موضوع: سوڈان کا بحران

سوڈان میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران جتنی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اتنی تو صدر عمر البشیر کے تیس سالہ دور اقتدار میں بھی نہیں ہوئیں۔ صدر بشیر کو کئی مہینوں کے عوامی احتجاجات کے بعد اس ماہ کے اوائل میں ایک بغاوت کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کردیا گیا تھا۔ 1989 میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے عمر البشیر صدر کے عہدے پر بنے ہوئے تھے۔ ان کے دور اقتدار میں ملک کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی کے زمانے میں سوڈان میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس نے ملک کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ نتیجتاً جنوبی سوڈان نے 2011 میں آزادی حاصل کی اور سوڈان کو اپنا ایک تہائی حصہ کھونا پڑا۔اس کے علاوہ اسے تیل سے پیدا ہونے والے ریوینو کے تین چوتھائی حصہ کا بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ تقریباً دو دہائیوں تک صدر عمر البشیر دنیا سے الگ تھلگ رہے۔ اس عرصہ کو انہوں نے اپنے سیاسی فائدہ کے لئے خوب استعمال کیا۔ ان کی جو بھی ناکامیاں تھیں اس کا الزام انہوں نے اپنے غیر ملکی مخالفین پر عائد کیا۔ لیکن ان کی قمست کا فیصلہ بالآخر 11 اپریل کو ہوگیا جب فوج نے ان کا تختہ پلٹ کر فوجی عبوری کونسل قائم کردیا اور عوام سے سول انتظامیہ کے قیام کا وعدہ کیا۔ سوڈان کے زیادہ تر شہریوں کے لئے اس وقت سب سے زیادہ ضروری کام ہے اپنے انقلاب کو ان لیڈران سے محفوظ رکھنا جو اسے نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

مظاہرین کو کچھ ابتدائی کامیابیاں ضرور ملی ہیں۔ مثلاً صدر بشیر کے تختہ پلٹے جانے کے بعد جو عبوری فوجی کونسل قائم ہوئی اس کے سربراہ مظاہرین کے لئے قابل قبول نہیں تھے کیونکہ انہیں پرانی انتظامیہ کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ لہذا انہیں اپنے تقرر کے ایک دن بعد ہی مستعفی ہونا پڑا۔ لیکن اس ابتدائی کامیابی کے باوجود ملک کو کافی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لہذا اب یہ بات ضروری ہے کہ اقتدار فوج سے سول انتظامیہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ منتقل ہو تاکہ ملک جمہوریت، امن و استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ تحریک کے لیڈران سیاست سے بالکل ناواقف ہیں، ا ن کا فوج سے اقتدار حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ لہذا چیلنج اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

سوڈان اپنے پڑوسی ملک مصر اور بہت سے دوسرے ملکوں سے سبق حاصل کرسکتا ہے جہاں 2011 میں زبردست عوامی مظاہروں کے بعد فوج کو اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ اس سے عام آدمی کو بہت زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ اقتدار کی منتقلی کے وقت اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ جو بھی نئی سول انتظامیہ وجود میں آئے اس میں ان تمام طبقوں کی نمائندگی ہو، جنہوں نے البشیر کا تختہ پلٹنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بشیر حکومت کے خلاف تحریک میں نوجوانوں، عورتوں، پیشہ ور لوگوں نیز شہری اور دیہی عوام نے حصہ لیا تھا۔ جن لوگوں نے تحریک کی قیادت کی انہیں آئندہ بھی مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو سڑکوں پر مظاہرے کرتے رہنا ہوگا تاکہ فوجی انتظامیہ پر اقتدار کی منتقلی کا دباؤ بنا رہے۔ سب کی شمولیت والی حکومت میں بشیر کی نیشنل کانگریس پارٹی کے کچھ عناصر کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بات سب سے ضروری ہے کہ اقتدار کی منتقلی کسی غیر فوجی لیڈر کی قیادت میں ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ایک فوجی دوسرے فوجی کو اقتدار سونپ دے۔ آنے والے دنوں میں تحریک کے مختلف ڈھڑے ٹوٹ کر الگ ہو سکتے ہیں جس سے تشدد پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور یہی بات ملک کے استحکام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اقتدار کی منتقلی جلد سے جلد ہونی چاہیے۔ اس سے شہری اور سیاسی آزادی پر لگی پابندیاں ختم ہوجائیں گی اور نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے اور آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے میں مدد ملے گی۔

ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے علاوہ معزول صدر کے ساتھ انصاف کیا جانا بھی ضروری ہے۔ بشیر کی قسمت کا فیصلہ جو نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لئے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مطلوب ہیں، احتیاط کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔

امریکہ، یوروپ، جاپان، بھارت اور دوسرے ملکوں سمیت بین الاقوامی برادری کو سوڈان کی سویلین قیادت کو سیاسی، سفارتی اور معاشی حمایت فراہم کرکے اس ملک کی تعمیر نو میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سوڈان میں انقلاب کی بنیادی وجہ ہے ملک کی معاشی بدحالی اور اس بدحالی کو دور کرنے اور معیشت کو بحال کرنے میں سوڈان کے بین الاقوامی پارٹنرس اس کی مدد کرسکتے ہیں۔

اس وقت سوڈان کا انقلاب محفوظ نہیں ہے اور خدشہ ہے کہ ملک کی فوج اور سکیورٹی لیڈران کا ایک گروہ مظاہرین کی خواہشات پر پانی پھیرنے میں بالآخر کامیاب ہوسکتا ہے۔ تاہم ملک کے عوام نے اپنے عزم اور پرامن مظاہروں سے ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ضرور ہوں گے۔

Comments