آب و ہوا سے متعلق کانفرنس بغیر اتفاق رائے کے اختتام پذیر
اسپین کی راجدھانی میڈرڈ میں آب و ہوا سے متعلق جو کانفرنس ہوئی وہ کم وبیش دو ہفتہ پر محیط تھی۔ اقوام متحدہ کے اہتمام میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں اور توقع کی جا رہی تھی کہ 2015 میں پیرس کانفرنس میں جو سمجھوتہ ہوا تھا اس پر عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے مزید اقدامات کئے جائیں گے تاکہ ماحولیات کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے مزید موثر پروگرام ترتیب دیئے جا سکیں ۔ لیکن وہاں سے اقوام عالم کو جو پیغام گیا وہ خاصا مایوس کن تھا۔ اس بار کانفرنس کو کاپ 25 کا نام دیا گیا تھا۔ اس پروگرام کی کار کردگی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتاہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے ممبر ممالک کو اس بات پر مائل کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی کہ اسکانرنس کے توسط سے اونچے نشانے طے کئے جائیں گے تاکہ پیرس سمجھوتے کی اسپرٹ کے مطابق کام آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے بڑی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘‘میں کاپ 25 کے نتیجہ سے مایوس ہوا ہوں کیونکہ بین الاقوامی برادری نے اتنا اہم موقع گنوا دیا‘‘۔کم و بیش200 ملکوں میں سے صرف73 نے قدم آگے بڑھائے اور اس بات کا رسمی طور پر عزم کیا کہ وہ گیس کے اخراج کا 2020 فیصد نشانہ پورا کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عالمی پیمانے کا نشانہ پورا کرنے کا جو ممکنہ نشانہ تھا اس کا ان ملکوں کے ذریعہ 13 فیصد حصے کا ہی احاطہ ہو سکتا ہے ۔لیکن یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ اس سلسلے میں اونچے عزائم کے حامل ملکوں میں بیشتر ترقی پذیر ممالک ہیں یا پھر وہ ممالک ہیں جو آئی لینڈکے زمرے میں آتے ہیں۔ جن کے اخراج کی شرح ویسے بھی برائے نام رہتی ہے ۔ سب سے زیادہ کاربن کے اخراج والا ملک امریکہ ہے ۔ اس کے بعد چین اور ہندوستان ہیں۔ لیکن جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے تو اس نے اپنے ارادے پورے طور پر ظاہر کر دیئے ہیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ پیرس سمجھوتے کے مطابق وہ اپنا نشانہ پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور 20-23 تک جب نئے سرےسے نشانہ طے کرنے کا جائزہ لیا جائے گا تو وہ مزید عزائم کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
اس کانفرنس میں اس حد تک پیش رفت ضرور ہوئی کہ 2015 میں جس عزم کا اظہار کیا گیا تھا اور اس کے مطابق جو نشانہ طے کیا گیا تھا اس میں تھوڑی کاٹ چھانٹ کے بعد اگلے سال تک کے لئے اتفاق رائے سے ایک نیا نشانہ طے کیا گیا لیکن 197 ممالک کے درمیان جو تفصیلی بات چیت ہوئی وہ اتفاق رائے پیدا کرنے میں نا کام رہی کہ کاربن مارکیٹ کے لئے ضابطے وضع کئے جائیں جس کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ پیچیدہ اور الجھے ہوئے ایشوز کا کوئی حل ہی نہ تلاش کیا جا سکا۔ قطعی اعلانیہ میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ گرین ہاؤس گیسز میں تخفیف کرنے کا نشانہ 2025 کے پیرس سمجھوتے کے خطوط پر طے کیا جانا چاہئے جو بے حد ضروری ہے ۔ مالیہ کی فراہمی کا طویل مدتی معاملہ بھی خاصا الجھا ہوا نظر آیا حالانکہ اس معاملہ پر کافی لمبی بحث چلی جس پر مقررہ وقت سے پورے 43 گھنٹے زیادہ صرف ہوئے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کانفرنس کے صدر نے اس معاملے کو آئندہ سال کی کانفرنس تک کے لئے ٹال دیا۔ یعنی یہ پوری بحث بے نتیجہ رہی۔ اس غیر اطمینان بخش کار کردگی کا اظہار کاپ25 کی صدر کیرولین شمٹ کے اس تبصرے میں بھی ہوا۔ یاد رہے کہ میڈم کرولین چلی کی وزیر ماحولیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا گر کاربن مارکیٹ سے متعلق معاملہ طے ہو جاتا تو ہمیں آگے بڑھنے میں بڑی کامیابی مل جاتی ۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم اتفاق رائے قائم نہیں کر پائے۔ اپنی اختتامی تقریر میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ ہم تو سمجھوتے کے قریب بھی نہیں پہنچ پائے۔
اس کانفرنس کے تعلق سے سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ تمام خصوصی کوششیں رائیگاں گئیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بہ نفس نفیس کافی دلچسپی لی اور تمام ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ اس مسئلہ کو وقت کا سنگین ترین مسئلہ تصور کر کے آگے بڑھیں۔ کانفرنس کے لئے 12 دن کا وقت مقرر کیا گیا تھا اس میں مزید دو دن جوڑے گئے لیکن بات پھر بھی اتفاق رائے تک نہ پہنچ سکی۔ پیرس سمجھوتہ نے آب و ہوا کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے بہت ہی جامع منصوبہ ترتیب دیا تھا جس کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک 105 ڈگری سیلسیس تک درجہ حرارت کے اضافے کو روکنا تھا لیکن حال میں اختتام پذیر ہونے والی کانفرنس سے قدرے مایوسی ہوئی اور معاملہ اگلی کانفرنس تک کے لئے ٹل گیا۔ اگلے سال یہ کانفرنس گلاسگو میں منعقد ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک کو سب سے زیادہ تشویش لاحق ہے کیونکہ گیس کے اخراج کا سب سے زیادہ خراب اثر انہی ممالک پرپڑ رہا ہے۔ بیشتر ملکوں کو یہ شکایت ہے کہ ماحولیات جن ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے بطور خاص خراب ہوئی وہ اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہے ہیں۔
*****
Comments
Post a Comment