موضوع: مالدیپ کی خوشگوار سیاسی تبدیلی جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے استحکام کی علامت

جنوب ایشیائی ملک مالدیپ میں سابق صدر محمد نشید کی پارٹی ایم ڈی پی کی بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی نہ صرف اس ملک بلکہ جنوب ایشیائی ممالک میں مظبوط ہوتی جمہوری قدروں کا ایک اور ثبوت ہے۔نشیدکئی برس سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔سابق صدر کو 2015 میں مالی بدعنوانی کے الزام میں 13سال کی سزا سنائی گئی تھی،لیکن بعد میں وہ ملک چھوڑ گئے تھے۔نشید کے سخت حریف عبداللہ یامین کا دور اقتدار کئی اعتبار سے عدم استحکام کا دور رہا۔نشید کے ہندوستان سمیت پڑوسی ممالک سے بہتر رشتے تھے لیکن یامین کے دور میں ان رشتوں میں کشیدگی پیدا ہوئی۔مالدیپ میں انھوں نے جمہوری آوازوں کو دبانے اور آئینی اداروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔یامین کے خلاف فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے ججوں کو اس دور میں گرفتار کر لیا گیا۔نشید اور ان کی پارٹی کے ورکروں کو بھی پریشان کیا جاتا رہا۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بدعنوانی کے الزامات سے یامین پیچھا نہیں چھڑا سکے اور 5 برس کے اقتدار کے بعد ان کی پارٹی کو حالیہ انتخابات میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔87 ممبران پارلیمنٹ والے ایوان میں نشید کی پارٹی کو دو تہائی سیٹیں ملنے کے بعد ان کے صدر بننے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد انھوں نے ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنے اور امن قائم کرنے کا عزم دوہرایا ہے۔

نشید کو ہندوستان حامی بھی مانا جاتا ہے۔دراصل جب صدر عبدللہ یامین نے جب ملک کے سیاسی بحران کے دور میں جمہوری اداروں پر قدغن لگانے کی کوشش کی تھی تو نشید نے ہندوستان سے مالدیپ میں فوجی مداخلت کی اپیل کی تھی۔یامین کی پالیسیوں پر ہندوستان بھی اس لیے فکرمندی ظاہر کرچکا ہے کہ ان کے سبب مالدیپ کے جمہوری ڈھانچے کو زبردست خطرات لاحق ہو گئے تھے۔نشید ہندوستان میں جمہوری قدروں کی مضبوطی کے معترف رہے ہیں اور ان کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رشتے بہت مضبوط تھے۔ان رشتوں کو عبداللہ یامین کے دور میں سخت نقصان پہنچا۔یہ بات دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان پڑوسی ممالک میں جمہوریت اور استحکام کا ہمیشہ ہی خواہاں رہا ہے۔مالدیپ جیسے آبادی کے اعتبار سے کافی چھوٹے ملک کو بھی ہندوستان نے ایک اچھے پڑوسی کے ناطے ہمیشہ اہمیت دی اور جب جب ضرورت ہوئی اس کی مدد بھی کی۔
بات صرف مالدیپ کی ہی نہیں بلکہ دنیا اور خصوصاً جنوب ایشیائی ممالک میں جمہوریت کی بقا کے لیے ہندوستان نے ہر ممکن تعاون دیا ہے۔نشید نے اسی تناظر میں گذشتہ برس ہندوستان سے مدد طلب کی تھی اور ہندوستان نے حتیٰ الامکان اس سمت میں کام بھی کیا۔بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ مالدیپ میں نشید کی پارٹی کی بھاری اکثریت سے جیت اس ایشیائی خطے میں جمہوری قدروں کے مستحکم ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔

حالیہ چند برسوں میں پڑوسی ممالک مثلاً سری لنکا،نیپال اور افغانستان کے حالات پر نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہو جائیگی کہ ہندوستان کا اپنے پڑوسی ممالک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے میں کتنا اہم رول رہاہے۔یہ بات بھی باعث اطمینان ہے کہ ان ممالک کے عوام میں جمہوریت کے تئیں بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ جمہوریت کی دشمن طاقتوں کو ان ممالک کے عوام نے سخت جد و جہد کے بعد مسترد کر دیا اور جمہوریت کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا۔یہ صورتحال ان ممالک میں سیاسی استحکام کے اعتبار سے بیحد اہم قرار دی جا سکتی ہے۔مالدیپ کا تازہ سیاسی منظر نامہ بھی ہندوستان کے لیے اسی لیے باعث خیر مقدم ہے کہ عوام نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے جمہوری طریقے سے اپنی من پسند کی سرکار کو چننے میں اپنی پوری دلچسپی ظاہر کی اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والی یامین حکومت کو ووٹوں کی طاقت کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کر دیا۔اس میں کوئی شک نہیں مالدیپ میں آئی یہ سیاسی تبدیلی پورے خطے میں امن پسند اور جمہوریت نواز طاقتوں کو نیا حوصلہ بخشنے میں مدگار ثابت ہوگی۔ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر ہندوستان اور مالدیپ کے خوشگوار شتوں کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔

مالدیپ آبادی کے اعتبار سے ہرچند کہ ایک بہت چھوٹا ملک ہے لیکن اس کی جغرافیائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کئی بڑی پروسی طاقتیں مالدیپ کے معاملات پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہی ہیں۔یامین ایسی ہی طاقتوں کے آلۂ کار بنے ہوئے تھے،لیکن نشید کی پارٹی کی اقتدار میں واپسی نے ان طاقتوں کو مایوس کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ جمہوریت کو کمزور کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہیں،بلکہ ہندوستان جیسے مضبوط جمہوریت والے ملک سے اپنے رشتوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔نشید کی پارٹی کی جیت درحقیقت مالدیپ میں بد عنوانی کے خاتمے اور اقتصادی خوشحالی کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ اب ایک مرتبہ پھر مالدیب امن و استحکام کے ساتھ ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکے گا۔

Comments