موضوع: ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کاامکان

پاکستانی حکام کو اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی بار بار کی وارننگ کو پاکستانی حکام لگاتار نظرانداز کرتے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں کی فنڈنگ اور مالی لین دین کی روک تھام کے لئے انہوں نے کوئی ایسے مؤثر قدم نہیں اٹھائے جن سے دہشت گردوں کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر کوئی خاص اثر پڑتا۔ لیکن پاکستانی حکام کی عادت یہ ہے کہ وہ اپنی بے عملی یا لاپرواہی پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں پر اس کا الزام جڑ دیتے ہیں۔ خود پاکستان میں نہ صرف آزاد تجزیہ کار اور صحافی آئے دن اس بات کے لئے حکومت اور بالخصوص پاکستانی فوج اور ایجنسیوں پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ ان کی منفی اور تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہورہا ہے اور عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑتا جارہا ہے بلکہ اپوزیشن پارٹیاں بھی تنقید کررہی ہیں کہ دہشت گردوں کی براہ راست یا بالواسطہ حوصلہ افزائی کے باعث پاکستان کو مختلف محاذوں پر طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں نے عمران حکومت میں شامل بعض وزراء کا باقاعدہ نام لے کر یہ بتایا ہے کہ یہ وزراء ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں سے رابطے رکھتے ہیں اور ان کے جلسوں میں بھی شریک ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت ان تمام باتوں کو نظرانداز کردیتی ہے اور جب بات بگڑتی ہے اور پاکستان کو کسی سطح پر نقصان پہنچتا ہے تو وہ اپنی بے عملی اور بے حسی پر پردہ ڈالنے کیلئے سیدھے ہندوستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

مثلاً حال ہی میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ اندازہ پیش کیا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کئے جانے کے باعث سالانہ 10بلین ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور چونکہ ابھی تک دہشت گردوں کی فنڈنگ اور مالی لین دین کی روک تھام کے لئے پاکستان نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے ایف اے ٹی ایف مطمئن ہوسکے اس لئے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ وہ بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس اندیشے کے پیش نظر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ شوشہ چھوڑا کہ ہندوستان کی لوبنگ کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف یہ قدم اٹھاسکتا ہے۔ لاہور میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر قریشی نے ادھر ادھر دیکھے بغیر یہی کہا کہ یہ اندیشہ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر پیدا ہوگیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ماہرین کے ایک گروپ نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں اس کے ذمہ یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ آیا پاکستان نے ایسے قدم اٹھائے ہیں یا نہیں جن سے اندازہ ہوسکے کہ وہ ممنوعہ گروپوں کی فنڈنگ کی روک تھام کےلئے بین الاقوامی معیار کے مطابق مناسب قدم اٹھائے ہیں۔ اپنے اس تین روزہ دورے کے دوران ایف اے ٹی ایف کی علاقائی شاخ ایشیا پیسفک گروپ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ زمینی حقیقتیں بڑی مایوس کن ہیں۔ٹیم کے ممبران کے مطابق ممنوعہ تنظیموں کی نچلی اور ضلع سطح کی اکائیوں پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور وہ بڑی آزادی سے اب بھی فنڈ اکٹھا کررہی ہیں اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ میٹنگ اور ریلیوں کا بھی اہتمام کرتی ہیں گویا پاکستانی حکام کی غفلت اور بے عملی کی وجہ سے اس بات کا امکان بڑھ گیا ہےکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان بدترین قسم کے مالی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنا اس کے لئے انتہائی دشوار ہوجائےگا۔ عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نیز ایشین ڈیولپمنٹ بینک جیسے اداروں سے پاکستان کا رجوع کرنا بے حد مشکل ہوگا۔

ہندوستان کو قطعی اس بات کی خوشی نہیں ہوگی کہ پاکستان مزید مالی بحران کا شکار ہو۔ لیکن اسے اس بات کی خوشی ضرور ہوگی اگر پاکستان بین الاقوامی اداروں کی ہدایت پر عمل کرے اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل نہ ہو، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب وہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر عملاً روک لگائے اور دکھاوے کی کارروائیوں سے باز آئے۔

Comments