توہین مذہب کے نام پر پاکستان میں ظلم وزیادتی


اخوت، رواداری اور ہم آہنگی نہ صرف سبھی مذاہب کے بنیادی اصول ہیں بلکہ حقوق انسانی کے بھی اہم جزو ہیں۔ کسی بھی ملک کے سماج کی تشکیل اگر ان بنیادوں پر ہوتی ہے تو وہ صحیح سمت میں ترقی کرتا ہے۔ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کو قطعی برداشت نہ کرنا اور اپنی رائے کو دوسروں پر مسلط کرنے سے سماجی تانا بانا کمزور ہوتا ہے اور اس کی ترقی رک جاتی ہے۔ پاکستان کا سماج انہی مشکلات سےدوچارہے۔ پاکستانی سماج میں رجعت پسندی عام ہے اور روشن خیالی کا فقدان ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی عقل ودانش کی بات کرتا ہے، اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے، تو اسے نشانہ بنایاجاتا ہے، یہاں تک کہ اسے قتل بھی کردیا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔جنید حفیظ کو سزائے موت سنائے جانے کا معاملہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ نہیں ہے۔ پاکستان میں اس طرح کے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے، جس میں خاص طور سے اقلیتی اور عام طور پر اکثریتی فرقہ کے افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے انجام سے کون واقف نہیں ہے۔ وہ صرف توہین رسالت کے نام پر ہونے والے تشدد پر روک لگانے کے لیے قانون میں مناسب ترمیم کا مطالبہ کررہے تھے۔ انہیں ان کے ہی محافظ نے بے رحمی سے قتل کردیا تھا۔ سلمان تاثیر کامعاملہ اس لیے سرخیوں میں رہا کیوں کہ وہ ایک مقبول اورسرکردہ شخصیت تھے۔ اس کے علاوہ جو معاملہ بین الاقوامی سطح پر سرخیوں میں رہا وہ آسیہ بی بی کا تھا۔ اس مسیحی خاتون کو بھی توہین رسالت کے نام پرپھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اور قیدوبند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں تھیں۔ بالآخر سپریم کورٹ نے انہیں بری کردیا۔ بری ہونے کے بعد بھی ان کا پاکستان میں رہنا ممکن نہیں تھااس لیے انہوں نے پاکستان کو خیرباد کہہ دیا۔ پاکستان میں عقل مندی کی باتیں کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے، کیوں کہ کب کس کو کیا بات بری لگ جائے یا وہ اس کا کیا مطلب نکال لے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کا دانشور طبقہ ملک میں رہنا نہیں چاہتا۔ جن لوگوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی ہے وہ پاکستان کے داخلی حالات دیکھ کر واپس آنا نہیں چاہتے۔انہیں یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ اس طرح کے ماحول میں وہ کس طرح سے رہ سکتے ہیں جہاں گھٹن محسوس ہوتی ہو۔جہاں اظہار رائے کی آزادی نہ ہو وہاں وہ اپنی بات لوگوں تک کیوں کر پہنچاسکتے ہیں۔دہائیوں سے پاکستان میں عدم برداشت کا ماحول ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک کو اس حالت میں پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیروترقی میں وہاں کی حکومتیں، ادارے اور دانشور طبقے کا اہم رول ہوتا ہے۔ پاکستان میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی اور سماج کو صحیح سمت پر نہیں ڈالا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی وہاں کے حکمرانوں نے ہندوستان کے خلاف دشمنی کی وجہ سے سماج کے اندر بھی نفرت کا بیج بودیا اور اس میں منفی سوچ کو فروغ دیا۔ یہی سماج بعد میں نہ صرف پڑوسی ملکوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ خود اپنے ملک کے لیے بھی ایک سردرد بن گیا ہے۔ جو دہشت گرد پاکستان کی حمایت اور اعانت سے پڑوسی ملکوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے تھے اب وہی اپنے ملک میں بھی خون بہارہے ہیں اور آج حالات یہ ہیں کہ پاکستان پوری دنیا میں الگ تھلگ پڑگیا ہے۔ نہ کوئی وہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی کھیلوں کے کسی مقابلے میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ پاکستان میں برسوں سے کھیلوں کا کوئی بڑا مقابلہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر 2009 میں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں پوری ٹیم بال بال بچ گئی تھی۔ اس کے بعد وہاں کوئی کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ملالہ یوسف زئی کو صرف اس لیے گولی ماری گئی تھی کہ کیوں کہ وہ خود تعلیم حاصل کررہی تھیں اور لڑکیوں کی تعلیم کی پرزور حامی بھی تھیں۔ بعد میں ان کی کوششوں کے لیے انہیں نوبیل انعام بھی دیا گیا۔ پاکستا میں صحتمند تبدیلی کی اس لیے امید نظر نہیں آتی کیوں کہ وہاں کے قدامت پسند گروپوں کو حکومت اور سرکاری اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب کوئی توہین رسالت کی شکایت کرتا ہے تو پولیس محکمہ آنکھ بند کرکے اس کی بات سچ مان لیتا ہے۔یونیورسٹی کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کے خلاف معاملہ اسی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیاتھا جسے توہین مذہب کا رنگ دے دیا گیا۔ ان کے خلاف شکایت کو پولیس سے لے کر عدالت تک نے درست مان لیا اور انہیں سزائے موت سنادی گئی۔ گرفتاری کے بعد ان کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکیل کو بھی قتل کردیاگیا اور بعد میں جس وکیل نے ان کی پیروی کی اسے بھی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ججوں نے ان کے مقدمے کی سماعت سے خودکو صرف خوف کی وجہ سے الگ کرلیا۔ ایسے ملک میں جہاں انصاف کے حصول کے سبھی دروازے بند ہوجائیں انسان کے پاس کون سا راستہ بچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والا دانشور طبقہ حساس معاملات میں یا تو خاموش رہتا ہے یا اس طبقے کے لوگ بیرون ملک پناہ لیتے ہیں۔پاکستان کو اگر دنیا میں اپنی ساکھ بہتر بنانی ہے تو اسے اپنی سماج میں عدم رواداری اور عدم برداشت کی اپنے روش تبدیل کرنی ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ