گوت بایا راجپکسے سری لنکا کے نئے صدر منتخب
اپوزیشن رہنما گوت بایا راجپکسے سری لنکا کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ سنیچر کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں 52اعشاریہ دو پانچ فیصد ووٹ حاصل کرکے انہوں نے حکمراں پارٹی کے امیدوارساجتھ پریما داسا کو شکست دی۔ نومنتخب صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ انورادھا پورہ میں اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی سمیت عالمی رہنماؤں نے جناب گوت بایا راجپکسے کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔
جناب مودی نے نومنتخب صدر کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہندوستان کے عوام نیز خود اپنی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ جناب راجپکسے کی قیادت میں سری لنکا کے عوام مزید ترقی کریں گے اور ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان برادرانہ، ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ جناب راجپکسے نے بھی ترقی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستان سری لنکا کو ترقی اور سلامتی سے متعلق معاملات میں امداد فراہم کرکے اس کا ایک اہم پارٹنر بن کر ابھرا ہے۔ تاہم مہندا راجپکسے کی انتظامیہ کے دوسرے دور کے دوران ہند۔سری لنکا تعلقات میں کچھ تلخی دیکھنے کو ملی۔ لیکن 2015میں نیشنل یونیٹی گورنمنٹ سری لنکا میں برسر اقتدار آئی تو دونوں حکومتوں کے درمیان باہمی مفاہمت دوبارہ بحال ہوگئی تھی۔ دو طرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے کے لئے دونوں ملکوں نے متعدد مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کئے ہیں۔تاہم سری لنکا میں داخلی مخالفت اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث ان میں سے بہت سے مفاہمت ناموں کو نافذ نہیں کیا جاسکا۔ ان مفاہمت ناموں کی قسمت کا فیصلہ اب نو منتخب صدر اور ان کی انتظامیہ کرے گی۔ سری لنکا میں ہندوستان کے ترقیاتی پروجیکٹوں کے نفاذ میں تاخیر، وہاں چین کی اسٹریٹیجک موجودگی اور تمل شہریوں کا معاملہ یہ ایسے مسائل ہیں جنہوں نے ہند۔سری لنکا تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ اب جبکہ گو ت بایا راجپکسے انتخابات جیت چکے ہیں امید ہے کہ ان کا گھرانہ طرز حکمرانی میں اہم کرادار ادا کرے گا۔ حکومت میں ان کے کچھ بھائیوں کی شمولیت کی امید کی جارہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نئی حکومت ملک کے بڑے مسائل سے کیسے نپٹتی ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ راجپکسے کا گھرانہ چین سے بہت قریب ہے۔ مہندا راج پکسے کی حکومت کے دور میں جس میں گوت بایا سکریٹری دفاع تھے، سری لنکا نے ہندوستان کی سلامتی سے متعلق تشویشات کو نظر انداز کردیا تھا۔ تاہم بعد میں راجپکسے نے اپنی غلطی تسلیم کی اور وعدہ کیا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو اپنی غلطی ضرور سدھاریں گے۔ 2005سے 2009کے دوران سکریٹری دفاع کی حیثیت سے گوت بایا راج پکسے نے ایل ٹی ٹی ای کو شکست دینے میں کافی اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم ان پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے لڑائی کے دوران نہ صرف حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی بلکہ انہوں نے سنہالا بودھ قوم پرستوں اور ان کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی حمایت بھی کی۔ سنیچر کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں یہ بات نوٹس کی گئی کہ اقلیتی برادری کے زیادہ تر ووٹ ان کے حریف ساجتھ پریما داس کو ملے۔ اس حقیقت کے باوجود گوت بایا راجپکسے نے کہا ہے کہ وہ سری لنکا کے تمام شہریوں کے صدر ہوں گے۔
جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں گوت بایاراجپکسے نے کہا کہ وہ ملک کی معیشت کوبہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوزرکھیں گے کیونکہ اس کی حالت خاص طور پر ایسٹر سنڈے کے روز بم دھماکوں کی وجہ سے اچھی نہیں ہے۔ ہندوستان اس بات پر خاص طور پر نظر رکھے گا کہ نو منتخب صدر تمل شہریوں کے تئیں کیسا رویہ اختیار کرتے ہیں کیونکہ ہند۔سری لنکا تعلقات میں یہ معاملہ سب سے زیادہ باعث تشویش رہا ہے۔
جہاں تک سلامتی کے شعبہ کا تعلق ہے تو امید ہے کہ راجپکسے کی قیادت میں اس شعبہ میں ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے تمام شعبوں میں باہمی مفاہمت اور تعاون نہایت ضروری ہے۔ داخلی معاملات نے دو طرفہ تعلقات کو ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ اس لئے اقلیتوں، حقوق انسانی اور تمل شہریوں کےتئیں راجپکسے کے رویہ کا ہند۔سری لنکا تعلقات پر کافی اثر پڑے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا انحصار گوت بایا انتظامیہ کی جانب سے ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کی خواہش کے اظہار پر ہوگا۔ ایک ایسی پالیسی جس میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی امداد حاصل کرنے کے لئے کسی مخصوص ملک کو ترجیح نہ دی گئی ہو۔
جناب مودی نے نومنتخب صدر کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہندوستان کے عوام نیز خود اپنی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ جناب راجپکسے کی قیادت میں سری لنکا کے عوام مزید ترقی کریں گے اور ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان برادرانہ، ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ جناب راجپکسے نے بھی ترقی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستان سری لنکا کو ترقی اور سلامتی سے متعلق معاملات میں امداد فراہم کرکے اس کا ایک اہم پارٹنر بن کر ابھرا ہے۔ تاہم مہندا راجپکسے کی انتظامیہ کے دوسرے دور کے دوران ہند۔سری لنکا تعلقات میں کچھ تلخی دیکھنے کو ملی۔ لیکن 2015میں نیشنل یونیٹی گورنمنٹ سری لنکا میں برسر اقتدار آئی تو دونوں حکومتوں کے درمیان باہمی مفاہمت دوبارہ بحال ہوگئی تھی۔ دو طرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے کے لئے دونوں ملکوں نے متعدد مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کئے ہیں۔تاہم سری لنکا میں داخلی مخالفت اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث ان میں سے بہت سے مفاہمت ناموں کو نافذ نہیں کیا جاسکا۔ ان مفاہمت ناموں کی قسمت کا فیصلہ اب نو منتخب صدر اور ان کی انتظامیہ کرے گی۔ سری لنکا میں ہندوستان کے ترقیاتی پروجیکٹوں کے نفاذ میں تاخیر، وہاں چین کی اسٹریٹیجک موجودگی اور تمل شہریوں کا معاملہ یہ ایسے مسائل ہیں جنہوں نے ہند۔سری لنکا تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ اب جبکہ گو ت بایا راجپکسے انتخابات جیت چکے ہیں امید ہے کہ ان کا گھرانہ طرز حکمرانی میں اہم کرادار ادا کرے گا۔ حکومت میں ان کے کچھ بھائیوں کی شمولیت کی امید کی جارہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نئی حکومت ملک کے بڑے مسائل سے کیسے نپٹتی ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ راجپکسے کا گھرانہ چین سے بہت قریب ہے۔ مہندا راج پکسے کی حکومت کے دور میں جس میں گوت بایا سکریٹری دفاع تھے، سری لنکا نے ہندوستان کی سلامتی سے متعلق تشویشات کو نظر انداز کردیا تھا۔ تاہم بعد میں راجپکسے نے اپنی غلطی تسلیم کی اور وعدہ کیا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو اپنی غلطی ضرور سدھاریں گے۔ 2005سے 2009کے دوران سکریٹری دفاع کی حیثیت سے گوت بایا راج پکسے نے ایل ٹی ٹی ای کو شکست دینے میں کافی اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم ان پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے لڑائی کے دوران نہ صرف حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی بلکہ انہوں نے سنہالا بودھ قوم پرستوں اور ان کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی حمایت بھی کی۔ سنیچر کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں یہ بات نوٹس کی گئی کہ اقلیتی برادری کے زیادہ تر ووٹ ان کے حریف ساجتھ پریما داس کو ملے۔ اس حقیقت کے باوجود گوت بایا راجپکسے نے کہا ہے کہ وہ سری لنکا کے تمام شہریوں کے صدر ہوں گے۔
جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں گوت بایاراجپکسے نے کہا کہ وہ ملک کی معیشت کوبہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوزرکھیں گے کیونکہ اس کی حالت خاص طور پر ایسٹر سنڈے کے روز بم دھماکوں کی وجہ سے اچھی نہیں ہے۔ ہندوستان اس بات پر خاص طور پر نظر رکھے گا کہ نو منتخب صدر تمل شہریوں کے تئیں کیسا رویہ اختیار کرتے ہیں کیونکہ ہند۔سری لنکا تعلقات میں یہ معاملہ سب سے زیادہ باعث تشویش رہا ہے۔
جہاں تک سلامتی کے شعبہ کا تعلق ہے تو امید ہے کہ راجپکسے کی قیادت میں اس شعبہ میں ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے تمام شعبوں میں باہمی مفاہمت اور تعاون نہایت ضروری ہے۔ داخلی معاملات نے دو طرفہ تعلقات کو ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ اس لئے اقلیتوں، حقوق انسانی اور تمل شہریوں کےتئیں راجپکسے کے رویہ کا ہند۔سری لنکا تعلقات پر کافی اثر پڑے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا انحصار گوت بایا انتظامیہ کی جانب سے ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کی خواہش کے اظہار پر ہوگا۔ ایک ایسی پالیسی جس میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی امداد حاصل کرنے کے لئے کسی مخصوص ملک کو ترجیح نہ دی گئی ہو۔
Comments
Post a Comment