ہندوستان اورچین کے خصوصی نمائندں کے درمیان بات چیت میں پیش رفت

چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر بات چیت کرنےکے لئے حال ہی میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران جناب یی نے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو سے بھی ملاقات کی ۔ دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے درمیان اس بار کی بات چیت بعض عوامل کی وجہ سے کافی اہم تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جنپنگ نے اس سال اکتوبر میں چنئی کے نزدیک ملا پورم میں غیر رسمی ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ سرحدوں کو پر امن رکھنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

اسی جذبے کے تحت قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کہا کہ طرفین کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور سرحدی تنازعہ کے حل کے لئے ایک نیا ویژن پیش کیا ہے ۔ چین کےنمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ بات چیت کے بعد دونوں ممالک مینجمنٹ رولس وضع کرنے اور مواصلات کو مضبوط بنانے کےلئے رضامند ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ طرفین نے سرحدی فوجوں کے تبادلے اور سرحدی میٹنگ پوائنٹس میں اضافہ کرنے سے بھی اتفاق کر لیا ہے۔ اس لئے اس بار کی میٹنگ کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سلامتی کی غیر یقینی صورت حال اور فوجوں کی تیزی کے ساتھ جدید کاری کے پیش نظر دونوں ملکوں کومزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحدی مینجمنٹ میں کوئی غلط قدم نہ اٹھ سکے اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مزید رابطہ قائم ہو سکے۔

حکومت ہند کی جانب سےلداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قراردیے جانے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ پر بات چیت کےلئے یہ پہلی میٹنگ تھی۔ قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانےکے بعد چین لداخ کاداخلی درجہ تبدیل کئے جانے کے خلاف آواز اٹھا رہا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تو چین نے اس کی حمایت کی تا ہم ہندوستان نے اس کوشش کوناکام بنا دیا تھا۔

سرحدی تنازعہ پر بات چیت سے پہلے چین نے مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کے لئے ایک میٹنگ کی تجویز پیش کی لیکن یہ میٹنگ معطل کردی گئی کیونکہ اقوام متحدہ کا قیام امن مشن سلامتی کونسل کے ارکان کو صورتحال کے بارے میں بتانے سےنا کام رہا ۔ تا ہم اقوام متحدہ میں چین کے سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کےقیام امن مشن کی جانب سےحتمی رپورٹ تیار ہوجانے کے بعد وہ دوبارہ میٹنگ کےلئے درخواست کریں گے۔ ہندوستان نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ آپسی اعتماد سازی کے لئے ایک دوسرے کی تشویشات اور احساسات کا احترام کرنا نہایت ضروری ہے اور چین نے بھی اسی بات سے اتفاق کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ چین کوبھی ان اقدامات کے بارےمیں زیادہ حساس ہونا پڑے گا جو ہندوستان اپنے قومی مفادات کےلئے کرتا ہے۔

چین کے وزیرخارجہ نے کہا کہ بیجنگ نے سرحدی تنازع کے حل کے مقصد سے دو طرفہ بات چیت کے لئے ایک قابل عمل فریم ورک پیش کیا ہے جس نے ہندوستان کو اپنی طرف متوجہ بھی کیا ہے ۔حالیہ برسوں میں سرحدی تنازعہ پر مذاکرات کے بعد جو بیانات سامنے آئے ہیں ان میں یہ بیان مثبت بیانات میں سے ایک ہے۔

اس فریم ورک کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آیا نئی دہلی اس پر غور کر رہا ہے یانہیں۔ بات چیت شروع ہونے سے قبل چین کے وزیر خارجہ نےکہا تھا کہ دونوں ملک سرحدکی حد بندی پرتبادلہ خیال کریں گے۔ اگر چہ دونوں ممالک آئندہ کی بات چیت کےفریم ورک کے بارے میں کسی معاہدے پر دستخط کرنے سےقاصررہے تاہم اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ دونوں ملکوں نے اس فریم ورک کو جو دونوں کےلئے قابل قبول ہے مزیدبہتر بنانےکاعہدکیا ہے۔سرحدی بات چیت اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ دونوں ممالک آئندہ برس اپنے سفارتی تعلقات کی70 ویں سالگرہ منا رہےہوں گے۔ ہندچین تعلقات میں بڑے اتار چڑھاؤ دیکھنے کوملے ہیں اسلئے سرحدی بات چیت سے جو مثبت اشارے ملے ہیں ان سےمستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی راہ ہموارکرنے میں کافی مددملے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ