امریکہ-طالبان امن مذاکرات سے متعلق شکوک وشبہات

ایک بار پھر یہ خبر گرم ہے کہ دوحہ میں امریکی اور طالبان کے نمائندوں کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ ہفتہ شروع ہوگیا ہے۔ جہاں تک افغانستان میں قیام امن کی بات ہے تو کون ہے جونہیں چاہتا کہ اس شورش اور جنگ زدہ ملک میں پائیدار نوعیت کا امن قائم ہونا چاہئے ۔ کیونکہ قریب چار دہائیوں سے وہاں کے عوام امن کے انتظار میں ہیں۔ لمبے عرصہ تک انہوں نے صرف موت کا ناچ ، خلفشار، کشت وخون اور کوڑے برسائے جانے کے واقعات کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔ 11/9 کے دہشت گردانہ حملے کے بعد وہاں امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تھی۔ القاعدہ کے خلاف کارروائیاں تو ہوئیں لیکن انہیں پناہ دینے والی طالبان انتظامیہ بھی زمیں بوس ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد وہاں آئینی حکومت کا سلسلہ بھی شروع ہوا لیکن افغانستان کے امن کے متلاشی امن پسند شہریوں کو چین کے لمحات کم ہی نصیب ہوئے۔ چند سال قبل امریکہ کی قیادت والی فوجوں کی بڑی تعداد افغانستان سے واپس چلی گئی لیکن اس کے بعد افغانستان میں تشدد اور طالبان کے حملوں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ہر روز انسانی جسموں کے چیتھڑے فضا میں اڑتے نظر آئے۔ اس میں امریکی فوجیں بھی نشانہ بنتی تھیں اور افغانستان کی سیکوریٹی فورسز، پولیس اہلکار اور سرکاری ملازم اور تنصیبات بھی! اور ساتھ ہی ساتھ عورتوں اور بچوں سمیت عام معصوم شہری بھی۔

طالبان کے پاس ہر مرض کی ایک ہی دوا تھی۔ تشدد، تخریب اور انسانی جانوں کا زیاں! وہ نہ تو افغانستان کے موجودہ آئین کو مانتے ہیں اور نہ حکومت کو! وہ افغان نمائندوں سے بات یا صلح صفائی کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے لیکن امریکہ سے بات کرنے میں کوئی پس وپیش نہ تھا۔ لیکن کافی پس وپیش کے بعد امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان سے بات چیت کرنے کی بات مان لی اور ایک افغان نژاد امریکی سفارت کار کو طالبان سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بات چیت شروع ہوئی لیکن سمجھوتے کے قریب پہنچ کر اچانک صدر ٹرمپ نے بات چیت کے پورے عمل کو مسترد کردیا کیونکہ طالبان والے تشدد کا کھیل بند ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اور اب یہ خبر ملی ہے کہ دوبار ہ بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کہاں تک پُرامید ہیں یہ تو نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن طالبان کی منطق، اس کے ارادوں اور اس کے طریقہ کار کواچھی طرح سمجھنے والے حلقے قطعی پُرامید نہیں ہیں کہ طالبان تشدد کا راستہ ترک کریں گے یا افغانستان میں امن کی فضا قائم کریں گے۔ خود امریکہ میں کم ہی لوگوں کو یہ امید ہے کہ افغانستان میں اس وقت تک امن قائم ہوسکے گا جب تک کہ پاکستان، طالبان کی پشت پناہی اور حمایت کرتا رہے گا۔ ابھی چند روز قبل ہی امریکی سینیٹ کے ایک ممتاز رکن لنڈسے گراہم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں امن اسی صورت میں قائم ہوسکتا ہے جب پاکستان اپنا رشتہ طالبان سے توڑے۔ یعنی پاکستان میں جو طالبان کی پناہ گاہیں ہیں انہیں مسمار کردے۔ انہوں نے بڑے ہی واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو چند ہفتوں ہی میں افغانستان میں امن قائم ہوسکتا، بس پاکستان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ طالبان کی پشت پناہی کرنا بند کردے۔ واضح رہے کہ مسٹر لنڈسے گراہم ریپبلکن پارٹی کے رکن ہیں یعنی خود اس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو صدر ٹرمپ کی پارٹی ہے۔ ظاہر ہے صرف وہی اس خیال کے حامی نہیں ہونگے بلکہ دونوں امریکی سیاسی پارٹیوں کے بہت سے ممبران ان کے ہم خیال ہونگے۔ ان کا مشورہ امریکی حکومت کو یہ ہے کہ امریکہ طالبان کے بجائے پاکستان سے بات کرے کہ وہ طالبان کو لگام دے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو افغانستان میں یقیناً امن قائم ہوسکتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ کم وبیش یہی خیال افغان حکومت اور وہاں کے امن پسند شہریوں کا بھی ہے کیوں کہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ افغانستان میں امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی طاقتیں پاکستان کے اشارے پر کام کرتی ہیں۔ افغان کی حکومت اور وہاں کی ایجنسیوں نے متعدد بار پاکستان سے یہی کہا ہے اور اب بھی ان کا یہی خیال ہے۔

بہرحال، ان تمام باتوں سے قطع نظر اگر بات چیت شروع ہو ہی چکی ہے تو اس بات کا انتظار کرنا پڑے گا کہ اس کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ البتہ امن پسند حلقے یہی چاہیں گے کہ بات چیت کا میاب ہو اور افغانستان میں دیرپا امن قائم ہوتاکہ افغانستان کے عوام کو دہائیوں کی تاریک رات طے کرنےکے بعد صبح امید کی جھلک دیکھنا نصیب ہو!

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ