سعودی-قطر تعلقات میں گرم جوشی کے اشارے
خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کی 40 ویں سربراہ میٹنگ کے بعد سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے کچھ کم ہونے کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں جو سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کے بعد پیدا ہوگئی تھی۔ ان چاروں ملکوں نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنے کا الزام لگاکر اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ ریاض میں خلیج تعاون کونسل کی سربراہ میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو ذاتی دعوت نامہ بھیجا تھا۔ اس کے جواب میں قطر نے سربراہ میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے اپنے وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر الثانی کو ریاض روانہ کیا۔ قطر کی جانب سے سنہ 2017 کے بعد سے یہ سب سے اعلی نمائندگی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اسی سال قطر سے ملی 61 کلو میٹر لمبی سرحد پر سعودی عرب نے 200میٹر چوڑی نہر کھود کر قطر کو عرب جزیرۂ نماسے علاحدہ کرکے ایک جزیرہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔
ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کی جانب سے مثبت اقدامات کے باعث دونوں کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہورہی ہے۔ اس سال کے اوائل میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد جو ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی اس میں شرکت کرنے کے لیے قطر کے وزیر اعظم نے ریاض کا دورہ کیا۔ سعودی عرب کی خفیہ سروس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ دوحہ میں گلف کپ فٹبال ٹورنامنٹ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی شرکت اس بات کی طرف صاف اشارہ کرتی ہے کہ یہ تینوں ممالک قطر کے ساتھ رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔ آرامکو(ARAMCO) پر حملے کے بعد سعودی عرب کی تیل کی پیداوار میں کافی کمی آگئی تھی اس لیے ہوسکتا ہے کہ اسی وجہ سے ریاض کے موقف میں نرمی دیکھنے کو ملی۔ اس کے علاوہ علاقہ کے حالات خاص طور پر آرامکو پر ہوئے حملوں کے تئیں امریکہ کی سرد مہری کے باعث بھی ریاض نے واشنگٹن پر انحصار کم کرکے خلیجی ملکوں کے درمیان اتحاد پر زور دینا شروع کیا جس کی عکاسی اس سال کی خلیج تعاون کونسل کی سربراہ میٹنگ کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں ہوتی ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ قطر کا بحران مستقبل قریب میں ختم ہوجائے گا کیوں کہ اس کے خلاف متحدہ عرب امارات کا موقف ابھی بھی بہت سخت ہے اور اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ متحدہ عرب امارات اپنے موقف میں جلد کوئی تبدیلی لائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے بحران کے لیے قطر کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس بحران کا حل وہی نکال سکتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قطر کے بحران کے حل کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد الخلیفہ نے سربراہ میٹنگ میں قطر کے امیر کی غیر حاضری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قطر سعودی عرب کی قیادت والے بلاک کے ساتھ تنازعات ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
بہرحال قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے یہ بات دہرائی کہ ان کا ملک آپسی احترام کی بنیاد پر غیرمشروط بات چیت میں شامل ہوناچاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت سے قبل تمام متعلقہ ملکوں کو وعدہ کرناہوگا کہ وہ ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ قطر کے امیر نے جذبۂ خیرسگالی کے تحت متحدہ عرب امارات کے صدر شیح خلیفہ بن زید النہیان کو ان کے بھائی شیخ سلطان کی وفات پر تعزیتی پیغام بھی بھیجا۔ انہوں نے ایک ہینڈ بال گیم میں بھی شرکت کی جس میں بحرین نے بھی حصہ لیا تھا۔ اس طرح کی باتیں روایتی عرب کی دنیا میں کافی اہمیت رکھتی ہیں۔
ہندوستان نے قطر کے بحران کے حل کے لیے ہمیشہ زور دیا ہے۔ کیوں کہ بحران کا حل خلیج فارس کے امن وسلامتی اور استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں تین اعشاریہ دو ملین اور قطر میں صفر اعشاریہ چھ ملین ہندوستانی موجود ہیں۔ ہندوستان کو ان دونوں ملکوں میں موجود اپنے شہریوں کی بھی فکر ہے۔تجارت، توانائی،زرمبادلہ اورسفرحج کے نقطۂ نظر سے سعودی عرب ہندوستان کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے جب کہ قطر وہ واحد ملک ہے جس کے ساتھ ہندوستان کا توانائی کی درآمدات سے متعلق کافی لمبی مدت کا معاہدہ ہے۔ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے جب قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے تو ہندوستان نے ایک متوازن موقف اختیار کیاتھا۔ نئی دہلی نے ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ تمام متعلقہ ملکوں کو آپسی احترام کی بنیاد پر تعمیری مذاکرات کے ذریعہ آپسی اختلافات دور کرنا چاہیے۔ قطر کے بحران کا حل علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے بہت ضروری ہے اور سعودی-قطر تعلقات میں یہ گرم جوشی علاقہ نیز ہندوستان کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
Comments
Post a Comment