پاکستان میں ہزارہ برادری کی حالت زار
پاکستان کے شہر کوئٹہ میں حال ہی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں ہزارہ برادری کے20 افراد ہلاک اور48 دوسرے زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اس بات کی طرف خاص اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں خاص طور پر ہزارہ برادری کی کیا حالت ہے۔ہزارہ برادری کے خلاف اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں اورانہیں چن چن کر مارا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان مسلکی تشدد کے نتیجہ میں ہزارہ برادری کے خلاف تشدد بڑھ گیا ہے جبکہ کچھ دوسرے اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا خیال ہے کہ ہزارہ برادری کو خاص نشانہ بنا کر ہی اس پر حملے کئے جاتے ہیں۔
اپنے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد اس برادری کے لوگ کوئٹہ میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو ان کی برادری کو نشانہ بنا کر حملے کر رہے ہیں نیز نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ جلد از جلد کیا جائے جس کا وعدہ حکومت نے کافی پہلے کیا تھا ۔ یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ہزارہ کون ہیں اور پاکستان کے دہشت گرد گروپ انہیں نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟
پاکستان میں رہنےو الی ہزارہ برادری ایک نسلی گروپ ہے اور اس گروپ کے لوگوں کے چہرے کے خدو خال منگول لوگوں کے خدو خال جیسے ہیں جن کا تعلق و سطی ایشیا سے ہے۔ صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بسنے والے ہزارہ برادری کے لوگ طالبان حکومت کے دور میں افغانستان سے ہجرت کر کےپاکستان آئے تھے جو خاص طور پر شیعہ مسلم ہیں۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں بھی انہیں چین سے رہنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ وہ خوف کے سائے میں زندگی بسر کرنےپر مجبور ہیں ۔ سنی بنیاد پرست گروپ ہندوؤں،عیسائیوں اور احمدیوں کی طرح انہیں بھی مسلمان تصور نہیں کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گروپ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنےو الے لوگوں پر اکثر حملے کرتے رہتے ہیں۔حالیہ حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی اور طالبان کے ایک چھوٹے سے دھڑے نے قبول کی ہے ۔ ان گروپوں کے علاوہ داعش نے بھی اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان تینوں گروپوں کے دعووں سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ جب اقلیتوں کو نشانہ بنا کر ان پر حملے کرنے کی بات آتی ہے تو یہ سارے ایک ہو جاتے ہیں۔
ماضی میں لشکر جھنگوی نے شیعہ برادری پر متعدد حملے کئے ہیں جن میں سیکڑوں جانیں تلف ہوئی ہیں۔ شیعہ برادری کے خلاف سب سے خطرناک حملہ 2013 میں کیا گیا تھا جس میں ہزارہ برادری کے دو سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔اس حملے کے بعد ہزارہ لوگوں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ سیکورٹی کی فراہمی کے باوجود اس برادری پر برابر حملے ہو رہے ہیں۔ یہ حملے ثابت کرتے ہیں کہ حکومت کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں کافی خامیاں ہیں۔ ممنوعہ دہشت گرد تنطیم لشکر جھنگوی کے ایک اعلیٰ رہنما رمضان مینگل کو حالیہ حملے سے تین روز پہلے ہی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ مینل شیعوں کے خلاف زہر اگلنے اور تشدد برپا کرنے کے لئے کافی مشہور ہے۔
ہزارہ اپنے تحفظ و سلامتی کے مطالبے پر نہ صرف زور دیتے رہے ہیں بلکہ نیشنل ایکشن پلان کے مکمل نفاذ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کی اس پیش قدمی کا مقصد ہے ملکی سلامتی کو در پیش اندرونی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے پورے ملک میں دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ۔پاکستان میں جو حکومتیں بر سر اقتدار رہی ہیں وہ اس پلان کو پوری طرح سے نافذ کرنے میں نا کام رہی ہیں ۔متعدد مواقع پر عمران خاں حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ کسی بھی دہشت گرد یا دہشت گرد تنظیم کو پاکستان میں سر گرم رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہزارہ لگا تار خوف و دہشت کی فضا میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ ان کے منفرد خدو خال ان کو دیگر لوگوں سے ممتاز کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ سنی ملٹنٹوں کا آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں۔ قتل اور نشاندہی کے بعد ہلاکتوں کے خوف سے اب تک 70 ہزار ہزارہ افراد کوئٹہ چھوڑ چکے ہیں۔ مزید بر آں کوئٹہ میں ہزارہ افراد اکٹھا ہوکربڑی آبادیوں کی شکل میں رہ رہے ہیں اس وجہ سے بھی وہ بآسانی شکار بنالئے جاتے ہیں۔وہ دہشت گردوں اور حکومت پاکستان دونوں کے ہاتھوں ،دہشت گردی،مسلکی تشدد اور شدید تفریق کا شکار ہیں۔
تا ہم ان کی حکومت کا رد عمل بے حسی پر مبنی ہے کیونکہ حکومت نے قتل و غارت گری میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کوئی مناسب نظام نہیں اپنایا ہے۔پاکستان میں ہزارہ اور دیگر اقلیتوں کی شناخت کے بعد ہلاکتیں اس وقت تک نہیں رکیں گی جب تک حکومت پاکستان ،شیعہ مخالف اور ہزارہ مخالف نفرت آمیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ کوئی کارروائی نہیں کرے گی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت ،انسداد دہشت گردی نیز داخلی سلامتی کے احیا کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کرے گی۔
اپنے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد اس برادری کے لوگ کوئٹہ میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو ان کی برادری کو نشانہ بنا کر حملے کر رہے ہیں نیز نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ جلد از جلد کیا جائے جس کا وعدہ حکومت نے کافی پہلے کیا تھا ۔ یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ہزارہ کون ہیں اور پاکستان کے دہشت گرد گروپ انہیں نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟
پاکستان میں رہنےو الی ہزارہ برادری ایک نسلی گروپ ہے اور اس گروپ کے لوگوں کے چہرے کے خدو خال منگول لوگوں کے خدو خال جیسے ہیں جن کا تعلق و سطی ایشیا سے ہے۔ صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بسنے والے ہزارہ برادری کے لوگ طالبان حکومت کے دور میں افغانستان سے ہجرت کر کےپاکستان آئے تھے جو خاص طور پر شیعہ مسلم ہیں۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں بھی انہیں چین سے رہنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ وہ خوف کے سائے میں زندگی بسر کرنےپر مجبور ہیں ۔ سنی بنیاد پرست گروپ ہندوؤں،عیسائیوں اور احمدیوں کی طرح انہیں بھی مسلمان تصور نہیں کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گروپ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنےو الے لوگوں پر اکثر حملے کرتے رہتے ہیں۔حالیہ حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی اور طالبان کے ایک چھوٹے سے دھڑے نے قبول کی ہے ۔ ان گروپوں کے علاوہ داعش نے بھی اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان تینوں گروپوں کے دعووں سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ جب اقلیتوں کو نشانہ بنا کر ان پر حملے کرنے کی بات آتی ہے تو یہ سارے ایک ہو جاتے ہیں۔
ماضی میں لشکر جھنگوی نے شیعہ برادری پر متعدد حملے کئے ہیں جن میں سیکڑوں جانیں تلف ہوئی ہیں۔ شیعہ برادری کے خلاف سب سے خطرناک حملہ 2013 میں کیا گیا تھا جس میں ہزارہ برادری کے دو سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔اس حملے کے بعد ہزارہ لوگوں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ سیکورٹی کی فراہمی کے باوجود اس برادری پر برابر حملے ہو رہے ہیں۔ یہ حملے ثابت کرتے ہیں کہ حکومت کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں کافی خامیاں ہیں۔ ممنوعہ دہشت گرد تنطیم لشکر جھنگوی کے ایک اعلیٰ رہنما رمضان مینگل کو حالیہ حملے سے تین روز پہلے ہی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ مینل شیعوں کے خلاف زہر اگلنے اور تشدد برپا کرنے کے لئے کافی مشہور ہے۔
ہزارہ اپنے تحفظ و سلامتی کے مطالبے پر نہ صرف زور دیتے رہے ہیں بلکہ نیشنل ایکشن پلان کے مکمل نفاذ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کی اس پیش قدمی کا مقصد ہے ملکی سلامتی کو در پیش اندرونی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے پورے ملک میں دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ۔پاکستان میں جو حکومتیں بر سر اقتدار رہی ہیں وہ اس پلان کو پوری طرح سے نافذ کرنے میں نا کام رہی ہیں ۔متعدد مواقع پر عمران خاں حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ کسی بھی دہشت گرد یا دہشت گرد تنظیم کو پاکستان میں سر گرم رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہزارہ لگا تار خوف و دہشت کی فضا میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ ان کے منفرد خدو خال ان کو دیگر لوگوں سے ممتاز کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ سنی ملٹنٹوں کا آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں۔ قتل اور نشاندہی کے بعد ہلاکتوں کے خوف سے اب تک 70 ہزار ہزارہ افراد کوئٹہ چھوڑ چکے ہیں۔ مزید بر آں کوئٹہ میں ہزارہ افراد اکٹھا ہوکربڑی آبادیوں کی شکل میں رہ رہے ہیں اس وجہ سے بھی وہ بآسانی شکار بنالئے جاتے ہیں۔وہ دہشت گردوں اور حکومت پاکستان دونوں کے ہاتھوں ،دہشت گردی،مسلکی تشدد اور شدید تفریق کا شکار ہیں۔
تا ہم ان کی حکومت کا رد عمل بے حسی پر مبنی ہے کیونکہ حکومت نے قتل و غارت گری میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کوئی مناسب نظام نہیں اپنایا ہے۔پاکستان میں ہزارہ اور دیگر اقلیتوں کی شناخت کے بعد ہلاکتیں اس وقت تک نہیں رکیں گی جب تک حکومت پاکستان ،شیعہ مخالف اور ہزارہ مخالف نفرت آمیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ کوئی کارروائی نہیں کرے گی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت ،انسداد دہشت گردی نیز داخلی سلامتی کے احیا کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کرے گی۔
Comments
Post a Comment