ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے دہشت گردوں کی فنڈنگ کے سوال پرمزید وضاحت کامطالبہ
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، کے مصداق کافی لمبے انتظار کے بعد ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے خلاف مقدمہ لاہور کی دہشت گردی مخالف عدالت میں چند روز قبل شروع ہوا۔ حافظ سعید کے خلاف کئی طرح کے مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے فنڈ فراہم کرنے کامعاملہ بھی شامل ہے ۔ یاد رہے کہ حافظ سعید اور ان کے گروپ کو اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کی جانب سے عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اورایک لمبے عرصہ سے عالمی برادری کی طرف سے پاکستان پر زبر دست دباؤ پڑتا رہا ہے کہ حافظ سعید اور ان کی مشتبہ اور ممنوعہ جماعتوں اور تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے اور قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید اور ان کے کئی اہم معاونین ۔ عبد السلام بن محمد ، محمد اشرف ا ور ظفر اقبال کے خلاف دہشت گردی کے لئے فنڈ فراہم کرنے کے معاملے میں فرد جرم 11 دسمبر کو عائد کی ۔ اس سلسلے میں پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے عدالت میں ایک گواہ پیش کیا ۔ سماعت کے بعد عدالت کے ایک افسر نے پریس والوں کوبتایا کہ گواہ نے حافظ سعید اور ان کے تینوں معاونین کے خلاف اپنا بیان درج کرایا ۔فرد جرم عائد کئے جانےکے بعد عدالت کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی تھی کہ لگا تار اور سلسلہ وار طور پر سماعت ہوگی لیکن درمیان میں کارروائی میں وکیلوں کی ملک گیر پیمانے کی اسٹرائک کے باعث رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔
بہر حال ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل آف پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید او ران کے دوسرے ساتھی دہشت گردی کے فروغ کے لئے فنڈ مہیا کرانے کی سر گرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور اس سلسلے میں پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یاد رہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے حافظ سعید اور ان کے معاونین کے خلاف دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے 23 معاملات میں صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ حافظ سعید کو 17 جولائی کو گرفتار کیاگیا تھا اور اس وقت وہ لاہور کی کورٹ لکھپت جیل میں بند ہیں۔ ان کی سر براہی میں چلنے والی تنظیم جماعت الدعوہ کو لشکر طیبہ کی فرنٹ تنظیم بتایا جاتا ہے ۔لشکر طیبہ نے ہی 2008 میں ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی پر حملہ کر کے 166 افراد کو قتل کیا تھا جن میں 6 امریکی شہری بھی شامل تھے۔
فی الحال کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حافظ سعیداور ان کے معاونین کے خلاف سنجیدہ قانونی کارروائی ہو رہی ہے۔ اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی پیمانے پر پاکستان پر زبر دست دباؤ پڑ رہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ممنوعہ تنظیموں اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ خاص طور سے کثیر قومی واچ ڈاگ ایف اے ٹی ایف نے بار بار پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق سر گرمیوں پر قابو پانے کے لئے سخت ترین کارروائی کرے۔ ٹاسک فورس نے پاکستان کو اس بات کی دھمکی دی ہے کہ آنے والے فروری کے مہینہ تک اگر اس نے مطلوبہ کارروائی نہیں کی تو اسے قطعی طور پر بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ اس سے پہلے اسے گذشتہ اکتوبر تک کا موقع دیا گیا تھا لیکن اس وقت تک پاکستان نے خاطر خواہ کا رروائی نہیں کی تھی اس لئے مزید چند ماہ کی توسیع کی گئی تھی اور یہ ڈیڈ لائن بھی فروری میں ختم ہو جائے گی۔ حافظ سعید کے خلاف جو کارروائی شروع ہوئی ہے اس کی بھی سب سے بڑی وجہ ایف اے ٹی ایف کے سخت تیور ہی ہیں۔ ورنہ پاکستان نے حافظ سعید اور لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کرنے میں ہمیشہ سست روی اور غیر سنجیدہ رویوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس کا سب سے بڑا ثبوت تو یہی ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث جن دہشت گروں کے خلاف پاکستان کی ایک عدالت میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے اس کی کارروائی ابھی تک آگے نہیں بڑھی اور گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے صرف ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے ۔
ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک تازہ خبر یہ ہے کہ اس نے پاک سے یہ کہا ہے کہ وہ ان مدرسوں کے بارے میں پوری پوری جانکاری ا ور اعداد و شمار پیش کرے جوممنوعہ تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ بتائے کہ ان کے خلاف اس نے کیا قدم اٹھائے ہیں۔ اس سے چند ہفتے قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو ان اقدامات کی رپورٹ پیش کی تھی جو اس نے دہشت گردی اورمنی لانڈرنگ کی روک تھام کےلئے کئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کوپاکستان نے جورپورٹ پیش کی ہے اسکے بارے میں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہے اور اسی لئے اس نے نہ صرف مزید وضاحت طلب کی ہے بلکہ رپورٹ کےجواب میں ایف اے ٹی ایف جوائنٹ گروپ نے پاکستان کو 150 سوالات کی ایک فہرست پیش کی ہے جن کے تحت اس نے تفصیلی معلومات حاصل کرنا چاہی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اب عالمی ادارے پاکستان کی سست روی اور ٹال مٹول کی حکمت عملی کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکتے۔ وہ پاکستان کو عملی اقدامات کے لئے مجبور کرنا چاہتےہیں،جسے نظر اندازکرنا اب پاکستان کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔
بہر حال ڈپٹی پروسیکیوٹر جنرل آف پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید او ران کے دوسرے ساتھی دہشت گردی کے فروغ کے لئے فنڈ مہیا کرانے کی سر گرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور اس سلسلے میں پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یاد رہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے حافظ سعید اور ان کے معاونین کے خلاف دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے 23 معاملات میں صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ حافظ سعید کو 17 جولائی کو گرفتار کیاگیا تھا اور اس وقت وہ لاہور کی کورٹ لکھپت جیل میں بند ہیں۔ ان کی سر براہی میں چلنے والی تنظیم جماعت الدعوہ کو لشکر طیبہ کی فرنٹ تنظیم بتایا جاتا ہے ۔لشکر طیبہ نے ہی 2008 میں ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی پر حملہ کر کے 166 افراد کو قتل کیا تھا جن میں 6 امریکی شہری بھی شامل تھے۔
فی الحال کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حافظ سعیداور ان کے معاونین کے خلاف سنجیدہ قانونی کارروائی ہو رہی ہے۔ اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی پیمانے پر پاکستان پر زبر دست دباؤ پڑ رہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ممنوعہ تنظیموں اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ خاص طور سے کثیر قومی واچ ڈاگ ایف اے ٹی ایف نے بار بار پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق سر گرمیوں پر قابو پانے کے لئے سخت ترین کارروائی کرے۔ ٹاسک فورس نے پاکستان کو اس بات کی دھمکی دی ہے کہ آنے والے فروری کے مہینہ تک اگر اس نے مطلوبہ کارروائی نہیں کی تو اسے قطعی طور پر بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ اس سے پہلے اسے گذشتہ اکتوبر تک کا موقع دیا گیا تھا لیکن اس وقت تک پاکستان نے خاطر خواہ کا رروائی نہیں کی تھی اس لئے مزید چند ماہ کی توسیع کی گئی تھی اور یہ ڈیڈ لائن بھی فروری میں ختم ہو جائے گی۔ حافظ سعید کے خلاف جو کارروائی شروع ہوئی ہے اس کی بھی سب سے بڑی وجہ ایف اے ٹی ایف کے سخت تیور ہی ہیں۔ ورنہ پاکستان نے حافظ سعید اور لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کرنے میں ہمیشہ سست روی اور غیر سنجیدہ رویوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس کا سب سے بڑا ثبوت تو یہی ہے کہ ممبئی حملوں میں ملوث جن دہشت گروں کے خلاف پاکستان کی ایک عدالت میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے اس کی کارروائی ابھی تک آگے نہیں بڑھی اور گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے صرف ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے ۔
ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک تازہ خبر یہ ہے کہ اس نے پاک سے یہ کہا ہے کہ وہ ان مدرسوں کے بارے میں پوری پوری جانکاری ا ور اعداد و شمار پیش کرے جوممنوعہ تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ بتائے کہ ان کے خلاف اس نے کیا قدم اٹھائے ہیں۔ اس سے چند ہفتے قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو ان اقدامات کی رپورٹ پیش کی تھی جو اس نے دہشت گردی اورمنی لانڈرنگ کی روک تھام کےلئے کئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کوپاکستان نے جورپورٹ پیش کی ہے اسکے بارے میں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہے اور اسی لئے اس نے نہ صرف مزید وضاحت طلب کی ہے بلکہ رپورٹ کےجواب میں ایف اے ٹی ایف جوائنٹ گروپ نے پاکستان کو 150 سوالات کی ایک فہرست پیش کی ہے جن کے تحت اس نے تفصیلی معلومات حاصل کرنا چاہی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اب عالمی ادارے پاکستان کی سست روی اور ٹال مٹول کی حکمت عملی کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکتے۔ وہ پاکستان کو عملی اقدامات کے لئے مجبور کرنا چاہتےہیں،جسے نظر اندازکرنا اب پاکستان کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔
Comments
Post a Comment