موضوع: عمران خان کا اعتراف: پاکستانی فوج نے دہشت گرد پیدا کئے

وزیراعظم پاکستان عمران خان ہند-پاک رشتوں کے حوالے سے اکثر بات کرتے ہیں۔ اور اکثر اس بات پر زور بھی دیتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ مثلاً گزشتہ جولائی میں جب عام انتخابات کے نتائج سامنے آرہے تھے اور ان کے اقتدار میں آنے کے امکانات روشن ہوئے تھے تو انہوں نے جہاں اپنی آنے والی حکومت کی ترجیحات کا خلاصہ پیش کیا تھا وہیں انہوں نے ہندپاک رشتوں کو بہتر بنانے کی بھی بات کہی تھی اور یہاں تک کہا تھا کہ اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ لیکن عملاً انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ وہ واقعی خلوص کے ساتھ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ کشیدگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاکستان سے مسلسل دراندازی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اگر ان کے دور اقتدار میں اس کی روک تھام کے لئے معمولی پیش رفت بھی ہوتی تو کم از کم سرحدوں پر حالات میں کچھ خوشگوار تبدیلی آتی اورپلوامہ جیسا بڑا دہشت گردانہ واقعہ بھی نہ پیش آتا جس کی ذمہ داری براہ راست پاکستان کی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے لی۔ بجائے اس کے کہ بطور وزیراعظم عمران خان ازخود اس کا نوٹس لیتے اور جیش محمد کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی ہدایت دیتے انہوں نے سابقہ روایت کے مطابق قابل عمل ثبوت فراہم کرنے کی رٹ لگانی شروع کردی۔ اس کا سیدھا مطلب یہی ہوا کہ جیش محمد کے دعوے کے باوجود وہ یہ بات نہیں ماننا چاہتے کہ حملہ کرنے والا گروپ پاکستانی ہے۔ یعنی پاکستان کے رویہ میں رتّی برابر تبدیلی نہیں آئی۔

عمران خان اکثر ہندوستان کے اندرونی معاملات کا بھی ذکر کرتے ہیں وہ اقلیتوں کے معاملات کا ذکر کرکے ہندوستان اور پاکستان کی اقلیتوں کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہیں اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ پاکستان اپنی اقلیتوں کے کاز کا بہت بڑا چمپئن ہے۔ اس پرہم کوئی تبصرہ اس لئے بھی نہیں کرنا چاہتے کہ ان کا یہ خیال خاصاً مضحکہ خیز ہے اور اس کا ثبوت حالیہ دنوں کے بعض واقعات سے بھی ہوجاتا ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے ایک بار پھ رہندوستان کے بعض اندرونی معاملات کی بات کہی۔ ہندوستان میں رواں پارلیمانی انتخابات کی بات بھی کی اور یہاں تک کہا کہ کس پارٹی کو اقتدار میں آنا چاہئے اور کسے نہیں! لیکن انہی باتوں کے دوران انہوں نے بڑے واضح لفظوں میں یہ اعتراف بھی کیا کہ پاکستانی فوج نے ہی بعض مخصوص حالات میں دہشت گردوں کو پروان چڑھایا۔ لیکن اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے خود اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب مسلح دہشت گرد گروپوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ایسی کارروائیوں کو فروغ دیں۔ ان کے مطابق، پاکستان کسی کے دباؤ میں ایسا کرنے نہیں جارہا ہے بلکہ ملک کے مفاد کا تقاضہ ہے کہ ایسا قدم اٹھایا جائے۔

عمران خان کی دیگر کئی باتوں کے علاوہ یہ بات بھی سننے میں تو اچھی لگتی ہے کہ بالآخر پاکستانی حکمراں اس بات کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کو ٹریننگ اور ہتھیار فراہم کرنے کا کام خود پاکستانی فوج اور ایجنسیوں نے کیا ہے لیکن ان کے قول اور فعل کا تضاد اس وقت کھل کر سامنے آجاتا ہے جب دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بات سامنے آتی ہے۔ اگر قول اور فعل میں تضاد نہ ہوتا تو پلوامہ حملے کے بعد قابل عمل ثبوت مانگنے کی آڑ میں وہ جیش محمد کا بچاؤ کرتے نظر نہیں آتے۔ عمران خان کا یہ بیان کہ کسی کے دباؤ کے تحت نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کارروائی کرنا چاہتا ہے۔ صرف اور صرف ایک مذاق ہے اس وقت جو تھوڑی بہت کارروائی بعض گروپوں کے خلاف ہورہی ہے وہ صرف عالمی اداروں کے دباؤ میں ہورہی ہے اور اس کا مقصد عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ لیکن یہ دکھاوے کی کارروائیاں شاید ہی کسی کو اب مطمئن کرسکیں!

Comments