پاک عدلیہ کی، فوج اور حکومت کی جانب سے تنقید:بلی تھیلے سے باہر
پاداش بخیر! یہ دو دہائی سے بھی کچھ اوپر کی بات ہے ۔1999 میں جنرل پرویز مشرف نے جب نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور جب بہت سی سیاسی پارٹیوں نے مل کر بحالیٔ جمہوریت کے لئے ایک نئی تحریک کی داغ بیل ڈالی تھی تو اس وقت ایک بزرگ اور منجھے ہوئے پاکستانی سیاست داں نصر اللہ خان نے کہا تھا کہ جنرل مشرف پاکستان کے آخری فوجی ڈکٹیٹر ثابت ہوں گے اور پہلے غاصب فوجی جنرل جن پر کھلی ہوئی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ کم از کم مرحوم نصر اللہ خان کی اتنی بات تو درست ثابت ہوئی کہ جنرل مشرف پر ایک سیول عدالت میں غداری کے مقدمے کی سماعت ہوئی اور سزا بھی ہوئی اگرچہ یہ سزا ان کے غاصبانہ قبضے یا فوجی بغاوت کی پاداش میں نہیں ہوئی بلکہ 2007میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین کو معطل کرنے کی بنا پر ہوئی۔ بہرحال سزا تو ہوئی او رپاکستانی عدالت کی طرف سے یہ پہلی مثال ہے کہ کسی غاصب ڈکٹیٹر کو سزا سنائی گئی ورنہ اس سے پہلے فوجی جنرلوں کے ہاتھوں سیویلین حکمرانوں کو معزول، ذلیل ، جلا وطن اور پھانسی تک دئیے جانے کی مثالیں یکے بعد دیگرے آتی رہیں جن پر پاکستانی عدلیہ ہمیشہ خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ بہرحال یہ پہلی مثال ہے جس میں عدلیہ نے اپنے سابقہ ریکارڈ سے انحراف کرتے ہوئے ایسا فیصلہ سنایا ہے۔ اس پر فوج نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے وہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ ظاہر ہے فوجی ٹولہ پاکستانی عدلیہ سے اس طرح کے فیصلے سننے کا عادی نہیں تھا لہٰذا اس کا چراغ پاہونا ایک فطری بات لگتی ہے۔ لیکن عمران خان کی حکومت جنرل مشرف کے خلاف سزا سنائے جانے پر اتنی کبیدہ خاطر ہوگی اس کی امید نہیں تھی کیونکہ خود عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے زبردست حامی تھے اور ان کا موقف تھا کہ اس معاملہ میں کوئی سمجھوتہ بازی نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن بڑی حیرت ہوئی جب ان کی کابینہ کے متعدد وزراء عدالت کو بدنام کرنے میں جٹ گئے۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے وزیر فواد چودھری نے عدالت کے فیصلے کو غلط قرار دیا۔ چند روز قبل وزیرقانون فروغ نسیم نے تو یہاں تک کہا کہ یہ فیصلہ جس جج نے لکھا تھا وہ دماغی طور پر صحت مند نہیں ہے۔ وہ اس لائق نہیں ہے کہ اپنی عدالتی ذمہ داریاں نبھا سکے ، لہٰذا اس سے یہ کام چھین لینا چاہئے۔ ایسے تبصرے اس سیاست داں کی کابینہ کے وزراء کر رہے ہیں جو حکومت میں آنے سے پہلے ‘‘نیا پاکستان’’ کا نعرہ لگاتے تھے۔ شفافیت ، ایمانداری اور انصاف پسندی کی باتیں کرتے تھے۔ دراصل عمران خان اپنی وزرات عظمیٰ کے اس مختصر سے عرصے میں کئی معاملات میں یوٹرن لے چکے ہیں۔ اس معاملے میں بھی انہوں نے یوٹرن لے لیا تو زیادہ تعجب کی بات تو نہیں ہوئی لیکن اپنے سیاسی کردار کو انہوں نے سب کے ساممنے نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ خود ہی اس بات کی ایک طرح سے تصدیق کردی کہ وہ الیکٹیڈ یعنی عوام کے ووٹوں سے منتخب کئے گئے وزیر اعظم نہیں ہیں،جنہیں فوج اقتدار میں لائی ہے جیسا کہ اپوزیشن کے لیڈر ان کے بارے میں کہتے ہیں۔ یہ بھرم پوری طرح ٹوٹ گیا کہ ان کی حکومت کے فیصلے ان کے ہوتے ہیں۔ یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فوج کی ہدایت اور منشا سے قطعی انحراف نہیں کرسکتے۔ پاکستانی فوج نے تو عدلیہ اور خاص طور سے چند روز قبل رٹائر ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چھیڑ رکھی ہے۔ اس برہمی کی اصل وجہ یہ ہے کہ نہ صرف خصوصی عدالت نے جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی ہے بلکہ اس سے کچھ ہی روز قبل سپریم کورٹ نے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے حکومت کے فیصلے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ تاہم فی الحال عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کے لئے 6مہینے ایکسٹینشن کی اجازت دی ہے اور کہا کہ اس درمیان حکومت آرمی چیف کے ایکسٹینشن کے بارے میں پارلیمنٹ میں کوئی قانون پاس کرائے ۔ اس فیصلے نے بھی پاکستانی فوج کو پریشان کردیا ہے ۔ غرضیکہ پاکستانی عدلیہ ، جواب تک فوج کے لئے خاطر خواہ فیصلے سنانے کے لئے جانی جاتی تھی، وہ اچانک فوج اور عمران حکومت کے لئے ‘ویلن’ بن گئی۔ بالآخر سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کو کہنا پڑا کہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتے وقت ان کا ضمیر بالکل مطمئن ہے البتہ اس بات کا افسوس ہے کہ نہ صرف ان کے خلاف بلکہ عدلیہ کے خلاف بھی ایک منفی نوعیت کی مہم چلائی جارہی ہے۔ ان کے مطابق صرف ان کو اور عدلیہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گویا پاکستان میں اس وقت عدالت عظمیٰ اور فوج کے درمیان ٹکراؤ جیسی صورت حال ہے۔ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
Comments
Post a Comment