موضوع: براسیلیا میں گیارہویں برکس سربراہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد 

براسیلیا میں گیارہویں برکس سربراہ کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس کے کامیاب انعقاد سے اس گروپ کی فعالیت اور روز افزوں مقبولیت کااظہار ہوتا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی میں برکس ممالک نے عالمی نمو میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ برکس سربراہ کانفرنس کے انعقاد، نئے ابھرتے ہوئے عالمی معاشی نظام میں بدلتے ہوئے رجحانات کاعکاس ہے۔ برکس نے نہ صرف مغربی ممالک پر سوال اٹھایا ہے بلکہ یہ نئی فکر اور نئے عالمی نظریے کو تشکیل دینے کی بھی کوشش کررہی ہے۔ اس موجودہ کانفرنس کاموضوع تھا ‘‘متنوع مستقبل کیلئے معاشی نمو’’۔ بلاشبہ تنوع مستقبل کی ضرورت ہے۔ تنوع کی تاریخ تخیلاتی کہانیوں سے عبارت ہے۔ اگر ہمارے اندر تنوع نہیں ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہم پر فراموشی کی کیفیت طاری ہے۔



توقع کے مطابق برکس رہنماؤں کے ذریعے جاری بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم اور بین الاقوامی مالیاتی تنظیم سمیت دیگر ہمہ جہت تنظیموں کو مستحکم کرنے اور ان میں اصلاحات لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب ہمہ جہتی مختلف بین الاقوامی حلقوں کے نشانے پر ہے، ہمہ جہتی کے لیے برکس کا غیر متزلزل عزم ایک استثناہے۔ یہ بات عام فہم ہے کہ برٹین ووڈس نظام کے تحت ہمہ جہتی کی توقعات پوری نہیں ہوسکتی ہیں۔ شومئی قسمت سے آج جو لوگ ہمہ جہتی کو نشانہ بنارہےہیں، ان میں وہی لوگ شامل ہیں جنہوں نے ان اداروں کی تشکیل کی تھی۔کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب تجارت کو مزید فروغ دینے کے لیے گلوبل ساؤتھ کو عالم کاری کا زہر پینے پرمجبور کیا گیا تھا۔ اور جب ترقی پذیر ممالک نے عالم کاری کو اپنا لیا ہے تو ان سے کہا جارہا ہے کہ وہ اس کو ترک کردیں۔

برکس کے ذریعے اپنائی گئی نئی ہمہ جہتی کو مشترکہ خوشحالی کے طورپر دیکھا جانا چاہیے۔ مشترکہ بیان میں امن وسلامتی اور جدید پائیدار ترقی کو برقرا رکھنے اور حقوق انسانی کے فروغ وتحفظ نیز ہرایک کے لیے بنیادی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ جہتی کو جو کلیدی اہمیت دی گئی وہ اچھی بات ہے۔

گزشتہ برسوں میں ہندوستان نے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف عالمی رائے ہموارکرنے کے لیے سخت جدوجہد کی ہے۔ ہندوستان، روس اور چین جیسے برکس ارکان دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ اس لیے براسیلیا سربراہ کانفرنس برکس ارکان سمیت پوری دنیا کے خلاف جاری دہشت گردی کی ہرشکل کی مذمت کرنے میں حق بجانب ہے۔

کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے پرزور الفاظ میں دہشت گردی کی مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردی کو ترقی، امن وخوش حالی کے لیے ایک زبردست خطرے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ دہشت گردی کی وجہ سے عالمی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے اورترقی پذیر ممالک میں اس کی وجہ سے معاشی نمو میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی کمی آئی ہے۔

جناب نریندرمودی نے برکس ممالک کے درمیان باہمی تجارت کی ضرورت پر بھی زور دیاجو اس وقت عالمی تجارت کا پندرہ فیصد ہے۔ مشترکہ بیان میں برکس بزنس فورم کے انعقاد کے اعلان کا بھی خیرمقدم کیا گیا ہے۔کیوں کہ معاشی اورتجارتی فروغ میں اس کا کردار بے حد اہم ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کو شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے۔ بیان میں پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے پر نفاذ کی خاطر برکس کے عزم پر زور دیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ماحولیاتی تبدیلی کے لیے اقوام متحدہ لائحہ عمل کے اصولوں کے تحت وضع کردہ پیرس معاہدے کے نفاذ کی بھی حمایت کی۔

برکس سربراہ کانفرنس کے موقع پر برازیل، روس اور چین کے صدور کے ساتھ ہندوستانی وزیراعظم کی ملاقاتیں بھی کافی تعمیری رہیں۔ اگلے سال ہندوستان کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے صدر جائر بولسونارونے نئی دہلی کی دعوت کو قبول کرلیا، جو لاطینی امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی سمت میں ایک خوش آئند اقدام ہے

نیو ڈیولپمنٹ بینک یعنی این ڈی بی کے لیے برکس ارکان کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے برکس کو اقوام عالم میں مزید اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ این ڈی بی نے اپنے ارکان کی تعداد بڑھانے میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس پر براسیلیا سربراہ کانفرنس نے خوشی کا اظہار کیا اور رکن ممالک میں اس کے علاقائی دفاتر کے قیام کا خیرمقدم کیا۔اسی تناظر میں اِنّوویشن برکس نیٹ ورک اور نیو آرکی ٹیکچرآن سائنس ٹیکنالوجی اینڈ اِنّوویشن کا قیام، نمایاں اقدامات ہیں جن کی وجہ سے برکس کو کہیں زیادہ اہمیت، تخصیص اور جوازحاصل ہوا ہے۔عرف عام میں کہا جاتا ہے کہ کسی بھی فعال تنظیم یا گروپ کو نہ صرف تخیل بلکہ مسلسل اعادے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے برکس کوبہت سے ممالک کے لیے ایک ایسی معیشت کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے جو معاشرے کے لیے موزوں ہو نہ کہ کسی ایسے معاشرے کے لیے جو معیشت کے ماتحت ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ