موضوع: پاکستان میں پشتونوں پر ظلم

حکومت پاکستان اور پاکستانی فوج ان دنوں ملک میں جاری ایک پرامن تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور اس تحریک کے حامیوں کو دبانے کے لئے طرح طرح کی انتقامی کارروائیاں کررہی ہے تاہم پشتون تحریک سے وابستہ ان افراد نے اپنے مطالبات پورا ہونے تک ہر طرح کی قربانی دینے کا عزم کررکھا ہے اور اس کی عملی مثال بھی پیش کررہے ہیں۔

پاکستان کے، پشتونوں سے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے ہیں۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام کے ستر سے زیادہ برس گزر جانے کے بعد بھی اس قبائلی علاقہ کی تعمیر ، ترقی اور خوشحالی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے۔ گوکہ یہ پاکستان کا حصہ ہے لیکن عملاً یہاں اب بھی برطانوی نوآبادیاتی دور کا قانون اور طریقہ حکمرانی چلتا ہے۔

ماضی قریب تک اس قبائلی علاقہ جات یا فاٹا میں برطانوی سامراج کے فرنٹیئر کرائم ریگولیشن FCRقانون کے تحت معاملات چلائے جاتے رہے، اس قانون کو کالا قانون بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس قانون کے تحت اس علاقے کے کسی بھی شہری کو جرم بتائے بغیر گرفتار کیاجاتا تھا، پھر ایف سی آر کے قانون کی رو سے انہیں اپنی صفائی کے لئے وکیل‘ دلیل اور اپیل جیسے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا تھا۔ اسی احساس محرومی نے قبائلی عوام میں زبردست احساس کمتری پیدا کردیا۔

پشاور آرمی پبلک ا سکول پر حملے کے بعدحکومت پاکستان کے تیار کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قبائلی علاقہ جات کو قومی دھارے میں لانے کا منصوبہ بنایا گیا اورایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے فاٹا کی ترقی کا ایک روڈ میپ تیار کیا۔ جس میں فاٹا کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے، ترقی اور خوشحالی کے لئے سالانہ ایک سو دس ارب روپے فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیالیکن ابھی تک اس علاقے کو تجویز کردہ فنڈز نہیں مل سکے ہیں۔

پاکستانی آرمی نے دہشت گردی کو کچلنے کے نام پر فاٹا میں جو کارروائیاں کیں اس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو اپنا گھر چھوڑنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔پاکستانی حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2004 سے 2017کے درمیان چار لاکھ سے زائد افراد کو اپنا گھر چھوڑنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فاٹا میں پاکستانی مسلح افواج کے ذریعہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس علاقے میں پشتون نوجوانوں کی گرفتاری اورانہیں غائب کردینے کے واقعات عام ہیں۔ حتی کہ متعدد پشتون نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

پشتونوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم فاٹا کے عوام کے مسائل کوحل کرنے کے لئے حکومت سے مسلسل درخواست کررہی ہے تاہم حکومت پاکستان اب تک کسی سنجیدہ اقدام کا ثبوت نہیں دے سکی ہے۔حکومت پاکستان نے گوکہ پی ٹی ایم اور ایک حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا اعلان کیا ہے تاہم مذاکرات کا تاحال آغاز نہیں ہو سکاہے۔

پاکستانی قومی اسمبلی کے رکن اور پی ٹی ایم کے رہنمامحسن ڈاور کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے پہلے مذاکرات کے لیے 26 مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکا۔حالانکہ ابھی بھی یہ بات پوری امید اور یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ اس مرتبہ ہونے والی بات چیت کتنی نتیجہ خیز ثابت ہوگی ۔

یوں تو پشتونوں کے جائز مطالبات کی فہرست کافی طویل ہے تاہم ان کے اہم مطالبات میں قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لاپتہ کردئے گئے افراد کی بازیابی سب سے اہم ہے۔پی ٹی ایم کے سربراہ منظورخان پشتین ماضی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ پشتونوں پر ہونے والے ’بدترین مظالم‘ کے خلاف جاری جدوجہد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ ’’ریاستی ادارے پشتون تحفظ مومومنٹ پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے حقائق مسخ کرنے کی کوشش رہے ہیں۔ ہمیں ایک منظم منصوبے کے تحت ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ظلم کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ریاست پاکستان کے آئین کی رو سے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ہمیں اس حق سے دستبردار کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اب پشتون اپنے حقوق کے لیے خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘‘

یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا حلقہ پشتونوں کے جائز مطالبات اور ان کی تحریک کو یکسر نظر انداز کرتا رہا ہے۔ پشتونوں کے مظاہروں کی خبروں کوپوری طرح بلیک آوٹ کردیا جاتا ہے۔ اور جو صحافی یا میڈیا پشتونوں کی آواز کا ساتھ دینے کی کوشش کرتا ہے اسے حکومت کے عتاب کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت پاکستان ایک طرف تو اپنے ملک سے سرگرم دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہے ، انہیں ہر طرح کی مدد دیتی ہے اور انہیں بچانے کے لئے تمام سہولیات فراہم کرتی ہے لیکن دوسری طرف اپنے ہی ملک کے شہریوں کوان کے جائز حقوق سے محروم رکھ رہی ہے اور جب وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر انہیں ختم کردینے کے لئے طرح طرح کے آپریشن چلاتی ہے۔

پاکستان کے ارباب حل وعقد کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپنے شہریوں کے جائز مطالبات سے محروم رکھ کر ملک میں امن و سکون اور ترقی و خوشحالی کبھی بھی ممکن نہیں ہے۔پاک حکمرانوں کو نہیں بھولنا چاہئے کہ حد سے زیادہ استحصال اور احساس محرومی نے سابق مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ ہونے پر مجبور کیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ