سری لنکا کا دل دہلا دینے والا دہشت گردانہ واقعہ
سری لنکا میں گزشتہ کوئی ایک دہائی سے امن کا ماحول تھا۔ اس سے قبل قریب تین دہائی تک یہ ملک خانہ جنگی ،دہشت گردی اور خون خرابے کا شکار رہا لیکن 2009 تک آتے آتے حالات وہاں قابو میں آ گئے تھے اور عام شہری نسبتاً سکون کی زندگی گزار رہے تھے۔ کم از کم اس نوعیت کے دہشت گردانہ واقعات یہاں نہیں ہوئے تھے جیسے بعض دوسرے جنوب ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئے تھے لیکن اچانک گزشتہ اتوار کو چند گھنٹوں کے اندر اندر یکے بعد دیگرے کئی اہم جگہوں پر آٹھ زبر دست دھماکے ہوئے جن میں300 کے قریب افراد لقمہ اجل بنے ۔ایسٹر سنڈے کے موقع پر جہاں گرجا گھروں میں خصوصی مذہبی رسوم اور تقریبات منعقد ہوئی تھیں وہیں بعض مہنگے ہوٹلوں میں بھی خصوصی دعوتوں کا اہتمام تھا۔ وحشت اور بربریت سے پر یہ واقعات اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنے منظم اور منصوبہ بند طور پر انجام دیئے گئے تھے جس کا اس ملک میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ سری لنکا کی سیکورٹی ایجنسیوں سے بھی چوک ہوئی اور وہ اس خطرے کا اندازہ نہ کر سکیں۔ حالانکہ ہندوستانی ایجنسیوں کی طرف سے اس ماہ کے اوائل ہی میں ایسی خفیہ اطلاعات فراہم کر دی گئی تھیں جن پر اگر بر وقت توجہ دی گئی ہوتی تو سیکورٹی کے بہتر انتظامات کئے جا سکتے تھے اور اتنی بڑی تباہی سے بچنے کا راستہ نکل سکتا تھا۔ بہر حال اب تویہ انتہائی المناک واقعہ پیش آ چکا ہے۔
سری لنکا کی ایک مقامی انتہا پسند تنظیم نیشنل توحید جماعت کی حکومت سری لنکا نے نشاندہی کی ہے جو اس دہشت گردانہ واقعہ میں ملوث تھی۔ لیکن جس بڑے پیمانے پر یہ منصوبہ ترتیب دیا گیا تھا اور جیسی تباہی دیکھنے میں آئی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بعض بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے سر گرم اشتراک کے بغیر یہ سب کچھ نا ممکن تھا۔ 300 کے قریب افراد کا ہلاک اور500 سے زیادہ افراد کا زخمی ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض بین الاقوامی اور اس خطے کے سر گرم گروپوں نے بھی ان حملوں میں تعاون کیا ہوگا۔ یہ واردات انجام دینے کے لئے جس موقع کا انتخاب کیا گیا وہ بھی اسی بات کا اشارہ کرتا ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد یہ تھا کہ پوری عالمی برادری کی اس سانحے کی جانب توجہ مبذول کرائی جائے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ پاکستان کی بعض بد نام زمانہ تنظیمیں بھی القاعدہ اور دوسرے گروپوں کے ساتھ مختلف خطوں میں آپس میں تعاون کرتی رہی ہیں اور ان سے وابستہ بعض نام نہاد فلاحی ادارے سری لنکا میں بھی بعض حالات میں راحت رسانی کے کاموں میں مشغول نظر آئے تھے اور یہ کہنےکی تو ضرورت ہی باقی نہیں رہی کہ ان نام نہاد فلاحی اداروں کا اصل ایجنڈا کیا ہوتا ہے۔ ان کی سر گرمیوں کی باز گشت ایف اے ٹی ایف کی میٹنگوں میں بھی سنائی دیتی رہی ہے اور ان کی سر گرمیوں پر ایف اے ٹی ایف نظر بھی رکھ رہا ہے۔
بہر حال فی الحال تو پوری تفصیل نہیں سامنے آئی ہے اور سری لنکا کی تفتیشی ایجنسیاں چھان بین کے کاموں میں مصروف ہو گئی ہیں اور امید ہے کہ سراغ رساں ادارے جلد یا بدیر اصل مجرموں کی نشاندہی کر سکیں گے۔ سری لنکا کے گزشتہ اتوار کے واقعات نے نہ صرف اس پورے خطے بلکہ عالمی پیمانے پر بھی بین الاقوامی برادری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیاہے کہ دہشت گردی اس دور کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ اجتماعی کوششوں اور دانشمندی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان نے ہر موقع پر اور ہر عالمی پلیٹ فارم پر اس بات کی وکالت کی ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی شر انگیز کارروائیوں کو روکنے اور ان کی مدد کرنے والے حلقوں کو بے نقاب کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عالمی پیمانے پر اور اجتماعی سطح پر ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس کے تحت اس لعنت کو ختم کیا جا سکے۔ دہشت گردی انسانی تہذیب کے لئے اس دور میں سب سے برا خطرہ بنی ہوئی ہے۔
سری لنکا کی ایک مقامی انتہا پسند تنظیم نیشنل توحید جماعت کی حکومت سری لنکا نے نشاندہی کی ہے جو اس دہشت گردانہ واقعہ میں ملوث تھی۔ لیکن جس بڑے پیمانے پر یہ منصوبہ ترتیب دیا گیا تھا اور جیسی تباہی دیکھنے میں آئی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بعض بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے سر گرم اشتراک کے بغیر یہ سب کچھ نا ممکن تھا۔ 300 کے قریب افراد کا ہلاک اور500 سے زیادہ افراد کا زخمی ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض بین الاقوامی اور اس خطے کے سر گرم گروپوں نے بھی ان حملوں میں تعاون کیا ہوگا۔ یہ واردات انجام دینے کے لئے جس موقع کا انتخاب کیا گیا وہ بھی اسی بات کا اشارہ کرتا ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد یہ تھا کہ پوری عالمی برادری کی اس سانحے کی جانب توجہ مبذول کرائی جائے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ پاکستان کی بعض بد نام زمانہ تنظیمیں بھی القاعدہ اور دوسرے گروپوں کے ساتھ مختلف خطوں میں آپس میں تعاون کرتی رہی ہیں اور ان سے وابستہ بعض نام نہاد فلاحی ادارے سری لنکا میں بھی بعض حالات میں راحت رسانی کے کاموں میں مشغول نظر آئے تھے اور یہ کہنےکی تو ضرورت ہی باقی نہیں رہی کہ ان نام نہاد فلاحی اداروں کا اصل ایجنڈا کیا ہوتا ہے۔ ان کی سر گرمیوں کی باز گشت ایف اے ٹی ایف کی میٹنگوں میں بھی سنائی دیتی رہی ہے اور ان کی سر گرمیوں پر ایف اے ٹی ایف نظر بھی رکھ رہا ہے۔
بہر حال فی الحال تو پوری تفصیل نہیں سامنے آئی ہے اور سری لنکا کی تفتیشی ایجنسیاں چھان بین کے کاموں میں مصروف ہو گئی ہیں اور امید ہے کہ سراغ رساں ادارے جلد یا بدیر اصل مجرموں کی نشاندہی کر سکیں گے۔ سری لنکا کے گزشتہ اتوار کے واقعات نے نہ صرف اس پورے خطے بلکہ عالمی پیمانے پر بھی بین الاقوامی برادری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیاہے کہ دہشت گردی اس دور کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ اجتماعی کوششوں اور دانشمندی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان نے ہر موقع پر اور ہر عالمی پلیٹ فارم پر اس بات کی وکالت کی ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی شر انگیز کارروائیوں کو روکنے اور ان کی مدد کرنے والے حلقوں کو بے نقاب کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عالمی پیمانے پر اور اجتماعی سطح پر ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس کے تحت اس لعنت کو ختم کیا جا سکے۔ دہشت گردی انسانی تہذیب کے لئے اس دور میں سب سے برا خطرہ بنی ہوئی ہے۔
Comments
Post a Comment