موضوع: لیبر پارٹی کا جلیاں والا باغ واقعہ پر معافی مانگنے کا وعدہ



جلیاں والا باغ کا واقعہ پوری دنیا اور خاص طور سے ہندوستان کی تاریخ میں لہو کی روشنائی سے لکھا گیا ہے۔ اس خوں ریز اور المناک واقعہ کے 100 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن لوگوں کے ذہنوں میں اس کی دردناک یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ 13 اپریل 1919 کو پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع جلیاں والا باغ میں بیساکھی منانے کے لیے جمع ہوئے لوگوں کو برطانوی حکومت کے ایک سرپھرے افسر جنرل ڈائر کے حکم پر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا۔ یہ ایسا قتل عام تھا جس سے پوری دنیا ششدر رہ گئی تھی۔ یہ کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا جسے فراموش کردیا جاتا۔ اس کی یا دیں باقی رکھنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ لوگ اس گھناؤنی حرکت سے نفرت کریں اور مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی عمل کی مخالفت کریں۔ سو سال بعد بھی لوگ اس سفاکانہ واقعہ کے مذمت کررہے ہیں۔ برطانیہ کی اپوزیشن لیبرپارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو جلیاں والا باغ قتل عام پر حکومت ہند سے معافی مانگے گی۔ابھی تک برطانوی حکومت اس واقعہ پر معافی مانگنے سے گریز کرتی رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم تھریسامئے نے برطانوی ہند کی تاریخ پر ایک ‘شرمناک بدنماداغ’ قرار دیا تھا تاہم انہوں نے رسمی طور پر معافی نہیں مانگی تھی۔ اس وقت پیش آئے اس سانحہ پر ہر ہندوستانی کے اندر غم وغصہ تھا یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی عظیم ادبی شخصیت رابندر ناتھ ٹیگور نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج میں برطانیہ کے ذریعہ انہیں دیا گیا‘سر’کا خطاب واپس کردیا تھا۔ انہوں نے غم زدہ ہندوستانیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طورپر ایسا کیا تھا۔ اب جب کہ برطانیہ کی لیبرپارٹی نے اس پر اظہار افسوس کے ساتھ ساتھ اقتدار میں آنے پر سرکاری طور پر معافی مانگنے کا وعدہ کیا ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اس سے سو سال قبل لگے زخموں کو بھرا تو نہیں جاسکتا، اس کے درد کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہندوستان برطانیہ کی نوآبادی تھا اور ہندوستان آزاد نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت آج کے مقابلے حالات بالکل مختلف تھے۔ اس وقت ہندوستان کی آزادی کے 72 برس سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔ اب برطانیہ خود کو جمہوریت حامی اور حقوق انسانی کا علمبردار کہتا ہے۔ دنیا میں اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ لوگ جبروتشدد کو ناپسند کرتے ہیں اور جہاں جہاں اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں پوری دنیا میں اس کے خلاف آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکل کر امن وسلامتی کے حق میں احتجاج کرتے ہیں۔ لوگوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے ماضی کے واقعات سے سبق لے کر مستقبل میں اس کے تدارک کا بیڑا اٹھایا ہے۔

برطانیہ کی سوسائٹی کو جلیاں والا باغ قتل عام پرشرمندگی کا احساس ہے اور وہاں کا حکمراں طبقہ بھی اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اب اس واقعہ پر معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ موجودہ عہد میں برطانیہ کے ساتھ ہندوستان کے خوشگوار رشتے ہیں اور دونوں ممالک نے ماضی میں کئی تلخیوں کو فراموش کرکے بقائے باہم کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے کا تہیہ کیا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں برطانوی حکومت جلیاں والا باغ کے ہولنکاک واقعہ پر معافی مانگتی ہے تو دونوں ملکوں کے مابین رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ برطانیہ میں ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور ایسا کرنے سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ برطانیہ کے عوام میں بھی ایک مثبت پیغام جائے گا۔

چونکہ ہندوستان ابتدا سے ہی ظلم وجبر کا مخالف رہا ہے اور مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے نظریہ سے کون واقف نہیں ہے اور پھر تحریک آزادی کے دوران برطانوی حکومت کا تو اس سے براہ راست سابقہ پڑا ہے۔ ہندوستان نے گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفہ پر گامزن رہتے ہوئے آزادی حاصل کی۔ آج ہندوستان اس مقام پر ہے کہ دنیا میں اس کی بات سنی جاتی ہے۔ ملک ایک بڑی معیشت بن چکا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوا ہے۔ یہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں اور ماہرین نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ اس لیے ہرملک ہندوستان کے قریب آنا چاہتا ہے۔ ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس کی ترقی کا فائدہ سبھی کو ملے لیکن جو لوگ تشدد کے حامی ہیں انہیں سب سے پہلے اسے ترک کرناہوگا۔ ہندوستان کے عوام امن پسند ہیں۔ انہوں نے صدیوں سے ظلم وزیادتی کا سامنا کیا ہے۔ آج ہندوستان نے خود کو اس قابل بنایا ہے کہ لوگوں کو اپنی غلطیوں کا خود ہی احساس ہورہا ہے۔بہرحال لیبر پارٹی کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے۔




****

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ