افغانستان کے صدارتی انتخابات


افغانستان میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی اس جنگ زدہ ملک نے نوآموز جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اور سنگ میل طے کر لیا ہے۔ افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ صدر اشرف غنی کل ووٹوں کا 50؍ اعشاریہ چار چھ فیصد ووٹ حاصل کرکے انتخابات جیت گئے ہیں جبکہ صدر غنی کے قریبی حریف اور سابق وزیرخارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبد اللہ دو لاکھ سے بھی زیادہ ووٹوں سے شکست کھاگئے۔ 

ایک ایسے ملک کے لئے جو طالبان کی جانب سے برپا تشدد کے درمیان سولین حکومت کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہو، وہاں کا آزاد انتخابی کمیشن انتخابی دھاندلیوں کے امکانات کے بارے میں کافی محتاط رہا ہے اور اس کی پوری کوشش رہی ہے کہ انتخابات صاف وشفاف ہوں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں ووٹر بایو میٹرک ٹسٹ میں فیل ہوگئے جس کے سبب انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا۔ ان تمام اقدامات کے باوجود دھاندلیوں کی بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں جن پر الیکشن کمیشن نے غور کرنے کاوعدہ کیا ہے۔ ان شکایات کو دور کرنے میں ہفتوں کیا مہینوں لگ سکتے ہیں۔ تمام شکایات پر غور کرنے کے بعد اگر یہ پایا گیا کہ اشرف غنی کو کل ووٹوں کے 50فیصد سے کم ووٹ ملے ہیں تو دو سرفہرست امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا۔ لیکن چونکہ یہ عمل کافی لمبا ہے، مفاد پرست عناصر سیاست میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک کے نو آموز جمہوری عمل کو منفی طور پر متاثر کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس لئے اس بات پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے اور ایسے عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو ایسا کرسکتے ہیں۔ 

وزیراعظم نریندر مودی کا یہ اقدام واقعی قابل تعریف ہے کہ انہوں نے نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ہی صدر غنی کو مبارکباد پیش کی جبکہ دوسرے عالمی رہنماؤں نے صورتحال پر نظر بنائے رکھنے کو ترجیح دی۔ صدر غنی کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان ایک دوست اور پڑوسی کی حیثیت سے افغانستان کو ایک جمہوری، متحد، خود مختار، پرامن اور خوشحال ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان میں امن عمل کی حمایت کرتا ہے ایک ایسا امن عمل جس میں خود افغانستان کے لوگ شامل ہوں۔ جناب مودی نے کہا کہ افغانستان کے اسٹریٹیجک پارٹنر کی حیثیت سے ہندوستان علاقہ میں ترقی، سلامتی کے فروغ اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں کابل کی حمایت کرتا رہے گا۔ 

ہندوستان کا خیال ہے کہ زبردست چیلنجوں کے باوجود صدارتی انتخابات کی کامیاب تکمیل بذات خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔ 2001میں طالبان کے زوال کے بعد سے افغانستان میں صدر کے عہدے کے لئے یہ چوتھا الیکشن تھا۔ اگرچہ تب سے طالبان کو آگے آنے کا موقع نہیں ملا تاہم وہ اب بھی اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں اور اکثر اپنی بزدلانہ حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ انتخابات کے نتائج کے اعلان کے چند روز بعد ہی انہوں نے پچھلے ہفتہ بلخ صوبے میں سیکورٹی فورسز کے کم از کم 15جوانوں کو ہلاک کردیا۔ تقریباً اسی وقت انہوں نے مغربی فراہ صوبے میں امن کے لئے کام کرنے والے 27لوگوں کو اغوا کرلیا۔ 

ایسی صورت حال میں افغانستان کے عوام سول انتظامیہ کے قیام کے لئے جد وجہد کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے یہ بات بار بار دہرائی ہے کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنانے سے ہی جنگ زدہ ملک میں دیرپا امن قائم ہوسکتا ہے۔ طالبان کی حرکتوں کے باعث جو خون خرابہ ہو رہا ہے اس کا خاتمہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے سے ہی ہوسکتا ہے۔ اس لئے ملک کے تازہ ترین صدارتی انتخابات افغانستان میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جاسکتا ہے۔ 

اگرچہ صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ دو مختلف نسلی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں تاہم وہ اقتدار کے بٹوارے کے انتظام کے لئے نئے نہیں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ تیسرے صدارتی انتخابات کے بعد دونوں میں اقتدار کے لئے تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ یہ تنازعہ امریکہ کی مداخلت کے بعد ختم ہوا اور اشرف غنی صدر اور عبد اللہ عبد اللہ چیف ایگزیکیوٹیو بنے۔ اس طرح دونوں نے حکومت کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

ڈاکٹر عبد اللہ نے اپنی اعلیٰ تعلیم ہندوستان میں حاصل کی ہے جبکہ صدر غنی جنہیں بین الاقوامی اداروں میں کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے، افغانستان کے دانشور طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے پچھلی بار کی طرح اس بار بھی دونوں کوحکومت کی قیادت کرنے کے لئے منایا جاسکتا ہے۔ افغانستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج طالبان سے ہے اس لئے کسی اور کام سے پہلے ان سے نمٹنا زیادہ ضروری ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر اگر دونوں رہنما ایک ساتھ حکومت کی باگ ڈور سنبھال لیں تو ملک وقوم کے لئے بہتر ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ