موضوع: افغانستان کی جانب سے طالبان سے ‘‘تبادلہ خیال’’ کرنے کی تیاری

افغانستان میں قیام امن کی اب تک جو کوششیں ہوئی ہیں ان سے ایسا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ بالآخر وہاں کس طرح کا سسٹم قائم ہو سکتا ہے۔ جہاں تک افغانستان کی اندرونی صورت حال کا تعلق ہے تو گذشتہ کوئی چار دہائی کےعرصے سے یہ ملک بے چینی ، خلفشار ، خانہ جنگی، اقتدار کی کشمکش، بیرونی فوج کے خلاف ہونے والی مزاحمت نیز بڑی طاقتوں کی زور آزمائی وغیرہ کا شکار رہا ہے اور ہر ٹکراؤ اور مزاحمت کا نتیجہ انسانی جانوں کے زیاں کی شکل میں سامنے آتا رہا ۔ گذشتہ اٹھارہ برسوں سے یعنی جب سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی تب سے اب تک جو کچھ ہوا اس کا حاصل یہ رہا کہ افغانستان سےطالبان کی سخت گیرحکومت کا خاتمہ ہوا اور امریکہ کی قیادت میں تعینات غیر ملکی افواج کی موجودگی میں تباہ حال افغانستان کے تعمیری اور ترقیاتی کاموں کو پٹری پر لانے کی کوشش کی گئی اور اس دوران وہاں نمائندہ حکومت بھی قائم ہوئی اور اس وقت بھی وہاں ایک آئینی طور پر منتخب حکومت کام کر رہی ہے ۔ چند سال قبل امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوجوں کی بڑی تعداد واپس چلی گئی ۔ لیکن اس کے بعد افغانستان کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ اس کے برعکس افغانستان میں طالبان کے حملے بے تحاشہ بڑھ گئے ۔ امن قائم کرنے کی تمام کوششیں بے معنی ثابت ہو کر رہ گئیں ۔ طالبان کسی بھی طور پر افغانستان کی حکومت سے بات چیت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ایک بوالعجبی یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ طالبان قیادت اشرف غنی حکومت سے تو اس بنیاد پر بات نہیں کرتی کہ وہ امریکہ کی پٹھو حکومت ہے۔ لیکن خود امریکہ سے بات چیت کرنے میں اسے کوئی پس و پیش نہیں تھااور نہ ہے۔ بہر حال اس وقت قطر میں امریکہ کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد اور طالبان نمائندوں کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں اور اب تک کئی دور کی گفتگو ہو چکی ہے لیکن اب تک اس بات کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملاکہ بات چیت کن خطوط پر ہو رہی ہے اور امن قائم کرنے سے متعلق خاکہ کیا تیار کیا گیا ہے؟اشرف غنی حکومت نے کئی بار یکطرفہ طور پر امن سے متعلق پیش رفت کی اور غیر مشروط طور پر بھی طالبان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

بہر حال دو حہ میں جو امن مذاکرات چل رہے ہیں ان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ اسی ماہ کے اوآخر میں بات چیت کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ طالبان کے نمائندے افغانستان کے اعلیٰ افسران اور بعض دوسرے متعلقہ حلقوں سے بات چیت کریں گے ۔ اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت افغانستان کا ایک وفد عنقریب قطر جانے والا ہے جو حکومت کی طرف سےطالبان سے تبادلۂ خیال کرے گا۔ اس بات کی وضاحت صدر اشرف غنی کے خصوصی ایلچی محمد عمر داؤد زئی نے کی ہے ۔ مسٹر داؤد زئی کے مطابق جو وفد جانے والا ہے وہ صرف طالبان کے ممبران کے خیالات جاننے کی کوشش کرے گا۔ ضروری نہیں کہ اس وفد کے ممبران باقاعدہ مذاکرات ٹیم کا حصہ بھی بنیں ۔ آج ہی کل میں افغانستان کے افسران آپس میں مل کر وفد کے ممبران کے بارے میں فیصلہ کریں گے اور یہ بھی طے کریں گے کہ باقاعدہ مذاکرات ٹیم میں کن کن لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔ اب دیکھنایہ ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ حالانکہ طالبان قیادت اشرف غنی حکومت سے کسی طرح کی بات چیت کرنے سے گریزاں رہی ہے ۔ انہوں نے افغانستان کے اپوزیشن لیڈروں سے بھی بات چیت کرنے میں پس و پیش نہیں کیا۔ فروری میں انہوں نے ماسکو میں ان سے تبادلۂ خیال کیا تھا۔ افغانستان سے جو وفد جانے والا ہے اس کے بارے میں ابھی تک طالبان نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔ وفد بھیجنے کی بات ، زلمے خلیل زاد کے دورۂ افغانستان کے بعد سامنے آئی ہے جو گذشتہ ہفتہ وہاں گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق ، مسٹر خلیل زاد نے ڈاکٹر اشرف غنی سے کئی بار ملاقات کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ ایک مضبوط مذاکراتی ٹیم تیار کریں تاکہ صدارتی انتخاب سے قبل سمجھوتے کی کوئی شکل نکالی جا سکے ۔

یاد رہے کہ صدارتی انتخاب میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی ہے۔ توقع ہے کہ ستمبر میں یہ انتخاب ہوگا۔ ان باتوں سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ عنقریب کوئی سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔ لیکن طالبان کا جو بے لچک رویہ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ بالآخر حالات کیا رخ اختیار کرنے والے ہیں۔

Comments