پاکستان میں ایک سابق فوجی ڈکٹیٹر کو سزائے موت
پاکستان کی 72 سال کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی فوجی ڈکٹیٹر کو ایک خصوصی عدالت کی جانب سے آئین پاکستان سے غداری کرنے کے جرم میں سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔ حالانکہ پاکستان میں متعدد بار فوجی بغاوتیں ہوئیں اور فوجی جنرلوں نے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وہاں کی آئینی طور پر قائم ہونے والی حکومتوں کو گرا کر اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر لیا اور لمبی لمبی مدت تک عوام کو جمہوریت سے محروم رکھا۔ جنرل مشرف آخری فوجی ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے 1999 میں اس وقت کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے محروم کر دیا تھا۔صرف اتنا ہی نہیں ان پر دہشت گردی سمیت کئی طرح کے الزام لگا کر جیل میں بھی ڈال دیا تھا۔ بعد ازاں انہیں سیاست اور پاکستان سے دور رکھنے کےلئے خاندان سمیت جلا وطن بھی کر دیا تھا۔ بہرحال جنرل مشرف کا جمہوری حکومت قائم ہونے کے بعد بطور صدر مواخذہ ہونے والا تھا تو وہ مستعفی ہو گئے۔ ان کے زوال کے بعد 2008 سے پاکستان میں کوئی فوجی بغاوت تو نہیں ہوئی اگر چہ فوج کی طاقت اور بالا دستی بدستور قائم ہے۔ جنرل مشرف سے پہلے بھی تین فوجی جنرل اقتدار پر قابض رہ چکے تھے اور مجموعی طور پر پاکستان کا تین دہائی سے بھی زیادہ کا عرصہ فوجی حکمرانی میں گذرا۔ پاکستانی عدلیہ خاص طور سے وہاں کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہمیشہ فوجیوں کی غیر آئینی بغاوتوں کو ‘‘نظریۂ ضرورت’’ کہہ کر جواز عطا کیا جس کی وجہ سے پاکستانی عدلیہ ہمیشہ شک کے گھیرے میں رہی اور اس پر الزام لگتا رہاکہ یہ فوج کے خوف اور دباؤ کے تحت کام کرتی ہے یا پھر فوج کے ساتھ اشتراک و تعاون کرتی ہے۔ اس طرح کا الزام حال تک لگتا رہا جب یہ محسوس کیا گیا کہ فوج اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی آپسی رسہ کشی میں عدلیہ نے فوج کا ساتھ دیا۔ بہرحال خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلے نے ماحول کو بالکل بدل کر رکھ دیا اور ہر طرف چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔ اس فیصلے کا مختلف حلقوں کا مختلف انداز سے رد عمل بھی سامنے آیا۔ جہاں ایک طرف فوج نے کھل کر اس فیصلے پر رائے دی ہے اور سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ جس شخص نے اتنی لمبی مدت تک ایک فوجی کی حیثیت سے ملک کی خدمت کی اور صدر کی حیثیت سے حکومت بھی کی، وہ غدار تو ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس طرح کی سزا فوج کے حوصلے پست کرنے کا باعث بنے گی۔
اس طرح کی بحث میں ایک پہلو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ کسی فوجی جنرل جو بہر حال ایک سرکاری ملازم ہوتا ہے اس کے ہاتھوں کسی منتخب اور عوام کے چنے ہوئے وزیراعظم کو جو ذلت اور اذیتیں جھیلنی پڑتی ہیں، اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ سیاسی پارٹیوں کا رد عمل ملاجلا رہا ہے۔ مجموعی طور پر سیاسی حلقوں میں اطمینان محسوس کیا گیا کیونکہ ایک امید یہ پیدا ہوئی ہے کہ ممکن ہے اس فیصلے کے بعد پاکستان میں ایک نئی سوچ پیدا ہو اور حالات کچھ ایسے بن جائیں کہ ریاست کے مختلف اداروں کی طاقت کے توازن میں بہتری آئے اور سیویلین قیادت اور فوج کے درمیان جو اکثر کشیدگی کا ماحول رہتا ہے اس میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو ملے ۔ حکمراں جماعت یعنی وزیراعظم عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کو ضرور مایوسی ہوئی ہےجیسا کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے دفاعی وزیر فواد چودھری کے بیان سے ظاہر ہوا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ افسوسناک ہے۔ اس کا انصاف اور آئینی امور سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ یہ دو ا داروں کے درمیان چلی آ رہی رسہ کشی کا آئینہ دار ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ عمران خان کی کابینہ کے یہ وزیر کسی زمانے میں جنرل پرویز مشرف کے بڑے مداح تھےا ور اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز جنرل مشرف کی قائم کر دہ سیاسی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ سے کیا تھا اور جنرل مشرف کے میڈیا ترجمان بھی تھے۔ ویسے بھی عمران خان کی کابینہ میں متعدد وزراء ایسے ہیں جو مشرف کے زمانے میں بھی وزیر تھے اور ان کی فوجی وردی کی قسمیں کھاتے تھے۔
فیصلے پر کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد کیا ہوگا اور کتنی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئے گی لیکن یہ ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ فوج میں اس کا رد عمل شدید بھی ہو سکتا ہے ۔ ابھی تو صرف قیاس آرائیاں ہوتی رہیں گی لیکن کئی باتیں ایسی ہیں جو سنجیدہ حلقوں میں اس وقت بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ مثلاً ایک بات تو یہی ہے کہ خود سپریم کورٹ نے پچھلے مہینہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کی مدت ملازمت کی توسیع کے معاملہ میں جو فیصلہ سنایا تھا وہ بھی خاصا قابل توجہ تھا۔ وزیراعظم خان نے جنرل باجوا کو تین سال کاایکسٹینشن دیا ہے جبکہ ٹکنیکل بنیاد پر سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا دی ہے اور فی الحال مشروط طور پر انہیں 6 ماہ کا ایکسٹینشن دیا ہے، اس ہدایت کے ساتھ کہ اس درمیان حکومت آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیئے جانے کے سوال پر باقاعدہ پارلیمنٹ سے کوئی فیصلہ کرائے ۔ اب اس فیصلے اور خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلہ کو سامنے رکھ کر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستانی عدلیہ پاکستان میں آئین کی بالا دستی قائم کرنے کی سمت میں قدم بڑھا رہی ہے۔ لیکن ایک حلقہ یہ بھی محسوس کر رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ فوج کوئی ایسا قدم اٹھائے کہ ساری قیاس آرائیاں دھری کی دھری رہ جائیں۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
Comments
Post a Comment