سیاسی مخالفین کے خلاف عمران خان کی انتقامی کارروائیاں

عمران خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے اصل بحران اور پریشانیوں سے نمٹنے کی کوئی سنجیدہ کوشش تو ابھی تک نظر نہیں آئی البتہ ایک بات کا ہر طرف چرچہ ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی حریفوں سے چن چن کر انتقام لے رہے ہیں اور اس کے لئے ریاست کے مختلف اداروں کو بے دریغ استعمال بھی کر رہے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کو انجام دینے میں پاکستانی فوج تو قدرتی طور پر ان کا ساتھ دے ہی رہی ہے لیکن قومی احتساب بیورو ایف آئی اے اور اے این ایف جیسے ادارے اور ایجنسیاں بھی استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔ یہ محض الزام نہیں ہے بلکہ صاف نظر بھی آ رہا ہے۔ اس صورت حال کے باعث وہ حلقے بھی عمران خان سے خاصے بد دل اور ناراض ہوئے ہیں جو ان کی کھل کر حمایت کر رہے تھے اور جو یہ امید کر رہے تھے کہ واقعی عمران خان پاکستان میں ایک شفاف اور منصفانہ نظام رائج کرنا چاہتے ہیں جس میں بد عنوانی کا سلسلہ یقینی طور پر رکے گا یا کم از کم سرکاری اداروں میں کرپشن میں کمی آئے گی۔ لیکن قریب ڈیڑھ سال کے عرصہ کے بعد لوگ عمران خان کی حکومت کی کار کردگی سے کچھ اتنے زیادہ مایوس نظر آتے ہیں کہ عوام کے بیشتر حلقے یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اس حکومت نے سب سے زیادہ مایوس کیا ہے ۔ حتیٰ کہ عدلیہ سے وابستہ بعض حلقے کھل کر یہ شکایت کرنے لگے ہیں کہ حکومت کی طرف سے روز مرہ کے کاموں میں مداخلت زیادہ ہونے لگی ہے ۔عدالت کے بعض ججوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ حکومت کی مرضی کے مطابق فیصلے سنائیں۔ ایساپاکستان میں اکثر ہوتا رہا ہے لیکن وہ دباؤ فوج کی طرف سے پڑتا تھا۔اب معاملہ‘من تو شدم تو من شدی’ کے مصداق فوج اور حکومت وقت دونوں ایک ساتھ دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فوج اور عمران حکومت لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس سے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ عمران خان کو بر سر اقتدار لانے میں فوج نے نمایاں رول ادا کیا ہے ۔ ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ احتساب بیورو اوراے این ایف جیسے ادارے بطور خاص فوج کی ہدایت پر کام کر رہے ہیں اور ان کا انتظام و انصرام فوج کے ریٹائرڈ اور زیر ملازمت افسران چلا رہے ہیں ۔ پاکستان کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ بات ہر طرف موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے کہ ان اداروں نے فوج کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی ہے کیونکہ فوج ایک ایسا ادارہ تصور کیا جاتا ہے جو سیاسی جوڑ توڑ او رگندی سیاسی مہم جوئیوں سے بلند ہوتا ہے ۔



عدالت کے حالیہ ایک فیصلے نےا س حقیقت کو اور زیادہ نمایاں کر دیاہے ۔ حال ہی میں خصوصی عدالت کے ایک سینئر جج نے جنرل مشرف کے خلاف فیصلہ سناتے وقت یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس درمیان ریٹائرڈ فوجی جنرل کی موت اگر کسی غیر ملک میں ہوتی ہے تو اس کی لاش کو لا کر اسلام آباد کی ڈی چوک میں تین دن کے لئے لٹکا دینا چاہئے۔ فوج اس سزا کے سوال پر نا کام ہوتی ہوئی حکومت کا ساتھ دے رہی ہے اور خود بھی اس سزا کے خلاف کھلم کھلا ناراضگی کا اظہار کر رہی ہے جس کا مطلب یہی ہوا کہ اسے اپنا ذاتی مفاد قومی مفاد سے زیادہ عزیز ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے جب موجودہ آرمی چیف کے ایکسٹینشن کے فیصلہ پر سوال اٹھایا تو فوج اور حکومت اس پر حد درجہ ناراض ہوئے اور بجائے اس کے کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیئے جانے کے سوال پر پارلیمنٹ سے قانون پاس کرایا جائے کوشش اس بات کی ہو رہی ہے کہ عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کرائی جائے۔ سابق وزیر اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن پارلیمنٹ رانا ثناء اللہ کی اے این ایف کے ذریعہ گرفتاری سیاسی انتقام کی ایک بد ترین مثال بن کر سامنے آئی ہے ۔ انہیں گذشتہ جولائی میں گرفتار کیاگیا تھا۔ عام تاثر یہ ہے کہ حکومت کے اشارے پر اے این ایف سے وابستہ فوجی افسران نے سازش کے تحت ایک جھوٹا مقدمہ قائم کیا۔ ساتھ ہی فوج اور حکومت کی طرف سے رانا ثناء اللہ کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی۔ اس کا عام لوگوں نے نوٹس لیا اور ناراضگی ظاہر کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی گرفتاری جولائی میں عمل میں آئی تھی لیکن اے این ایف نے ابھی تک کوئی چارج شیٹ تک نہیں داخل کی۔ متعلقہ وزیر شہر یار آفریدی نے لمبا چوڑا دعویٰ کیا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ویڈیو موجود ہے لیکن اے این ایف نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ان کی ضمانت کی عرضی دو بار مسترد کر دی گئی ۔ایک معاملے میں تو خصوصی عدالت کے جج نے فیصلہ بھی سنانا چاہا لیکن سماعت کے درمیان ہی اس کا ٹرانسفر کر دیا گیااور جیسا کہ خود اس جج نے کھلی عدالت میں کہا کہ ’ایک واٹس ایپ میسج’ کے ذریعہ یہ ٹرانسفر ہوا۔ احتساب بیورو کا ریکارڈ بھی انتہائی مایوس کن رہا ہے ۔ اس کی سر براہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کر رہے ہیں۔ وہ ایک شائستہ انسان ہیں لیکن حکومت انہیں بلیک میل کر رہی ہے اور ان پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈروں کے خلاف فیصلے سنانے کو ترجیح دیں۔ مذکورہ جج نے تحریک انصاف حکومت صوبہ خیبر پختون خوا کے بعض گھپلوں سے متعلق مقدمہ کو آگے بڑھانےکا اشارہ کیا تو جج کے خلاف کچھ ویڈیو عمران حکومت کے حامی ایک ٹی وی چینل نے وائرل کر دیا اور احتساب بیورو نے ان گھپلوں میں ملوث لوگوں کے خلاف تفتیش کا سلسلہ ہی روک دیا۔ یہ کار گزاری ہے اس حکومت کی جس کی سر براہی عمران خان کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتاہے کہ سیاست میں شفافیت کا نعرہ لگانے والے عمران خان شفافیت کے پردہ میں کتنا گندہ کھیل کھیل رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ