موضوع: جنوبی ایشیا میں بنیاد پرستی کا خطرہ
سری لنکا میں 21 اپریل کو ایسٹر سنڈے کے موقع پر خودکش حملہ آوروں نے کولمبو، نیگومبو اور بٹی کالووا میں گرجا گھروں اور پانچ ستارہ ہوٹلوں میں آٹھ دھماکے کئے جن میں 38 غیر ملکی شہری سمیت 250 سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ ایک ویڈیو کے ذریعہ ان حملوں کی ذمہ داری دو دن بعد داعش نے قبول کی جس میں سات حملہ آوروں کو دکھایا گیا جس کی قیادت ظہران ہاشم کررہا تھا اور جو داعش سربراہ ابوبکر البغدادی کی وفاداری کا حلف لے رہے تھے۔
ان خونی حملوں کے بعد سری لنکا کے حکام نے 70 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ کولمبو میں چھاپوں کے دوران ایک عورت نے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حملہ آوروں میں سے کسی ایک کی اہلیہ تھی، اپنے دو بچوں کے ساتھ خود کو بم سے اڑالیا۔ دو دوسرے مقامات پر بموں کو ناکارہ بنادیا گیا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملہ آور مزید حملوں کا منصوبہ بنارہے تھے۔
ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ ظہران ہاشم تھا جس کا تعلق بٹی کلوا کے کٹن کڈی سے ہے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور جوانی کے دنوں سے ہی اس میں بنیاد پرستی کا رجحان پیدا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اسے مقامی مسلم برادری سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ کٹن کڈی چھوڑکر مالدیپ چلا گیا جہاں اس نے کچھ دن قیام کیا۔ بہت ممکن ہے کہ اس دوران اس نے جنوبی ہند کا بھی دورہ کیا ہو۔
ظہران بنیاد پرستی کے اپنے نظریئے پر برابر قائم رہا اور بالآخر وہ کٹن کڈی واپس لوٹ آیا جہاں اس نے توحید مسجد کی تعمیر کی اور وہاں سے اس نے اپنے سلفی اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ چونکہ ظہران ایک اچھا مقرر تھا اس لئے اس کے پیرو بننا شروع ہوگئے۔ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اپنے سلفی اسلام کی تبلیغ شروع کردی جس کے باعث وہ نوجوانوں میں کافی مقبول ہوا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند ماہ قبل جب تمل ناڈو میں آئی ایس آئی ایس ماڈیول پر چھاپہ مارکر چند مشتبہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا تو ان لوگوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ظہران کی آتشیں تقریر سے کافی متاثر تھے۔
ظہران نے 2015 میں نیشنل توحید جماعت بھی قائم کی جس کا مقصد سلفی اسلام کی تبلیغی کرنا تھا لیکن جلد ہی اس میں پھوٹ پڑگئی کیونکہ جماعت کے بہت سے لوگ ظہران کے نظریئے سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔ اس جماعت کے ٹوٹے ہوئے دھڑے پر جس کی قیادت ظہران کررہا ہے، ان بم دھماکوں کا الزام ہے۔ ظہران کے گروپ پر گوتم بدھ کے مجسموں کو توڑنے کا بھی الزام ہے۔ اس واقعہ کے بعد جنوری میں سکیورٹی فورسز نے وسطی سری لنکا میں پٹلم کے ایک مقام پر چھاپہ مارا جہاں سے انہیں نہ صرف بنیاد پرستی سے متعلق مواد ملے بلکہ بم اور ڈیٹونیٹر بھی برآمدکئے گئے۔ کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں رہا کردیا گیا۔ اس واقعہ کو نظر انداز کیا گیا۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ جب ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر حملوں کے بارے میں بھارت کی جانب سے خفیہ اطلاعات فراہم کی گئیں تو انہیں بھی نظر انداز کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایل ٹی ٹی ای کے خاتمے کے بعد سری لنکا کے حکام کافی مطمئن تھے کہ اب ان کے ملک میں کچھ ہونے والا نہیں ہے اور شاید اسی وجہ سے وہ خفیہ اطلاعات کو خاطر میں نہیں لائے جس کا انجام انہیں بھگتنا پڑا۔
اگرچہ ظہران ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن اس کے گروپ میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو کافی امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں میں سے دو، ایشان اور الہام مشہور و معروف تاجر محمد یوسف ابراہیم کے بیٹے تھے۔ ایک دوسرے شخص عبدالطیف جمیل محمد نے برطانیہ اور آسٹریلیا میں ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ باور کیا جاتا ہے کہ ظہران کا بھائی بھی خودکش ٹیم میں شامل تھا۔
سری لنکا میں ہوئے دھماکوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بنیاد پرستی کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے جن ملکوں میں یہ لعنت در آئی ہے وہاں برادریوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ اختلافات کبھی کبھی تشدد کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
سری لنکا میں مذہبی خطوط پر کافی اتھل پتھل رہی ہے۔ یہی صورتحال دوسرے ملکوں میں بھی ہے۔ علاقہ میں نفرت اور خوف کا ماحول ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش یہاں تک کہ نیپال میں بھی لوگوں کو بنیاد پرستی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے نتیجہ میں برادریاں آپس میں دست و گریباں ہیں۔ مالدیپ کا سماج بھی بنیاد پرستی کی جانب گامزن ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں بنیاد پرستی کے باعث ہوئے تشدد کے واقعات تقریباً ہر روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر فوری کارروائی کی جائے تاکہ کسی بھی ملک میں ایسی تباہی نہ ہو جیسی کہ ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں ہوئی۔
ان خونی حملوں کے بعد سری لنکا کے حکام نے 70 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ کولمبو میں چھاپوں کے دوران ایک عورت نے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حملہ آوروں میں سے کسی ایک کی اہلیہ تھی، اپنے دو بچوں کے ساتھ خود کو بم سے اڑالیا۔ دو دوسرے مقامات پر بموں کو ناکارہ بنادیا گیا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملہ آور مزید حملوں کا منصوبہ بنارہے تھے۔
ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ ظہران ہاشم تھا جس کا تعلق بٹی کلوا کے کٹن کڈی سے ہے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور جوانی کے دنوں سے ہی اس میں بنیاد پرستی کا رجحان پیدا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اسے مقامی مسلم برادری سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ کٹن کڈی چھوڑکر مالدیپ چلا گیا جہاں اس نے کچھ دن قیام کیا۔ بہت ممکن ہے کہ اس دوران اس نے جنوبی ہند کا بھی دورہ کیا ہو۔
ظہران بنیاد پرستی کے اپنے نظریئے پر برابر قائم رہا اور بالآخر وہ کٹن کڈی واپس لوٹ آیا جہاں اس نے توحید مسجد کی تعمیر کی اور وہاں سے اس نے اپنے سلفی اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ چونکہ ظہران ایک اچھا مقرر تھا اس لئے اس کے پیرو بننا شروع ہوگئے۔ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اپنے سلفی اسلام کی تبلیغ شروع کردی جس کے باعث وہ نوجوانوں میں کافی مقبول ہوا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند ماہ قبل جب تمل ناڈو میں آئی ایس آئی ایس ماڈیول پر چھاپہ مارکر چند مشتبہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا تو ان لوگوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ظہران کی آتشیں تقریر سے کافی متاثر تھے۔
ظہران نے 2015 میں نیشنل توحید جماعت بھی قائم کی جس کا مقصد سلفی اسلام کی تبلیغی کرنا تھا لیکن جلد ہی اس میں پھوٹ پڑگئی کیونکہ جماعت کے بہت سے لوگ ظہران کے نظریئے سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔ اس جماعت کے ٹوٹے ہوئے دھڑے پر جس کی قیادت ظہران کررہا ہے، ان بم دھماکوں کا الزام ہے۔ ظہران کے گروپ پر گوتم بدھ کے مجسموں کو توڑنے کا بھی الزام ہے۔ اس واقعہ کے بعد جنوری میں سکیورٹی فورسز نے وسطی سری لنکا میں پٹلم کے ایک مقام پر چھاپہ مارا جہاں سے انہیں نہ صرف بنیاد پرستی سے متعلق مواد ملے بلکہ بم اور ڈیٹونیٹر بھی برآمدکئے گئے۔ کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں رہا کردیا گیا۔ اس واقعہ کو نظر انداز کیا گیا۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ جب ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر حملوں کے بارے میں بھارت کی جانب سے خفیہ اطلاعات فراہم کی گئیں تو انہیں بھی نظر انداز کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایل ٹی ٹی ای کے خاتمے کے بعد سری لنکا کے حکام کافی مطمئن تھے کہ اب ان کے ملک میں کچھ ہونے والا نہیں ہے اور شاید اسی وجہ سے وہ خفیہ اطلاعات کو خاطر میں نہیں لائے جس کا انجام انہیں بھگتنا پڑا۔
اگرچہ ظہران ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن اس کے گروپ میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو کافی امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں میں سے دو، ایشان اور الہام مشہور و معروف تاجر محمد یوسف ابراہیم کے بیٹے تھے۔ ایک دوسرے شخص عبدالطیف جمیل محمد نے برطانیہ اور آسٹریلیا میں ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ باور کیا جاتا ہے کہ ظہران کا بھائی بھی خودکش ٹیم میں شامل تھا۔
سری لنکا میں ہوئے دھماکوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بنیاد پرستی کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے جن ملکوں میں یہ لعنت در آئی ہے وہاں برادریوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ اختلافات کبھی کبھی تشدد کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
سری لنکا میں مذہبی خطوط پر کافی اتھل پتھل رہی ہے۔ یہی صورتحال دوسرے ملکوں میں بھی ہے۔ علاقہ میں نفرت اور خوف کا ماحول ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش یہاں تک کہ نیپال میں بھی لوگوں کو بنیاد پرستی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے نتیجہ میں برادریاں آپس میں دست و گریباں ہیں۔ مالدیپ کا سماج بھی بنیاد پرستی کی جانب گامزن ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں بنیاد پرستی کے باعث ہوئے تشدد کے واقعات تقریباً ہر روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر فوری کارروائی کی جائے تاکہ کسی بھی ملک میں ایسی تباہی نہ ہو جیسی کہ ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں ہوئی۔
Comments
Post a Comment