موضوع: بھارت اور سری لنکا کے درمیان بڑھتے دفاعی تعلقات

ہندوستان کے سکریٹری دفاع سنجے مترا نے حال ہی میں سری لنکا کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے صدر میتری پالا سری سینا، اپنے سری لنکائی ہم منصب ہیما سری فرنانڈو اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف ایڈمرل رویندر وجے گونا رتنے سے ملاقات کی۔ سری لنکا کے رہنماؤں سے بات چیت کے دوران دونوں ملکوں نےغیرروایتی سیکوریٹی کے معاملات میں تعاون سمیت علاقائی سیکورٹی میں تعاون کو فروغ دینے سے اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا خاص شعبہ سری لنکا کی مسلح افواج کی تربیت اور اس کی صلاحیت سازی ہے۔ اس لئے اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ تربیت کے لئے سری لنکا کے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائیگا۔

دورے کے حصہ کے طور پر ہندوستانی وفد نے چھٹے ہند-سری لنکا ڈیفنس ڈائیلاگ میں بھی شرکت کی۔ 2012 سے یہ ڈائیلاگ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کا جائزہ لینے کیلئے ایک پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ ہندوستان کی ‘‘پڑوسی پہلے’’ کی پالیسی کے حصہ کے طور پر پڑوسیوں کیساتھ سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش اور سری لنکا میں بدلے ہوئے سیاسی حالات کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دینے کا موقع ملا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ماضی میں تمل ناڈو کے ویلنگٹن ڈیفنس اسٹاف سروس کالج میں سری لنکا کے فوجیوں کی تربیت ایک مسئلہ بن گیا تھا جس کی وجہ سے حکومت ہند کو سری لنکا کے فوجیوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کو محدود کرنا پڑاتھا۔

بعض حلقوں کی جانب سے مخالفت کے باجود ہند-سری لنکا دفاعی تعاون کافی عرصہ سے برقرار ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت، سری لنکا اور مالدیپ کے درمیان سہ رخی بحری مشق ‘‘دوستی’’ 1992 سے ہورہی ہے اور پچھلی مشق گزشتہ برس مالدیپ میں ہوئی تھی۔ فوجی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے ہندوستان نے پچھلے سال گیا میں 160 ارکان پر مشتمل سری لنکا کے فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کے ایک وفد کی میزبانی کی تھی۔ اسی سال بھارت نے سری لنکا کو سمندر میں نگرانی کیلئے ایک جدید کشتی سونپی تھی۔ علاقائی سطح پر سارک تنظیم کے کام نہ کرنے کے سبب دونوں ممالک دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے بیمسٹیک پلیٹ فارم کا استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں نے پچھلے سال ستمبر میں ہونے والی بیمسٹیک کی مشترکہ فوجی مشق میں بھی حصہ لیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے حالانکہ مختلف مشترکہ میکینزم موجود ہیں تاہم مزید ارتکاز کی ضرورت ہے۔ اپنی جغرافیائی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے سر ی لنکا بحرہند میں ایک مرکزی حیثیت حاصل کرنا چاہے گا۔ وہ بحرہند کے کنارے بسنے والے ملکوں کے ساتھ بہتر رابطہ بنائے ہوئے ہے تاکہ اس کے بحری اور سلامتی کے مفادات محفوظ رہیں۔

سری لنکا کی سلامتی اور معاشی ترقی بحرہند کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے اس لئے وہ بحرہند میں ضوابط پر مبنی نظام کی وکالت کرتا ہے۔ حال ہی میں بحرہند کے بارے میں کولمبو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں بحرہند کے کنارے بسنے والے 40 ملکوں کے 300 سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی۔

سری لنکا کا سالانہ ‘‘گال ڈائیلاگ’’ 2010 میں شروع ہوا تھا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے بھی وہ ہندوستان سمیت علاقہ کے مختلف ملکوں کے ساتھ بات چیت کرسکتا ہے تاکہ وہ بحرہند میں موجود تشویشات پر تبادلہ خیال کرسکے۔ سری لنکا نے 1971 میں اقوام متحدہ میں ‘‘بحرہند-علاقۂ امن’’ کے تصور کی حمایت اور وکالت کی تھی۔ ایل ٹی ٹی ای نے حکومت سری لنکا کے خلاف جنگ چھیڑنے کیلئے جس طرح سے بحرہند کا استعمال کیا اور جس طرح تیس سال سے یہ جنگ جاری ہے اور جس کی وجہ ملک میں نسلی تشدد پھیلا اس کے سبب بھارت اور سری لنکا کے درمیان بحری تعاون کو فروغ دینے پر توجہ اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان بحری شعبہ میں تعاون اگرچہ ایک مثبت بات ہے لیکن بحرہند میں مرکزیت حاصل کرنے کی سری لنکا کی کوشش خاص طور سے سری لنکائی بندرگاہوں کی ترقی اور انکو جدید بنانے کیلئے چین کیساتھ تعاون بھارت کیلئے باعث تشویش ہے۔ تاہم سری لنکا جیسے پڑوسیوں کی خواہشات اور ان کے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھارت کو ‘‘علاقہ میں سب کی ترقی اور سب کی سلامتی’’ کے تصور سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Comments