موضوع: دہشت گردی آمریت اور عدلیہ کی رسہ کشی

پاکستان کے ایک مقتدر ماہر قانون اور دانش ور نے چند روز قبل ایک خدا لگتی بات کہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مذہب کے نام پر جنگ جو ئی کرنا بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہی ہے۔ یہ ماہرِ قانون اور دانش ور کوئی اورنہیں بلکہ پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس آصف سعید ہیں جو حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان کی فیڈرل جوڈیشیل اکیڈمی کے ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ جلسہ سابق فاٹا اور پاٹا میں عدالتی نظام پر جنگ جوئی کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی اور جنگ جوئی کے قہروعذاب کا خاتمہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کئی پہلوؤں والی حکمت عملی اختیار کی جائے۔انھوں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں جنگجو رویّوں اور دہشت گردانہ حرکتوں کی پوری ایک تاریخ اس جلسے میں بیان کی اور کہا کہ جنگ جوئی، دہشت گردی کی ہی دوسری شکل ہے جو مذہبی تشدد اور سیاست کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں کسی نہ کسی صورت میں زمانۂ قدیم سے چلی آرہی ہے اور عام لوگوں کو اپنا شکار بناتی رہی ہے۔ پاکستان کے چیف جسٹس نے جو کچھ اپنی تقریر میں کہا اسے اگر خود پاکستان کی فوجی یا غیر فوجی حکومتوں کی پالیسیوں کے تناظر میں سامنے رکھا جائے تو ایک عجیب، مختلف اور تکلیف دہ صورت سامنے آتی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کے پاکستان میں ہی کبھی نظامِ مصطفیٰ کے نام پر مذہبی کٹّر پن کو ہوادے کر اس وقت کے سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں مذہبی جنگ جوؤں کی مدد کی آڑ میں طالبان پیدا کیے گئے اور اوسامہ بن لادِن جیسے خوں خوار دہشت گرد سرغنہ کا ظہور ہوا۔ کبھی بھارت سے بنگلہ دیش کے قیام کا انتقام لینے کے لیے، اُسے لہولہان کردینے کے شیطانی فلسفے پر چلنے کی ترغیب دی گئی۔ کبھی کشمیر میں مذہب کی آڑ میں معصوم اور ذہنی طور پر نیم پختہ نوجوانوں کوجنگ جوئی پر آمادہ کیا گیا۔ ان کے ہاتھوں سے قلم دوات اور کتابیں چھین جھپٹ کر بندوقیں تھمادی گئیں۔ کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کے ارادے سے دہشت گرد تنظیمیں کھڑی کی گئیں۔ بھارت میں جگہ جگہ بم دھماکے اور دہشت گردانہ حملے کرائے گئے۔ مفادپرست فوجی افسروں اور جرنیلوں نے پاکستان کوالقاعدہ، لشکرِ عمر، لشکرِ طیبہ، سپاہ صحابہ، جیش العدل، البدر مجاہدین،حرکت المجاہدین اور طالبان جیسی زہریلی دہشت گرد اور جنگ جو تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بناڈالا جس کے برے نتیجے خود پاکستان کو ہی جھیلنے پڑے اور آج بھی جھیلنے پڑرہے ہیں جب کہ اس کے سر پرہر وقت بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کی تلوارلٹکی رہتی ہے۔ بھارت کو لہولہان کرکے موت کے حوالے کردینے کامکروہ شیطانی نظریہ جو کچھ حد تک احمقانہ بھی تھا، جب پوری طرح ناکام رہاتو دہشت گرد گروہ بے روزگاری کا شکار ہونے لگے۔ خالی پڑے پڑے کیا کرتے۔ پاکستانی فوجیوں کے پیدا کیے ہوئے دہشت گردوں نے اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے خود پاکستانی عوام کو ہی نشانہ بنانا شروع کردیا۔اسکولوں میں، مسجدوں میں، مسلم زیارت گاہوں میں اور دوسرے مقامات ہر ہزاروں معصوم پاکستانی عوام کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ زندہ جسموں کے چیتھڑے اڑادیے گئے۔ بچّوں اور عورتوں تک کو نہیں بخشا گیا۔عیسائیوں اوراحمدی فرقے کے مسلمانوں جیسے اقلیتی افراد پر ظلم ڈھائے گئے۔ شکر ہے کہ آخرکارپاکستانی عوام کی سمجھ میں یہ بات آگئی کے ان کے فوجی جرنیلوں نے پوری قوم کو دہشت، نفرت اور تشدد کی کس آگ میں جھونک دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے مذہبی جنگ جوئی کو دہشت گردی کی ہی ایک شکل قراردینے والی جو بات کہی ہے اسے مذہبی کٹّرپن، مذہبی عقائد کے بے جا استحصال و استعمال اور مذہب کے نام پر انسانوں کو بانٹنے کے خلاف اُس عدالتی فرمان کی صورت میں دیکھا جانا چاہیے جو کسی کورٹ کچہری میں کسی جج نے نہیں بلکہ مہذب شعور کی عدالت میں مہذب انسانی ضمیر نے صادر کیا ہے۔ دنیا بھر میں بلا لحاظِ مذہب و ملّت ہر طرف امن کی خواہش اورہمسایوں کے ساتھ خیر سگالی کے جذبات رکھنے والے پاکستانی عوام کو چیف جسٹس آف پاکستان کے اس بیان سے یقیناً نظریاتی تقویت ملے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ