ایغورمسلمانوں کی صورتحال پر پاکستان کا منافقانہ رویہ

ہانگ کانگ میں چین کے صوبہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے ایغور مسلمانوں کے حق میں مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ سات ماہ سے ان مظاہروں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں وہاں جو مظاہرے ہوئے ان میں پولیس نے طاقت کا بے محابہ استعمال کیا ہے۔ مظاہرین میں نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ بھی شامل تھے۔ انھوں نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے نقاب اوڑھ رکھے تھے۔ انھوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ایغور کو آزاد کرو، ہانک کانگ کو آزاد کرو اور چین میں جعلی خود مختاری کا نتیجہ نسل کشی ہے۔ ایغور مسلمانوں کے حق میں یہ مظاہرہ برطانیہ کی فٹ بال ٹیم آرسینل کے کھلاڑی مسعود اوزِل کی چین کی پالیسیوں پر تنقید کے بعد کیا گیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر ایغوروں کے حق میں بیانات جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ چین کے جنوب مغربی صوبہ سنکیانگ میں مسلم اقلیت سے ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ مسعود اوزِل ترک نژاد جرمن مسلمان ہیں۔ انھوں نے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ ایغور جنگجو ہیں اور وہ جبر واستبداد کی مزاحمت کررہے ہیں۔ انھوں نے سنکیانگ میں چین کی سخت کارروائیوں اور ان پر دوسرے ممالک کے مسلمانوں کی خاموشی پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ 2017ءکے بعد سے چین میں کم از کم دس لاکھ ایغوروں یا دوسرے مسلم اقلیتی گروپوں کو گرفتارکرکے حراستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ امریکا اور دوسرے ممالک نے چین کی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے جبکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی حراستی کیمپ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تربیت کے کیمپ ہیں۔وہاں لوگوں کو نئے ہنر اور مہارتیں سکھائی جارہی ہیں اور انھیں علاحدگی پسندی کے رجحانات کی بیخ کنی کی بھی تربیت دی جارہی ہے۔ لیکن چین کی ان باتوں پر لوگوں کو یقین نہیں ہے۔ اطلاعات بتاتی ہیں کہ چین ان مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے اور اسی لیے اس نے ان کو ڈٹینشن سینٹرس میں قید کر رکھا ہے۔ اس کی اس بات پر کسی کو یقین نہیں ہے کہ ایغور مسلمانوں کو نئے ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ دراصل ایغور مسلمان اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ وہاں ان کے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان کو ان کے مذہبی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ چین کے حکمراں ایغور مسلمانوں کو ان کے مذہب سے برگشتہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ ان کو حراستی مراکز میں رکھنے کا مقصد ان مسلمانوں کو ان کے مذہبی فرائض سے محروم کرنا ہے۔ ان مراکز میں ان کی برین واشنگ کی جا رہی ہے اور ان کے مذہب کے خلاف بہت ساری باتیں سکھائی پڑھائی جا رہی ہیں۔ ایغور مسلمانوں کے ساتھ چین کے اس ناروا اور متعصبانہ سلوک کے تناظر میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دہشت گردی کے سلسلے میں اس کا رویہ منافقانہ ہے۔ وہ ایک طرف دس لاکھ سے زائد ایغور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر حراستی مراکز میں ڈالے ہوئے ہے اور دوسری طرف پاکستان کے دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دلوانے کی ہندوستان کی کوششوں میں رخنہ ڈالتا رہا ہے اور سلامتی کونسل میں ویٹو کرتا رہا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا جائے۔ وہ اب بھی پاکستان کی حمایت کر تا ہے اور ایف اے ٹی ایف کی کارروائیوں کے سلسلے میں اس کی طرفداری کرتا ہے۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف انسداد دہشت گردی کی پاکستان کی نام نہاد کارروائیوں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے اس کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے اور بلیک لسٹ کیے جانے کا خطرہ اس کے سرپر اب بھی منڈلا رہا ہے۔ چین کے اس رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے بارے میں قطعی سنجیدہ نہیں ہے۔ بالکل یہی صورت حال پاکستان کے ساتھ بھی ہے۔ پاکستان ایک طرف پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے آنسو بہاتا ہے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا قائد بننے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف ایغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے چشم پوشی کر رہا ہے۔ کچھ دنوں قبل جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ایغور مسلمانوں پر جاری استبداد کے سلسلے میں سوال کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کے حالات سے نمٹنے میں مشغول ہیں اس لیے ان کو ایغور مسلمانوں کی جانب توجہ دینے کی فرصت نہیں مل رہی ہے۔ ان کی یہ دلیل انتہائی لولی لنگڑی ہے جس پر کسی کو یقین نہیں ہے۔ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے حق میں بھی آنسو بہاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ خود پاکستان میں بہت سی اقلیتی برادریاں انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی حکومت نہ تو ان کے حالات بہتر کرنے کی کوئی کوشش کرتی ہے اور نہ ہی ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر چینی حکمرانوں سے کوئی بات کرتی ہے۔ دہشت گردی کے سلسلے میں چین اور پاکستان دونوں ایک ہی پلڑے پر ہیں۔ دونوں کا رویہ انتہائی منافقانہ اور دوہرا ہے۔ آخر وہ کب تک اس دو رنگی سے کام لیتے رہیں گے۔ جہاں تک ہندوستان کی بات ہے تو وہ دہشت گردی کو کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دہشت گردی کے تعلق سے ہندوستان کا رویہ زیرو ٹالرنس والا ہے۔ اگر ایغور مسلمانوں میں کچھ لوگ دہشت گرد ہیں تو چین ان کے خلاف ضرور کارروائی کرے لیکن اتنی بڑی تعداد کو دہشت گردی کے نام پر حراستی مراکز میں ڈالنا کہاں کی شرافت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ