جاپان میں جی۔20ملکوں کے وزراء خارجہ کی میٹنگ 

جی۔20ایک ایسا فورم ہے جس میں دنیا کے20 ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک شامل ہیں۔جس کا یوروپی یونین بھی ایک رکن ہے۔ اوساکا میں اس سال جون کے اواخر میں گروپ کی 14ویں سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرنے کے بعد جاپان نے حال ہی میں ناگویاشہر میں گروپ کے وزراء خارجہ کی میٹنگ کی میزبانی کی۔ اس میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہندوستان کی نمائندگی کی۔ اس میٹنگ میں موجودہ بین الاقوامی صورتحال اور عالمی کساد بازاری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ 


میٹنگ کے بعد جاپان کے وزیرخارجہ توشے متسو موتیگی نے جو میٹنگ کے چیئرمین بھی تھے، نامہ نگاروں کو بتایا کہ جی۔20کے وزراء خارجہ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے تاکہ یہ بہت سے موجودہ مسائل کا حل تلاش کرسکے۔ رکن ممالک یہ بھی چاہتے ہیں کہ تنظیم نے تنازعات کے حل کے لئے جو میکینزم وضع کر رکھا ہے اس میں بھی بہتری لائی جائے ۔ اس موضوع کو اوساکا میں سربراہ کانفرنس کے دوران بھی اٹھایا گیا تھا۔ جناب موتیگی نے اعلان کیا کہ مجوزہ ایشیا بحر الکاہل آزاد تجارتی معاہدہ پر بات چیت کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیاتاکہ اسے حتمی شکل دی جاسکے۔ میٹنگ کے دوران وزراء خارجہ نے کسی مخصوص تازہ ترین معاملہ پر اتفاق رائے حاصل کرنے پر زور نہیں دیا۔ 

آج سے تقریباً تین سال بعد یعنی 2022میں ہندوستان کو جی۔20سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اب جبکہ نئی دہلی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے ، دنیا کے بڑے معاشی اداروں کی نگاہیں ہندوستان پر ہوں گی کہ وہ عالمی معیشت کو ترقی کی راہ پر لانے کے لئےجی۔ 20کے ایجنڈے کو کس طرح آگے بڑھاتا ہے۔ 

جی۔20کا قیام 1999میں عمل میں آیا تھا۔ شروع میں یہ وزراء خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنروں کا محض ایک فورم تھا لیکن 2008میں عالمی کساد بازاری سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے اسے سربراہان مملکت کا فورم بنادیا گیا۔ تب سے یہ بین الاقوامی معاشی تعاون کے لئے ایک عالمی فورم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ 

جی۔20کے ارکان دنیا کی کل گھریلو پیداوار کے تقریباً 85فیصد حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں جتنی تجارت ہوتی ہے اس میں 75فیصد حصہ ان کا ہے۔ جی۔20کی ابھی تک جتنی بھی سربراہ میٹنگیں ہوئی ہیں ہندوستان نے سبھی میں شرکت کی ہے۔ 

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے پس منظر میں ہونے والی وزراء خارجہ کی اس میٹنگ میں جون میں اوساکا میں ہونے والی سربراہ کانفرنس کے دوران لئے گئے فیصلوں کے نفاذ کے سلسلہ میں کئے گئے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ہندوستان کے لئے جو معاملات اہمیت کے حامل ہیں وہ ہیں خوراک اورتوانائی کا تحفظ، مالی استحکام، عالمی تجارتی تنظیم کی اصلاحات، دہشت گردی کا مقابلہ اور معاشی چوری کرکے مفرور لوگوں کی واپسی۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ کی غیرحاضری میں کچھ رکن ملکوں نے یکطرفہ پابندیوں اور ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ فراہم کرنے کے نظریہ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ 

دوسرے موضوعات کے علاوہ میٹنگ میں جغرافیائی، سیاسی اور تجارتی تنازعات کے اثرات اور دیرپا ترقی کی جانب پیش قدمی پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ میٹنگ نے عالمی تجارتی تنظیم کی جانب سے پیش کی گئی اصلاحات سے متعلق تجاویز پر تبادلۂ خیال کرنے کے لئے بھی ایک اچھا موقع فراہم کیا۔ 

وزراء خارجہ کی میٹنگ سے ہٹ کر ہندوستانی وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے چین، جاپان، ریپبلک آف کوریا، نیدرلینڈس، اسپین، سنگاپور، آسٹریلیا، چلی اور فرانس کے وزراء خارجہ سے ملاقات کی۔ فرانس کے وزیرخارجہ کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران جناب جے شنکر نے ہند۔بحرالکاہل سمیت متعدد معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اسپین کے اپنے ہم منسب سے ملاقات کے دوران جناب جے شنکر نے یوروپی یونین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کی۔ جناب جے شنکر نے چلی کے ساتھ وسیع تعاون کے لئے زمین تیار کرنے کے لئے وہاں کے وزیرخارجہ سے ملاقات کی۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ جناب جے شنکر نے آسٹریلیا کے وزیرخارجہ مارس پین سے ملاقات کے دوران اس بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ اس طرح جی۔20میٹنگ نے ہندوستان کو قومی اور بین الاقوامی معاملات پر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لئے ایک اچھا موقع فراہم کیا۔ 

*******

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ