موضوع: لکھوی کی ضمانت رد کرانے کی ایف آئی اے کی کوشش—سنجیدہ قدم یا محض دھوکہ؟
خبر ہے کہ پاکستان کی وفاقی تفتیشی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس بات کی عرضی داخل کی ہے کہ 26/11 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت کو ردّ کرکے اسے دوبارہ گرفتار کیاجائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویزن بنچ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتہ کے اندر اندر ممبئی حملوں سے متعلق مقدمہ کا پورا ریکارڈ پیش کریں۔ یاد رہے کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان میں 7 مشتبہ افراد ذکی الرحمن لکھوی ، عبدالواحد، مظہر اقبال، حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد اور یونس انجم کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے قتل کے لئے لوگوں کو اکسایا۔ قتل کرنے کی کوشش کی نیز ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ یہ مقدمہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں چل رہا تھا۔ مقدمہ 2009 میں قائم ہوا تھا اور آج دس سال بعد بھی اس کی کارروائی آگے نہیں بڑھی۔ بلکہ ایسا بھی ہوا کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کو 18دسمبر 2014 کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت مل گئی تھی اور وہ تب سے اب تک آزاد ہے۔ اپنی اپیل میں ایف آئی اے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس لکھوی کے خلاف معقول شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس کی ضمانت رد کرنے کی درخواست کی جارہی ہے۔ بہرحال ایف آئی اے کی اس اپیل سے قطع نظر اس بات کا ذکر یہاں بے جا نہ ہوگا کہ 2014 میں جب لکھوی کو ضمانت دی گئی تھی تو پاکستان کے ممتاز اخباروں نے اپنے اداریوں میں یہ نشاندہی کی تھی کہ لکھوی کو ضمانت اس لئے مل گئی کہ سرکاری وکلاء کی طرف سے شدید لاپرواہی برتی گئی۔ اگر انہوں نے بروقت ٹھوس کارروائی کی ہوتی تو اسے ہرگز ضمانت نہ ملتی۔ ظاہر ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں کے مقدمہ کے سلسلے میں پاکستانی حکام سنجیدہ نہیں ہیں اسی لئے اس کی پیروی ٹھیک سے نہیں ہوپارہی ہے۔ جبکہ ممبئی حملوں میں ملوث جو ملزم ہندوستان اور امریکہ میں تھے ان کے خلاف نہ صرف پوری عدالتی کارروائی ہوئی بلکہ بہت پہلے سزا بھی ہوچکی ہے۔ ممبئی پر حملہ کے لئے دس لشکرطیبہ کے دہشت گرد ممبئی آئے تھے جن میں سے 9 تو پولیس کے ذریعے جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے اور ایک اجمل قصاب زندہ پکڑا گیا تھا، قصاب کو پوری عدالتی کارروائی کی تکمیل کے بعد پھانسی ہوگئی تھی اور دو دیگر ملزم تہوّر رانا اور ڈیوڈ ہیڈلی کو امریکی عدالتوں نے مجرم قرار دیا اور انہیں طویل مدت تک کے لئے قید کی سزا سنائی گئی۔ البتہ پاکستان میں جن مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے ، ان کی کارروائی آگے بڑھنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا تو دور کی بات رہی۔ ایف آئی اے نے لکھوی کی ضمانت ردّ کرنے کی جو اپیل کی ہے اس میں دیگر باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس مقدمہ کے سلسلے میں بہت دباؤ کا بھی ماحول ہے۔ استغاثہ سے وابستہ لوگوں کو سیل فون سے دھمکیاں ملتی ہیں اور کارروائی کے دوران حالات کو ناسازگار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جج صاحبان اور گواہوں تک کو دھمکیاں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور عدالت تک آنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ ایف آئی اے نے جو باتیں کہی ہیں اس سے لوگ پہلے ہی سے واقف ہیں اور اعلیٰ حکام بھی یہ تمام باتیں جانتے ہیں پھر بھی ابھی تک سیکوریٹی کا ایسا کوئی پختہ انتظام نہیں کیا جاسکا کہ مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھ سکے۔ سچ پوچھئے تو گھوم پھر کر بات وہیں پہنچتی ہے کہ کیا پاکستان کے متعلقہ حکام اس مقدمہ سے متعلق واقعی سنجیدہ ہیں اور کیا وہ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ اس دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث مجرموں کو سزا ملے؟ اگر واقعی ایسا ہوتا تو کیا برسوں پہلے اتنی آسانی سے ذکی الرحمن لکھوی کو ضمانت پر رہا کردیا جاتا؟ اب اتنے سال بعد وفاقی تفتیشی ایجنسی نے اس کی ضمانت ردّ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایف آئی اے یہ کوشش اپنی طرف سے کررہی ہے۔ لیکن اب تک کا پاکستان کا جو ریکارڈ رہا ہے، اس سے تو نہیں لگتا کہ اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے آئے گا۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ عالمی دباؤ اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)جیسے اداروں کے بگڑتے ہوئے تیور کو دیکھتے ہوئے اس طرح کی رپورٹیں اس لئے آرہی ہیں کہ عالمی برادری کو ایک بار پھر اس واہمے میں مبتلا کیا جائے کہ پاکستان واقعی سنجیدگی سے کچھ کررہا ہے؟۔
Comments
Post a Comment