ہندوستان اور مالدیپ کے مشترکہ کمیشن کی چھٹی میٹنگ
ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان مشترکہ کمیشن کی چھٹی میٹنگ حال ہی میں نئی دہلی میں ہوئی۔ اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت مالدیپ کے وزیر خارجہ عبد اللہ شاہد اور ان کے ہندوستانی ہم منصب ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کی۔ میٹنگ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
صالح حکومت کی تشکیل کے بعد گزشتہ ایک برس کے دوران مالدیپ میں جمہوری عمل مضبوط ہوا ہے جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔ ترقیاتی امداد کے ذریعے مالدیپ کے سماجی شعبہ کی ترقی کے علاوہ دونوں ملک بحری سیکورٹی اور دفاع کے شعبہ میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ مالدیپ میں صدارتی انتخابات کے بعد ہندوستان نے مالے کے لئے ایک اعشاریہ چار ارب امریکی ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ نئی دہلی نے بنیادی ڈھانچہ کے پروجیکٹوں کے لئے آٹھ سو ملین ڈالر کے قرض کا بھی اعلان کیا۔ اس امداد سے مالدیپ کے مختلف جزیروں کے درمیان موجود ترقیاتی نابرابری کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کی اس سال کی انسانی ترقی سے متعلق رپورٹ کے مطابق مالدیپ میں نابرابری ابھی بھی کافی زیادہ ہے۔
علاقہ میں بڑھتے ہوئے غیر روایتی خطرات کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی کے شعبہ میں تعاون کافی ضروری ہوگیا ہے۔ انہیں خطرات کے پیش نظر ہندوستان نے مالدیپ کو کوسٹ گارڈ کا ایک جہاز‘‘کامیاب’’ تحفہ کے طور پر دیا ہے تاکہ وہ بحری سیکورٹی کو بہتر بنا سکے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، مالدیپ کی نیشنل ڈیفنس فورس کی تربیت اور کوسٹل سیرولنس رڈار سسٹم کا قیام شامل ہے۔ مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں دونوں ملکوں نے انسداد دہشت گردی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ کی تاریخ طے کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لئے مالدیپ نے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق قانون میں ترمیم کرکے ملک شام کو ایک جنگ زدہ علاقہ قرار دیا گیا اور حکومت کی اجازت کے بغیر وہاں سفر کرنے کو قابل سزا قرار دیا گیا ۔ اس کے علاوہ صدارتی کمیشن نے داعش اور القاعدہ سے جڑے مالدیپ کے شہریوں کے خلاف فردجرم عائد کرنے کے لئے ہدایت دی۔ محمد امین مالدیپ کا پہلا شہری ہے جسے امریکہ نے دہشت گردوں کا سرغنہ قرار دیا ہے۔ گمشدگی اور اموات سے متعلق صدارتی کمیشن نے القاعدہ سے منسلک تنظیم کے مبینہ لیڈروں محمد مجید اور سومتھ محمد کو احمد یامین رشید جیسے معروف بلاگروں اور صحافیوں کے قتل کے لئے نامزد کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ملک میں جنوری 2014سے مذہبی شدت پسندی کے 188 معاملات سامنے آئے ہیں۔
ڈیجیٹل کنکٹیویٹی اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطے ہندوستان اور مالدیپ دونوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ مشترکہ کمیشن کی اس میٹنگ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ‘روپے’ میکینزم کو اپنانے اور نیشنل نالج نیٹ ورک کو متعارف کرانے سے مالدیپ میں کنکٹیویٹی کا نظام مضبوط ہوگا۔
میٹنگ میں ہلہمالے میں ایک کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر وترقی کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے لئے ہندوستان فنڈ فراہم کر رہا ہے۔ میٹنگ کے دوران ہندوستان اور مالدیپ کے انتخابی کمیشن کے درمیان دو مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کئے گئے۔ اس کے علاوہ فوجداری کے معاملوں میں آپسی قانونی امداد سے متعلق معاہدے کو بھی منظوری دی گئی۔ مالدیپ کے وزیرخارجہ نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران جناب مودی نے کہا کہ مشترکہ کمیشن کی میٹنگوں سے دونوں ملکوں کو دو طرفتہ تعاون کا جائزہ لینے کا موقع فراہم ہوگا اور دونوں ممالک اپنے رشتوں کو مضبوط بنانے کے نئے طریقے تلاش کرسکیں گے۔
دوطرفہ تعاون کے تعلق سے گزشتہ سال دونوں ملکوں کے لئے تعمیری رہا ہے۔ اعتمادسازی اور پروجیکٹوں کے تیز رفتار نفاذ کے لئے مالدیپ نے ہندوستان کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مالدیپ میں سیاسی استحکام سے بھی دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے۔
مشترکہ کمیشن کی یہ میٹنگ چار سال کی مدت کے بعد عمل میں آئی تاہم اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں کافی مدد ملی۔ مالدیپ چاہتا ہے کہ سارک کے تحت علاقائی تعاون نتیجہ خیر ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو اس کے فوائد حاصل ہوسکیں۔ اس لئے دو طرفہ اور علاقائی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے لئے دونوں ملکوں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مشترکہ کمیشن کی ساتویں میٹنگ 2021میں مالدیپ میں ہوگی۔
صالح حکومت کی تشکیل کے بعد گزشتہ ایک برس کے دوران مالدیپ میں جمہوری عمل مضبوط ہوا ہے جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔ ترقیاتی امداد کے ذریعے مالدیپ کے سماجی شعبہ کی ترقی کے علاوہ دونوں ملک بحری سیکورٹی اور دفاع کے شعبہ میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ مالدیپ میں صدارتی انتخابات کے بعد ہندوستان نے مالے کے لئے ایک اعشاریہ چار ارب امریکی ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ نئی دہلی نے بنیادی ڈھانچہ کے پروجیکٹوں کے لئے آٹھ سو ملین ڈالر کے قرض کا بھی اعلان کیا۔ اس امداد سے مالدیپ کے مختلف جزیروں کے درمیان موجود ترقیاتی نابرابری کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کی اس سال کی انسانی ترقی سے متعلق رپورٹ کے مطابق مالدیپ میں نابرابری ابھی بھی کافی زیادہ ہے۔
علاقہ میں بڑھتے ہوئے غیر روایتی خطرات کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی کے شعبہ میں تعاون کافی ضروری ہوگیا ہے۔ انہیں خطرات کے پیش نظر ہندوستان نے مالدیپ کو کوسٹ گارڈ کا ایک جہاز‘‘کامیاب’’ تحفہ کے طور پر دیا ہے تاکہ وہ بحری سیکورٹی کو بہتر بنا سکے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، مالدیپ کی نیشنل ڈیفنس فورس کی تربیت اور کوسٹل سیرولنس رڈار سسٹم کا قیام شامل ہے۔ مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں دونوں ملکوں نے انسداد دہشت گردی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ کی تاریخ طے کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لئے مالدیپ نے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق قانون میں ترمیم کرکے ملک شام کو ایک جنگ زدہ علاقہ قرار دیا گیا اور حکومت کی اجازت کے بغیر وہاں سفر کرنے کو قابل سزا قرار دیا گیا ۔ اس کے علاوہ صدارتی کمیشن نے داعش اور القاعدہ سے جڑے مالدیپ کے شہریوں کے خلاف فردجرم عائد کرنے کے لئے ہدایت دی۔ محمد امین مالدیپ کا پہلا شہری ہے جسے امریکہ نے دہشت گردوں کا سرغنہ قرار دیا ہے۔ گمشدگی اور اموات سے متعلق صدارتی کمیشن نے القاعدہ سے منسلک تنظیم کے مبینہ لیڈروں محمد مجید اور سومتھ محمد کو احمد یامین رشید جیسے معروف بلاگروں اور صحافیوں کے قتل کے لئے نامزد کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ملک میں جنوری 2014سے مذہبی شدت پسندی کے 188 معاملات سامنے آئے ہیں۔
ڈیجیٹل کنکٹیویٹی اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطے ہندوستان اور مالدیپ دونوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ مشترکہ کمیشن کی اس میٹنگ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ‘روپے’ میکینزم کو اپنانے اور نیشنل نالج نیٹ ورک کو متعارف کرانے سے مالدیپ میں کنکٹیویٹی کا نظام مضبوط ہوگا۔
میٹنگ میں ہلہمالے میں ایک کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر وترقی کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے لئے ہندوستان فنڈ فراہم کر رہا ہے۔ میٹنگ کے دوران ہندوستان اور مالدیپ کے انتخابی کمیشن کے درمیان دو مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کئے گئے۔ اس کے علاوہ فوجداری کے معاملوں میں آپسی قانونی امداد سے متعلق معاہدے کو بھی منظوری دی گئی۔ مالدیپ کے وزیرخارجہ نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران جناب مودی نے کہا کہ مشترکہ کمیشن کی میٹنگوں سے دونوں ملکوں کو دو طرفتہ تعاون کا جائزہ لینے کا موقع فراہم ہوگا اور دونوں ممالک اپنے رشتوں کو مضبوط بنانے کے نئے طریقے تلاش کرسکیں گے۔
دوطرفہ تعاون کے تعلق سے گزشتہ سال دونوں ملکوں کے لئے تعمیری رہا ہے۔ اعتمادسازی اور پروجیکٹوں کے تیز رفتار نفاذ کے لئے مالدیپ نے ہندوستان کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مالدیپ میں سیاسی استحکام سے بھی دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے۔
مشترکہ کمیشن کی یہ میٹنگ چار سال کی مدت کے بعد عمل میں آئی تاہم اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں کافی مدد ملی۔ مالدیپ چاہتا ہے کہ سارک کے تحت علاقائی تعاون نتیجہ خیر ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو اس کے فوائد حاصل ہوسکیں۔ اس لئے دو طرفہ اور علاقائی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے لئے دونوں ملکوں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مشترکہ کمیشن کی ساتویں میٹنگ 2021میں مالدیپ میں ہوگی۔
Comments
Post a Comment