افغان الیکشن کے نتیجہ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال
افغانستان میں صدارتی الیکشن کوئی تین ماہ قبل منعقد ہوا تھا اور وہ بھی کافی تاخیر سے ہوا تھا۔ یکے بعد دیگرے کئی بار تاخیر کے مرحلوں سے گزرنے کے بعد بالآخر 28 ستمبر کو انتخابات منعقد ہوسکے تھے۔ اس ضمن میں ایک بات اور ہے جسے جمہوریت اور انتخابات کے حوالے سے کوئی اچھی علامت نہیں کہا جاسکتا۔ ووٹروں کی بہت معمولی تعداد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ اگرچہ افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 90 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے 20 لاکھ سے بھی کم ووٹروں کی شمولیت ہوپائی ہے۔ بہرحال جن حالات اور جس ماحول سے انتخابی عمل گزر رہا تھا، وہ کچھ زیادہ موافق نہیں تھا۔ توقع کے عین مطابق طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی تخریبی سرگرمیاں نہ صرف جاری تھیں بلکہ ان میں شدت بھی آگئی تھی۔ طالبان کے لیڈر قدم قدم پر افغان حکومت کے ہر کام میں رکاوٹ ڈال رہے تھے اور باوجودیکہ امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات بھی چل رہے تھے، طالبان کے نہ صرف حملے جاری تھے بلکہ انتخابی ریلیوں اور امیدواروں کو بھی نشانہ بنایا جارہا تھا۔ ایک صدارتی امیدوار تو ایک حملے میں بال بال بچے لیکن شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔بہرحال ان حالات اور اس ماحول میں انتخابات کا عمل مکمل ہوجانا بھی بڑی بات تھی۔ اس کے ابتدائی نتیجوں کا اعلان گزشتہ اتوار کو ہوا۔ اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ افغان صدر اپنے قریبی حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے کچھ آگے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر اشرف غنی نے 50.64 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے حصے میں 39.52 فیصد ووٹ آئے ہیں۔ ابتدائی نتیجوں پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف غنی نے یہ امید ظاہر کی کہ یہ پورے افغانستان اور اس کے عوام کی جیت ہے جبکہ ان کے حریف چیف ایکزیکیٹیو ڈاکٹر عبداللہ مطمئن نظر نہیں آئے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی نیت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے دھاندلی کرنے والوں کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے صوبوں میں گنتی دوبارہ کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ گویا ابھی نتیجہ کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بدقسمتی سے 2014 میں جو انتخابات ہوئے تھے اس کے بعد بھی تنازعہ کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی اور امریکہ نے بیچ بچاؤ کرنے کی کوشش کی تھی۔ گزشتہ بار بھی اتفاق سے ڈاکٹر غنی اور ڈاکٹر عبداللہ ہی ایک دوسرے کے حریف تھے اور امریکہ کی مداخلت سے اقتدار میں یہ دونوں حصہ دار بنے تھے۔ ڈاکٹر اشرف غنی صدر اور ڈاکٹر عبداللہ چیف ایکزیکیٹیو تھے۔
بہرحال قطعی نتیجہ جو بھی ہو لیکن غیر یقینی صورتحال جلد از جلد ختم ہوجائے تو افغانستان کے لئے بہتر ہوگا۔ امریکہ اور ہندوستان دونوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شفاف طور پر شکایات کا ازالہ ہوجانا چاہیے تاکہ تلخی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی اقتدار میں آئے، اس کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ جمہوریت کو تقویت پہنچانے کی بھرپور کوشش کرے اور ملک کا نظم و نسق چلانے کے لئے ایسی ٹیم تشکیل دے جو افغانستان کی رنگا رنگی کی آئینہ داری کرے۔ جمہوریت کو فروغ دینے کا سب سے بڑا وسیلہ یہی بن سکتا ہے کہ جمہوریت پسند اور صائب حلقے عوام کے وسیع تر حصے کی خواہشوں اور ان کی امنگوں کو سمجھیں اور صحیح معنوں میں ان کی نمائندگی کریں۔ اگر غیر یقینی صورتحال زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے تو اس سے جمہوریت کو دھکا لگے گا۔
جہاں تک افغانستان میں طالبان کے رول کی بات ہے تو نہ صرف افغانستان کے صائب اور جمہوریت پسند حلقوں کو اس بات کی امید نہیں ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے کوئی نمایاں رول ادا کریں گے بلکہ پاکستان کے سوا کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہیں ہے کہ طالبان سے کسی مثبت رول کی امید کی جاسکتا ہے۔ مستقبل میں افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنے میں صرف اور صرف افغانستان کی نمائندہ حکومت ہی مثبت اور منظم رول ادا کرسکتی ہے ۔ اس لئے جمہوری حکومت کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ ظاہر ہے افغانستان سے فی الوقت ایسی آئیڈیل جمہوریت کی امید نہیں کی جاسکتی جو مستحکم جمہوریت کے حامل ملکوں میں موجود ہے لیکن افغانستان میں گزشتہ کم و بیش دو دہائی کے عرصے میں افغان عوام نے آئینی اور منتخب حکومتوں کی برکتوں سے فیض اٹھایا ہے۔ خاص طور سے طالبان کی سخت گیریوں اور آئینی حکومت کے آزادانہ اپروچ کا موازنہ اور مشاہدہ انہوں نے کیا ہے۔ بالخصوص افغان خواتین نے نئے زمانے اور نئی تعلیم کی برکتوں سے حالیہ برسوں میں جو استفادہ کیا ہے، اس نے ان میں اعتماد اور ان کے ذہن کو پختگی عطا کی ہے۔ وہ کھل کر باتیں کرنے لگی ہیں اور افغان سماج میں نیا رول نہ صرف ادا کررہی ہیں بلکہ نئے راستے اور نئے رول تلاش بھی کررہی ہیں۔ بہ ظاہر یہ تبدیلی ابھی چھوٹی نظر آتی ہے لیکن کل یہی حلقہ بے حد توانا ثابت ہوگا۔ شرط یہ ہے کہ جمہوریت پسند حلقہ اس مرحلہ میں اتفاق رائے کو فروغ دے اور معمولی اختلافات کو جمہوریت کی راہ میں حائل نہ ہونے دے۔
Comments
Post a Comment