حافظ سعید کے خلاف فرد جرم حقیقت یا دکھاوا؟
لاہور ہائی کورٹ نے اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار، جماعت الدعوہ کے سرغنہ اور ممبئی حملوں کے ماسٹرمائنڈ حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں ماخوذ کیا ہے۔ اس سال جولائی میں پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمہ نے سعید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف 23 ایف آئی آر درج کی تھیں جس کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا تھا۔ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سعید کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے 11 دسمبر کی تاریخ طے کی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرد جرم اب کیوں طے کی گئی ؟ کیا اب عدالت سعید کے خلاف مقدمہ کی سماعت سنجیدگی کے ساتھ کرے گی؟ وہ تمام لوگ یہی سوال کررہے ہیں جنہیں معلوم ہے کہ پاکستانی نظام کیسے کام کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان پر فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا زبردست دباؤ تھا۔ نہ صرف ایف اے ٹی ایف بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں پاکستان پرکافی دباؤ تھا۔ سلامتی کونسل کے دباؤ کے بعد اسلام آباد کو سعید کے بینک کھاتوں سمیت تمام مالی اثاثوں کو منجمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کارروائی کے باوجود حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ وہ گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لیے سعید کو اپنے بینک سے پیسے نکالنے کی اجازت دے دے۔ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کے دباؤ کے علاوہ ہندوستان بھی لشکر طیبہ کے سرغنہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور دلیل دیتا رہا ہے کہ حافظ سعید مذہبی اداروں کے نام پر فنڈ اکٹھا کرکے انہیں اس کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ امریکہ نے بھی اس دہشت گرد کے سرپر 10 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اکتوبر میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی میٹنگ میں یہ پایاگیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹھوس قدم نہیں اٹھایاہے اس لیے اس نے اسلام آباد کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے فروری 2020 تک دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات نہیں کیے تو وہ اس کی گرے لسٹ میں برقرار رہے گا۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سعید کا ماخوذ کیا جانا ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے پاکستان کی ایک چال ہے۔
یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے امریکہ دورے سے محض ایک ہفتہ پہلے سعید کو ماخوذ کیا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے اسلام آباد پر کافی دباؤ ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ کچھ برسوں سے واشنگٹن کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سخت بیانات آرہے ہیں۔ یہ بھی سعید کے اتنی جلد ماخوذ کیے جانے کی وجہ ہوسکتی ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف سعید کے ماخوذ کیے جانے کا عمل جاری تھا تو دوسری جانب اس کا بیٹا طلحہ سعید ایک حملہ میں بال بال بچ گیا۔ پچھلے ہفتے لاہور کے نزدیک ایک دکان پر وہ کچھ لوگوں سے خطاب کررہا تھا تبھی ایک بم پھٹا جس میں ایک شخص ہلاک اور سات دوسرے بری طرح زخمی ہوگئے۔ یہ سبھی لشکرطیبہ کے حامی تھے۔ امید ہے کہ مستقبل میں طلحہ لشکر کے سرغنہ کی حیثیت سے اپنے والد کی جگہ لے گا۔ خبروں کے مطابق لشکرطیبہ کے فنڈس پر طلحہ کا کنٹرول ہے جسے دہشت گرد گروپ کے کچھ سینئر لیڈران پسند نہیں کرتے۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ طلحہ پر جان لیوا حملہ آپسی مخاصمت اور تنظیم کے اندر اقتدار کی رسہ کشی کا نتیجہ ہے۔
اگرچہ امریکہ نے حافظ سعید کو ماخوذ کئے جانےکے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ہندوستان کو اس بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ نئی دہلی کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کیا عمران خان حکومت پاکستان کی پچھلی حکومتوں سے مختلف ہے؟ اس سے پہلے بھی حافظ سعید کو کئی بار گرفتار کیا جاچکا ہے لیکن حکام نے اسے رہا کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔
ماخود کئے جانے سے چند روز قبل سعید کو زمین کے ناجائز قبضے کے ایک معاملہ میں ضمانت دے دی گئی حالانکہ اس کے خلاف اس طرح کے درجنوں معاملے درج ہیں۔ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کی پیروی کرنے میں حکومت پاکستان کتنی سنجیدہ ہے اس کا تجزیہ کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو 27 نکاتی منصوبہ دیا ہے۔ کیا پاکستان اس منصوبے پر عمل کرنے کیلئے تیار ہے؟ پاکستان کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ سعید کو بغیر کسی الزام کے رہا کردیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ دیکھنا باقی ہوگا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کو بالآخر بلیک لسٹ میں شامل کرتی ہے یا نہیں۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان پر فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا زبردست دباؤ تھا۔ نہ صرف ایف اے ٹی ایف بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں پاکستان پرکافی دباؤ تھا۔ سلامتی کونسل کے دباؤ کے بعد اسلام آباد کو سعید کے بینک کھاتوں سمیت تمام مالی اثاثوں کو منجمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کارروائی کے باوجود حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ وہ گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لیے سعید کو اپنے بینک سے پیسے نکالنے کی اجازت دے دے۔ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کے دباؤ کے علاوہ ہندوستان بھی لشکر طیبہ کے سرغنہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور دلیل دیتا رہا ہے کہ حافظ سعید مذہبی اداروں کے نام پر فنڈ اکٹھا کرکے انہیں اس کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ امریکہ نے بھی اس دہشت گرد کے سرپر 10 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اکتوبر میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی میٹنگ میں یہ پایاگیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹھوس قدم نہیں اٹھایاہے اس لیے اس نے اسلام آباد کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے فروری 2020 تک دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات نہیں کیے تو وہ اس کی گرے لسٹ میں برقرار رہے گا۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سعید کا ماخوذ کیا جانا ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے پاکستان کی ایک چال ہے۔
یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے امریکہ دورے سے محض ایک ہفتہ پہلے سعید کو ماخوذ کیا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے اسلام آباد پر کافی دباؤ ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ کچھ برسوں سے واشنگٹن کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سخت بیانات آرہے ہیں۔ یہ بھی سعید کے اتنی جلد ماخوذ کیے جانے کی وجہ ہوسکتی ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف سعید کے ماخوذ کیے جانے کا عمل جاری تھا تو دوسری جانب اس کا بیٹا طلحہ سعید ایک حملہ میں بال بال بچ گیا۔ پچھلے ہفتے لاہور کے نزدیک ایک دکان پر وہ کچھ لوگوں سے خطاب کررہا تھا تبھی ایک بم پھٹا جس میں ایک شخص ہلاک اور سات دوسرے بری طرح زخمی ہوگئے۔ یہ سبھی لشکرطیبہ کے حامی تھے۔ امید ہے کہ مستقبل میں طلحہ لشکر کے سرغنہ کی حیثیت سے اپنے والد کی جگہ لے گا۔ خبروں کے مطابق لشکرطیبہ کے فنڈس پر طلحہ کا کنٹرول ہے جسے دہشت گرد گروپ کے کچھ سینئر لیڈران پسند نہیں کرتے۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ طلحہ پر جان لیوا حملہ آپسی مخاصمت اور تنظیم کے اندر اقتدار کی رسہ کشی کا نتیجہ ہے۔
اگرچہ امریکہ نے حافظ سعید کو ماخوذ کئے جانےکے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ہندوستان کو اس بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ نئی دہلی کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کیا عمران خان حکومت پاکستان کی پچھلی حکومتوں سے مختلف ہے؟ اس سے پہلے بھی حافظ سعید کو کئی بار گرفتار کیا جاچکا ہے لیکن حکام نے اسے رہا کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔
ماخود کئے جانے سے چند روز قبل سعید کو زمین کے ناجائز قبضے کے ایک معاملہ میں ضمانت دے دی گئی حالانکہ اس کے خلاف اس طرح کے درجنوں معاملے درج ہیں۔ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کی پیروی کرنے میں حکومت پاکستان کتنی سنجیدہ ہے اس کا تجزیہ کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو 27 نکاتی منصوبہ دیا ہے۔ کیا پاکستان اس منصوبے پر عمل کرنے کیلئے تیار ہے؟ پاکستان کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ سعید کو بغیر کسی الزام کے رہا کردیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ دیکھنا باقی ہوگا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کو بالآخر بلیک لسٹ میں شامل کرتی ہے یا نہیں۔
Comments
Post a Comment