جنوبی ایشیا میں داعش کی سرگرمیاں گہری تشویش کا باعث

جیسا کہ پہلے بھی اندازہ کیا جارہا تھا کہ سری لنکا میں ہونے والے سیریل دھماکوں کے پیچھے کسی منظم عالمی دہشت گرد گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ لیکن اب تو پورے طور پر اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس تباہی میں داعش ہی نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ فوری طور پر تو اس بدنام زمانہ تنظیم نے کوئی ذمہ داری نہیں لی تھی لیکن دوسرے ہی دن اس نے اپنے ترجمان عمق کے توسط سے ’’اپنی کارستانیوں‘‘ کا کریڈٹ لیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک تنظیم ہے اور صرف چند سال قبل اس نے عراق اور سیریا کی سرحد پر نام نہاد خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ خلافت ابوبکر بغدادی نے قائم کی تھی جس نے عراق اور سیریا کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی جمالیا تھا لیکن بہرحال اب اس علاقے سے اس کے قدم اکھڑ چکے ہیں۔ حال ہی میں سیریا میں امریکہ اور کرد باغیوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ داعش کا پورے طور پر صفایا ہوچکا ہے اور اب بچے کھچے علاقے بھی اس کے قبضے سے آزاد کرالئے گئے۔ بہرحال داعش کے قدم بھلے ہی اس علاقے سے اکھڑ چکے لیکن اس کے خطرناک ارادوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے اور اس کا احساس بھی عالمی برادری کو پہلے ہی سے تھا۔ امریکی اور کرد باغیوں کی جانب سے داعش کی شکست کا اعلان کئے جانے کے کوئی ایک مہینے بعد ہی سری لنکا میں اس گروپ نے بھیانک تباہی مچائی جس میں تین سو سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ ظاہر ہے کسی مقامی تنظیم کے تعاون سے اس طرح کے حملے آسان ہوجاتے ہیں۔ لہذا سری لنکا کی مقامی انتہاپسند تنظیم نیشنل توحید جماعت جو پہلے ہی سے وہاں سرگرم تھی، اس نے یقیناً تعاون کیا ہوگا۔ اس کے بہت سے مشتبہ افراد گرفتار بھی کئے گئے ہیں۔ اگرچہ وہاں کی کسی بھی مقامی تنظیم میں وہ دم خم نہیں تھا کہ وہ اتنا تباہ کن منصوبہ بناسکے اور نہ ہی اس نے ابھی تک ایسا کوئی حملہ کیا تھا لیکن اب یہ بات پایہ تصدیق کو پہنچ گئی ہے کہ داعش کے منحوس سائے جنوبی ایشیا کے ملکوں تک پہنچ چکے ہیں اور جہاں بھی اسے موقع ملتا ہے وہ ایسی کوئی نہ کوئی حرکت ضرور کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی اس نے اپنے قدم جمالئے ہیں۔ وہاں متعدد جہادی اور دہشت گرد گروپ پہلے ہی سے موجود ہیں جن کا اسے تعاون ملتا ہے۔ حال ہی میں اس نے ہزارا شیعوں پر کئی حملے کئے جبکہ پاکستان میں پہلے ہی سے متعدد شیعہ مخالف جماعتیں سرگرم رہی ہیں۔ جہاں تک داعش کی بات ہے تو 2015 سے ہی اس کے ہاتھوں سے وہ علاقے نکلنے لگے تھے جن پر ا س نے قبضہ کیا تھا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ جنوبی ایشیا اس کا خاص نشانہ ہے۔ مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہا میں داعش نے اپنی ایک ولایت یعنی صوبہ قائم کیا ہے اور یہیں سے وہ جنوب ایشیائی منصوبوں کو ترتیب دیتی ہے۔ اس کے تحت وہ اس علاقے میں مقامی نوجوانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرتی ہے۔ افغانستان میں اس نے ہزارا شعیوں کو اپنا خاص نشانہ بنایا۔ دوسری طرف پاکستان میں اس نے جماعت الاحرار سے رابطہ قائم کیا۔ یہ تحریک طالبان پاکستان ہی سے نکلا ہوا ایک گروپ ہے اور اسی کے ساتھ مل کر اس نے 2016 میں ایسٹر سنڈے کے موقع پر لاہور میں عیسائی فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس میں 75 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی سال یعنی 2016 میں اس نے بنگلہ دیش کے ہولی آرٹیسن بیکری پر بھی حملہ کیا تھا۔ ہندوستان میں وہ کامیاب نہیں ہوسکی لیکن بعض نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنی صفوں میں شامل ضرور کرلیا ہے۔

بعض رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ بعض مشتبہ افراد جو سری لنکا کے حملوں میں ملوث تھے، انہوں نے عراق اور سریا کا دورہ کیا تھا۔ افغانستان پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ہزاروں نوجوانوں کو اس نے اپنا ہمنوا بنالیا ہے۔ ان میں سے کچھ ننگرہار میں اس کی صفوں میں شامل ہوئے اور کچھ عراق اور سیریا بھی گئے تھے۔ اب چونکہ عراق اور سیریا میں نام نہاد خلافت کی جڑیں پورے طور پر کٹ چکی ہیں لہذا اب بہت سے تربیت یافتہ نوجوانوں کو کہیں سرچھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ بہت سے نوجوانوں نے عراق اور سیریا کے سرحدی علاقوں میں اپنی پوشیدہ پناہ گاہیں تلاش کرلی ہیں لیکن بہت سے اپنے اپنے ملکوں میں واپس بھی آچکے ہیں۔ سری لنکا میں بھی ایسے ہی دہشت گرد واپس آئے جو حالیہ حملوں میں ملوث تھے۔ اس پس منظر میں جنوبی ایشیا کے ملکوں کو ایک طرف اپنی سکیورٹی پر بھرپور توجہ دینا ہوگی دوسری طرف اس لعنت کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دینا ہوگا تاکہ مربوط انداز سے اس کا مقابلہ کیا جاسکے۔

Comments