہ نہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ دہشت گردانہ واقعوں سے متاثرین کو کسی خانے میں دیکھنا چاہیے۔ وہ دنیا کے ان تمام لیڈروں، بالخصوص پاک لیڈروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہیں جو دہشت گردی کو اپنے مفاد کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ دہشت گردی پر ان کی دوہری پالیسی دیگر ملکوں کے ساتھ خود ان کے ملک کے لوگوں کی ہلاکتوں کا سبب بنتی رہی ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایک بڑا دہشت گردانہ واقعہ ہوا تو اس کے تمام لوگوں کے ساتھ لیڈران اور انتظامیہ کے لوگ بھی یہ سمجھ گئے کہ اسے کسی حیلے بہانوں سے راست یا بالواسطہ طور پر صحیح ثابت کرنا غلط ہے لیکن پاک لیڈران ایسے سیکڑوں واقعوں کے بعد بھی یہ سمجھ نہیں سکے ہیں کہ دہشت گردی انسان مخالف ہے اور انسان مخالف کوئی عمل کسی ملک کی خوشحالی میں معاون نہیں بن سکتا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ایک ہی حملے کے بعد ہر وہ قدم اٹھانے کی طرف توجہ دی جس سے دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہو اور انسان دوست لوگوں کا حوصلہ بڑھے لیکن پاک لیڈران دہشت گردانہ واقعوں پر اپنی بیان بازی سے لوگوں کو بہلاتے رہے ہیں۔ عملی طور پر انہوں نے کبھی یہ ظاہر ہی نہیں کیا کہ وہ دہشت گردی کو انسان مخالف اور اپنے ملک کے خلاف مانتے ہیں۔ پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے مذموم حملوں کے خلاف پاک لیڈران گھرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ ان کا ملک خود دہشت گردی سے متاثر ہے، 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں، ان سے زیادہ دہشت گردی سے کون متاثر ہے لیکن عالمی برادری سے ہمدردی حاصل کرنے کی یہ محض کوشش ہوتی ہے اور یہ بات اب وہ سمجھنے لگی ہے، اس لیے پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب کئی پاک لیڈروں کو بھی یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ دہشت گردی کے تعلق سے وہ زیادہ دنوں تک عالمی برادری کو بیوقوف نہیں بنا سکتے، آج نہیں تو کل دہشت گردوں کے خلاف انہیں حتمی کارروائی کرنی ہی ہوگی، ورنہ پاکستان بالکل ہی الگ تھلگ پڑ جائے گا لیکن یہ کہنے میں تامل نہیں کہ آج بھی حالات کی نزاکت کا احساس تمام پاک لیڈروں کو نہیں ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ دہشت گردی کے تعلق سے جب تک لوگوں کو بہلا سکتے ہیں، بہلاتے رہیں۔ جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا تو دیکھا جائے گا، اس لیے دہشت گردی کی راست یا بالواسطہ حمایت کرنے والے پاک لیڈروں، فوجیوں اور انتظامیہ کو عالمی برادری کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ انسانوں کے خلاف گھناؤنے عمل کو برداشت کرنے کے لیے اب بالکل بھی تیار نہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف وہ فیصلہ کن کارروائی کریں، دہشت گردی ختم کریں، ورنہ اس کے لیے عالمی برادری متحدہ طور پر کوشش کرے گی، کیونکہ انسانوں کی لاشوں پر دہشت گردی کا رقص وہ اب اور نہیں دیکھ سکتی۔
Comments
Post a Comment