موضوع: عمران خان کی مشکلات، ہنگامی میٹنگ کا انعقاد
ایک سویلین خصوصی عدالت کے ذریعہ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی مشکلات کافی بڑھ گئی ہیں کیونکہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلائے جانے اور سزا دلوانے کی پرزور حمایت کرتے تھے اور اس معامے میں قطعی کسی سمجھوتےبازی کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن موجودہ صورت ھال میں ان کے ذہنی تناؤ کا بڑھنا ایک قدرتی امر ہے کیوں کہ وہ بہر حال فوج کے حامی ہیں اور فوج کے احسانات بھی ان پر بے حساب ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان کی وزارتِ عظمی کی کرسی فوج کی خصوصی کوششوں ہی کی مرہون منت ہے اس وقت ان کی پریشانی اور بڑھ گئی جب مشرف کے خلاف عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد فوج کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان آیا کہ اسے مشرف کو سزا دینے کا شدید غم اور غصہ ہے۔ فوجی ترجمان نے ایک طرح عدالت کے فیصلے کو ہی مسترد کردیا۔ جب اس نے یہ کہا کہ جنرل جیسا لمبی خدمات پیش کرنے والا پاکستانی سپاہی غدار ہوہی نہیں سکتا۔ فوج کا یہ فوری رد عمل سامنے نہ آتا تو شاید عمران خان کو اتنی پریشانی نہ ہوتی۔ سب سے زیادہ فکر کی بات ان کے لیے یہ ہے کہ انہیں ہرحال میں فوج کے موقف کی تائید کرنا ہوگی۔ویسے اس بات کے اشارے شاید فوج اور حکومت کو پہلے ہی مل چکے تھے کہ جنرل مشرف سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ اسی لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت مل کر یہ کوشش کررہے تھے کہ خصوصی عدالت فی الحال اپنا فیصلہ نہ سنائے اس کے لیے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا لیکن بات نہ بنی اور عدالت کا فیصلہ آہی گیا۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ جنرل مشرف کو سزا اس لیے نہیں ملی کہ انہوں نے 1999 میں سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کا غیر آئینی کام کیا تھا بلکہ اس بات پر مقدمہ چلایا گیا تھا کہ انہوں نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کی تھی اس وقت انہوں نے دو عہدوں پر خود کو مسلط کر رکھا تھا۔ وہ صدر بھی تھے اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی۔
جنرل مشرف سے پہلے تین فوجی ڈکٹیٹروں ایوب خان، یحیی خان اور جنرل ضیاءالحق نے بھی بغاوتیں کی تھیں، لیکن عدالت نے ہرجنرل کی بغاوت کو قانونی جواز عطا کردیا تھا۔ خود جنرل مشرف کی فوجی بغاوت بھی سپریم کورٹ سے ‘نظریۂ ضرورت’ قرار دے کر جائز مان لی گئی تھی۔ لیکن اب ایک خصوصی عدالت کے فیصلے نے پاکستان میں عدلیہ کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کہا نہیں جاسکتا کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان کی سیاست اور اقتدار کا ڈھانچہ کس سمت مڑے گا۔ فی الحال تو تذبذب اور قیاس آرائیوں کی فراوانی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اس نسبتا خاموش لیکن انجان طوفان کے خوف نے سب سے زیادہ پریشان شایدعمران خان کو کردیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر اپنی پارٹی تحریک انصاف کی کور کمیٹی کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں کئی باتوں پر خصوصی بات چیت کا اہتمام کیا گیا۔ ویسے تو اس میٹنگ کے ایجنڈے میں نئے الیکشن کمشنر اور بعض دوسرے عہدے داروں کی بحالی سمیت کئی باتیں شامل تھیں، لیکن بنیادی طور پرجنرل مشرف کے خلاف آنے والے فیصلے پر تبادلۂ خیال کرنا اور اس کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ جب خصوصی عدالت کا فیصلہ آیا تو عمران خان جنیوا میں تھے جہاں انہیں عالمی رفیوجی فورم میں شرکت کرنا تھی۔
پاکستان میں فوجی جنرلوں کی مہم جوئیوں کی ایک لمبی داستان ہے۔ انہی میں ایک کہانی نام نہاد ‘اسلامائزیشن’ کے ہدایت کار جنرل ضیاءالحق کی بھی ہے ۔ اس ڈکٹیٹر نے نہ صرف وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا تھا بلکہ قتل کے ایک مقدمے میں اپنے فوجی اختیارات اور طاقت کا استعمال کرکے پھانسی بھی دلوائی تھی۔ بھٹو کے ایک سیاسی حریف جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کا یہ تبصرہ اب بھی پاکستان میں گونجتا ہے کہ وہ قتل کا مقدمہ نہیں بلکہ مقدمہ کا قتل تھا ۔ جسٹس جاوید اقبال علامہ اقبال کےصاحبزادے ہیں۔تمام فوجی ڈکٹیٹروں کے ساتھ ایسی ہی کچھ کہانیاں جڑی ہوئی ہیں۔
اسی پاکستان میں ایک خصوصی عدالت نے 2019 کے اواخر میں ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے ہر ایک کو حیرت زدہ کردیا۔ اب دیکھنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلائے جانے کے زبردست حامی اور وکیل تھے، وہ اب کون سا قدم اٹھانے والے ہیں۔ اور پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ ‘غمزدہ’ اور ‘ناراض’ پاکستانی فوج اپنے غم وغصہ کا اظہار کس طور پر کرتی ہے۔ فی الحال یہی کہاجاسکتا ہے کہ
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!
جنرل مشرف سے پہلے تین فوجی ڈکٹیٹروں ایوب خان، یحیی خان اور جنرل ضیاءالحق نے بھی بغاوتیں کی تھیں، لیکن عدالت نے ہرجنرل کی بغاوت کو قانونی جواز عطا کردیا تھا۔ خود جنرل مشرف کی فوجی بغاوت بھی سپریم کورٹ سے ‘نظریۂ ضرورت’ قرار دے کر جائز مان لی گئی تھی۔ لیکن اب ایک خصوصی عدالت کے فیصلے نے پاکستان میں عدلیہ کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ کہا نہیں جاسکتا کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان کی سیاست اور اقتدار کا ڈھانچہ کس سمت مڑے گا۔ فی الحال تو تذبذب اور قیاس آرائیوں کی فراوانی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اس نسبتا خاموش لیکن انجان طوفان کے خوف نے سب سے زیادہ پریشان شایدعمران خان کو کردیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر اپنی پارٹی تحریک انصاف کی کور کمیٹی کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں کئی باتوں پر خصوصی بات چیت کا اہتمام کیا گیا۔ ویسے تو اس میٹنگ کے ایجنڈے میں نئے الیکشن کمشنر اور بعض دوسرے عہدے داروں کی بحالی سمیت کئی باتیں شامل تھیں، لیکن بنیادی طور پرجنرل مشرف کے خلاف آنے والے فیصلے پر تبادلۂ خیال کرنا اور اس کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ جب خصوصی عدالت کا فیصلہ آیا تو عمران خان جنیوا میں تھے جہاں انہیں عالمی رفیوجی فورم میں شرکت کرنا تھی۔
پاکستان میں فوجی جنرلوں کی مہم جوئیوں کی ایک لمبی داستان ہے۔ انہی میں ایک کہانی نام نہاد ‘اسلامائزیشن’ کے ہدایت کار جنرل ضیاءالحق کی بھی ہے ۔ اس ڈکٹیٹر نے نہ صرف وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا تھا بلکہ قتل کے ایک مقدمے میں اپنے فوجی اختیارات اور طاقت کا استعمال کرکے پھانسی بھی دلوائی تھی۔ بھٹو کے ایک سیاسی حریف جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کا یہ تبصرہ اب بھی پاکستان میں گونجتا ہے کہ وہ قتل کا مقدمہ نہیں بلکہ مقدمہ کا قتل تھا ۔ جسٹس جاوید اقبال علامہ اقبال کےصاحبزادے ہیں۔تمام فوجی ڈکٹیٹروں کے ساتھ ایسی ہی کچھ کہانیاں جڑی ہوئی ہیں۔
اسی پاکستان میں ایک خصوصی عدالت نے 2019 کے اواخر میں ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے ہر ایک کو حیرت زدہ کردیا۔ اب دیکھنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلائے جانے کے زبردست حامی اور وکیل تھے، وہ اب کون سا قدم اٹھانے والے ہیں۔ اور پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ ‘غمزدہ’ اور ‘ناراض’ پاکستانی فوج اپنے غم وغصہ کا اظہار کس طور پر کرتی ہے۔ فی الحال یہی کہاجاسکتا ہے کہ
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!
Comments
Post a Comment