پاکستان میں فوجی عدالتوں کا خاتمہ
پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروپوں کے خلاف 2014 میں پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب غضب کےنام سے ایک آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ آپریشن مخصوص نوعیت کا تھا اور صرف وہی گروپ نشانے پر تھے جو پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچارہے تھے اور پاکستان کی سرکاری اور فوجی تنصیبات نیز خود پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنارہے تھے۔ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے والے ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی تھی جو پڑویسی ملکوں میں حملے کرتے ہیں یا اس کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بہرحال آپریشن ضرب عضب کے تعلق سے پاکستانی فوج نے بڑے لمبے چورے دعوے کئے تھے اور اس بات کا کریڈٹ لیا تھا کہ اس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اگرچہ تحریک طالبان کی سرگرمیوں میں کوئی خاص کمی نہیں واقع ہوئی تھی۔ اسی دوران 16 دسمبر 2014 کو پشاور پبلک اسکول پر دہشت گردوں کا ایک انتہائی وحشیانہ حملہ ہوا جس میں 130 سے زیادہ اسکولی بچوں سمیت قریب 150 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ اس حملہ کی پوری دنیا نے مذمت کی اور قدرتی طور پر پاکستان کے عوام کا غم و غصہ اپنے شباب پر تھا۔ انہیں حکومت اور فوج کے دعووں پر بھروسہ نہیں تھا اور وہ سخت کارروائی کی مانگ کررہے تھے۔ بہرحال اس المناک واقعے کے بعد آناً فاناً کئی اہم فیصلے کئے گئے تھے۔
نیشنل ایکشن پلان اسی زمانے میں وضع کیا گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اب کسی قسم کی تفریق کئے بغیر نہ صرف تمام دہشت گرد اور انتہاپسند گروپوں کے خلاف کارروائی ہوگی بلکہ نفرت آمیز تقریر و تحریر پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی اور ایسے مدرسوں کی بھی چھان بین کی جائے گی جہاں براہ راست یا بالواسطہ انتہاپسندی کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ پشاور اسکول والے حملے کے بعد ہی فوجی عدالتیں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ ان سویلینز کے خلاف بھی انہی عدالتوں میں مقدمہ قائم کیا جائے گا جن پر دہشت گرد ہونے کا الزام ہوگا۔ حالانکہ بعض حلقوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی گئی تھی اور خود پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ ان عدالتوں کا انتظام و انصرام پورے طور پر فوج کے ہاتھ میں تھا اسی لئے بعض حلقے خاص طور سے اس کے حق میں نہ تھے۔ لیکن پارلیمنٹ سے ان عدالتوں کے قیام کی منظوری ایک خاص مدت تک کے لئے لی گئی تھی۔ اس طرح 2015 کے اوائل میں فوجی عدالتیں قائم ہوگئی تھیں۔
حالیہ دنوں میں حکومت پاکستان کی جانب سے اس بات کی کوشش کی گئی کہ فوجی عدالتوں کی مدت کار میں مزید توسیع کی جائے۔ یہ پیش رفت تو عمران حکومت کی طرف سے کی گئی تھی کہ ان عدالتوں کو مزید دو سال تک کام کرنے کا موقع دیا جائے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ فوج چاہتی ہے کہ فوجی عدالتوں کا سلسلہ یونہی چلتا رہے اور بار بار توسیع ہوتی رہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں عمران خان کی پارٹی کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے جس کی بنیاد پر ان کی حکومت اپنی بات منواسکے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیر دفاع پرویز خٹک نے پارلیمنٹ میں ان عدالتوں کے حق میں بڑی دھنواں دھار تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ ان عدالتوں کے ذریعہ 284 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن ایسے فیصلوں پر سوالیہ نشان بھی لگتا رہا ہے کہ آیا سزا یافتہ ملزم واقعی دہشت گرد تھےیا کوئی اور؟ بہرحال اپوزیشن پارٹیوں کی اکثریت نے حکومت کی اس تجویز کو رد کردیا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے پہلے ہی سے متعدد قانون موجود ہیں اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر سنجیدگی سے ان قوانین کو بروئے عمل لائے جائے تو دہشت گردی سے نمٹا جاسکتا ہے۔ بہ شرطیکہ نیت درست ہو۔ اس ضمن میں اپوزیشن پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے تو فوجی حکام کی نیت پر ہی سوال اٹھایا کہ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو کیا تحریک طالبان پاکستان کے شعلہ بیان سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو برسوں سے مہمان بناکر ‘‘احتیاطی حراست’’ میں رکھا جاتا؟ اسے سزا دینا تو درکنار ابھی تک اس سے پوچھ تاچھ بھی نہیں ہوئی ۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ عمران حکومت اپنے ان وزیروں کو فوراً برطرف کرے جو جماعت الدعوی اور دوسرے ممنوعہ گروپوں کے لیڈروں سے کھلم کھلا ملتے جلتے ہیں اور ان کے جلسوں میں شریک ہونے بھی مضائقہ نہیں سمجھتے۔
بہرحال یہ کوئی بہت بڑا واقعہ نہ سہی لیکن اپوزیشن نے فوجی عدالتوں کی مدت کار میں توسیع دینے کی تجویز کو ناکام بناکر جمہوریت پسند حلقوں کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ طاقتور فوجی ادارے کے بعض ارادوں اور منصوبوں کو ناکام بنانا بہت مشکل کام بھی نہیں!!
نیشنل ایکشن پلان اسی زمانے میں وضع کیا گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اب کسی قسم کی تفریق کئے بغیر نہ صرف تمام دہشت گرد اور انتہاپسند گروپوں کے خلاف کارروائی ہوگی بلکہ نفرت آمیز تقریر و تحریر پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی اور ایسے مدرسوں کی بھی چھان بین کی جائے گی جہاں براہ راست یا بالواسطہ انتہاپسندی کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ پشاور اسکول والے حملے کے بعد ہی فوجی عدالتیں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ ان سویلینز کے خلاف بھی انہی عدالتوں میں مقدمہ قائم کیا جائے گا جن پر دہشت گرد ہونے کا الزام ہوگا۔ حالانکہ بعض حلقوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی گئی تھی اور خود پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ ان عدالتوں کا انتظام و انصرام پورے طور پر فوج کے ہاتھ میں تھا اسی لئے بعض حلقے خاص طور سے اس کے حق میں نہ تھے۔ لیکن پارلیمنٹ سے ان عدالتوں کے قیام کی منظوری ایک خاص مدت تک کے لئے لی گئی تھی۔ اس طرح 2015 کے اوائل میں فوجی عدالتیں قائم ہوگئی تھیں۔
حالیہ دنوں میں حکومت پاکستان کی جانب سے اس بات کی کوشش کی گئی کہ فوجی عدالتوں کی مدت کار میں مزید توسیع کی جائے۔ یہ پیش رفت تو عمران حکومت کی طرف سے کی گئی تھی کہ ان عدالتوں کو مزید دو سال تک کام کرنے کا موقع دیا جائے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ فوج چاہتی ہے کہ فوجی عدالتوں کا سلسلہ یونہی چلتا رہے اور بار بار توسیع ہوتی رہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں عمران خان کی پارٹی کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے جس کی بنیاد پر ان کی حکومت اپنی بات منواسکے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیر دفاع پرویز خٹک نے پارلیمنٹ میں ان عدالتوں کے حق میں بڑی دھنواں دھار تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ ان عدالتوں کے ذریعہ 284 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن ایسے فیصلوں پر سوالیہ نشان بھی لگتا رہا ہے کہ آیا سزا یافتہ ملزم واقعی دہشت گرد تھےیا کوئی اور؟ بہرحال اپوزیشن پارٹیوں کی اکثریت نے حکومت کی اس تجویز کو رد کردیا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے پہلے ہی سے متعدد قانون موجود ہیں اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر سنجیدگی سے ان قوانین کو بروئے عمل لائے جائے تو دہشت گردی سے نمٹا جاسکتا ہے۔ بہ شرطیکہ نیت درست ہو۔ اس ضمن میں اپوزیشن پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے تو فوجی حکام کی نیت پر ہی سوال اٹھایا کہ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو کیا تحریک طالبان پاکستان کے شعلہ بیان سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو برسوں سے مہمان بناکر ‘‘احتیاطی حراست’’ میں رکھا جاتا؟ اسے سزا دینا تو درکنار ابھی تک اس سے پوچھ تاچھ بھی نہیں ہوئی ۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ عمران حکومت اپنے ان وزیروں کو فوراً برطرف کرے جو جماعت الدعوی اور دوسرے ممنوعہ گروپوں کے لیڈروں سے کھلم کھلا ملتے جلتے ہیں اور ان کے جلسوں میں شریک ہونے بھی مضائقہ نہیں سمجھتے۔
بہرحال یہ کوئی بہت بڑا واقعہ نہ سہی لیکن اپوزیشن نے فوجی عدالتوں کی مدت کار میں توسیع دینے کی تجویز کو ناکام بناکر جمہوریت پسند حلقوں کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ طاقتور فوجی ادارے کے بعض ارادوں اور منصوبوں کو ناکام بنانا بہت مشکل کام بھی نہیں!!
Comments
Post a Comment