ایغور مسلمانوں سے متعلق حقائق لیک ہونے کے بعد چین کی جانب سے رکارڈ تباہ کرنے کی کوشش 


گزشتہ ماہ نیو یارک ٹائمز نے ایغور مسلمانوں پر ہونے والی زیادتی اور انسانی حقوق کی پامالی پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس میں دستاویزی ثبوت کے حوالے سے یہ کہا گیا تھا کہ چین کے صوبۂ شی جیانگ میں جہاں ایغور مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے اور جہاں ان پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ لمبے عرصے جاری ہے وہاں کے حقائق کی پردہ پوشی کے لئے اعلیٰ چینی حکام نے کچھ ایسی ہدایات مقامی انتظامیہ کے نام جاری کی تھیں جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ حقائق کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔

دراصل صوبۂ شی جیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف ایک لمبے عرصے سے سخت قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر کے میڈیا میں اس بات کا چرچہ رہا کہ حکومت چین نے دس لاکھ سے زیادہ ایغور اور بعض دوسری نسل کے مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے۔ اس پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ہوئے اور اقوا م متحدہ نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیا اور اس کی مذمت کی ۔ چین کی جانب سے ہمیشہ حقائق کو جھٹلانے کی کوشش ہوتی رہی لیکن گزشتہ ماہ کچھ ایسے ثبوت سامنے آئے، جسے جھٹلانا چینی حکام کے لئے آسان نہیں تھا۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں یہ حقیقت طشت ازبام کی گئی تھی کہ ہانگ کانگ میں صوبۂ شی جیانگ کے زیر تعلیم طلبا نے اپنے وطن جانے کا پروگرام بنایا اور ٹکٹ بک کرائے۔ اس پر چین کو فکر لاحق ہوئی کہ اس صورت میں تو اس حقیقت کو دبانا بہت مشکل ہوجائے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں ایغور مسلمانوں کو ڈٹنشن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ چینی حکام نے شی جیانگ کے متعلقہ افسران کے نام یہ ہدایت جاری کی کہ شی جیانگ واپس جانے والے طلبا جب یہ جاننا چاہیں کہ ان کے خاندان کے افراد اور پڑوسی اچانک کہاں چلے گئے تو انہیں یہ بتایا جائے کہ وہ بالکل محفوظ ہیں اور انہیں ٹریننگ اسکولوں میں ٹریننگ کے لئے بھیجا گیا ہے۔ وہ خیریت سے ہیں اور وہ کوئی مجرم نہیں ہیں لہٰذا ان طلبا کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ بات جب لیک ہوگئی اور اس کا ناقابل تردید ثبوت جب سامنے آیا تو چینی حکام کو خاصی پریشانی ہوئی۔ ان کی آپس میں کئی میٹنگیں ہوئیں اور صوبائی افسروں اور متعلقہ صوبے کی کمیونسٹ پارٹی کے ذمہ دار لوگوں سے کہا گیا کہ وہ پوری مستعدی سے ان باتوں کو جھٹلانے کی کوشش کریں جو کسی وجہ سے لیک ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا کام تو یہ کیا گیا کہ ان تمام کاغذات اور دستاویزات کو جلانے اور ڈلیٹ کرنے کی کوشش کی گئی جو لیک ہوئے تھے۔ لیکن کسی بھی حقیقت کو سرے سے جھٹلانا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ کاغذات جلانے اور ریکارڈ ضائع کرنے کے عمل میں بھی بہت سی باتیں ایسی ہوگئیں جن پر پردہ ڈالنا ناممکن ہوگیا ۔ عالمی خبر رساں ایجنسیاں اور صحافی بھی کچھ ایسی تکنیک سے واقف ہوتے ہی ہیں جو ان کے پیشے اور فرائض سے جڑے ہوتے ہیں اور وہ ہر حال میں حقیقت کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں سو شی جیانگ کی راجدھانی میں انہوں نے حقائق کو جاننے کی کوشش کی ۔ بہت قریبی ذرائع کے توسط سے انہوں نے متاثرہ افراد سے رابطہ قائم کرلیا جو سرکاری اہلکاروں کے بھی قریب رہے ہیں۔ متعدد افراد نے بہت ساری راز کی باتیں بتائیں۔ لیکن انہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی معقول وجوہ بھی ہیں۔ ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ان کے گھر کے لوگوں کو پریشان کیا جاسکتا ہے اور وہ سرکاری اہلکار بھی نشانہ بن سکتے ہیں جو ایسے لوگوں کے رابطے میں ہوتے ہیں۔ چینی حکام نے یہ بات اچھی طرح محسوس کر لی ہے کہ وہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کی جتنی بھی کوششیں کریں وہ سب رائیگاں ہوجائیں گی کیونکہ سب کچھ دن کے اجالے کی طرح روشن ہوگیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے اور کچھ تو کہتے نہ بنا سوا اس کے کہ اس طرح کی رپورٹیں شائع کرنا چین کو بدنام کرنے کی کوشش ہے،جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے پورے طور پر خاموشی اختیار کرلی۔ دوسری طرف شی جیانگ کی مقامی انتظامیہ نے اور سخت پابندیاں عائد کردی ہیں اور اطلاعات پر تو پہلے ہی سے قدغن ہے۔ البتہ مزید سختیاں مسلط کردی گئی ہیں۔ ایک آدھ واقعے کی بنیاد پر بعض ایغور مسلمانوں کو مشتبہ دہشت گرد تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن دس گیارہ لاکھ کی آبادی کو مشتبہ سمجھنا اور انہیں ڈٹنشن سینٹر میں رکھنا عقل وفہم سے بالاتر ہے۔ بلاشبہ چند سال قبل صوبۂ شی جیانگ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب دہشت گردانہ حمل ہوا تھا ۔ کچھ لوگ اس میں یقیناً ملوث رہے ہوں گے۔ ان کو سزا ملنی چاہئے لیکن چند غلط کارافراد کی جانب سے سرزد ہونے والے جرم کی پاداش میں پورے ایک فرقہ یا نسل کو مشتبہ سمجھنا اور لاکھوں افراد کو حراستی کیمپوں میں رکھنا انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ چین کے پاس اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ