موضوع: برطانیہ میں وقت سے پہلے انتخابات: ایک جائزہ 



اپنے بریگزٹ منصوبے کو نافذ کرنے کی غرض سے پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کیلئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے وقت سے پہلے 12 دسمبر کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتخابات گذشتہ پانچ برسوں میں چوتھی بار ہو رہے ہیں۔ یہ انتخابات بقول بورس جانسن ، اس تعطل سے باہر نکلنے کا واحد راستہ ہے جو 2016 میں بریگزٹ ریفرینڈم کے بعدسے جاری ہے۔ وقت سے پہلے پچھلے انتخابات 2017میں ہوئے تھے جب ٹیریسا مےملک کی وزیراعظم تھیں۔ ان انتخابات میں کنزر ویٹیو پارٹی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی جس کے باعث اسے اقتدار میں برقرار رہنے کیلے ڈیموکریٹک یونینیسٹ پارٹی کی حمایت لینی پڑی۔

اس وقت انتخابی مہم تیسرے ہفتہ میں داخل ہو چکی ہے اور انتخابات کے سلسلہ میں جو اوپینئن پول کرائے گئے ہیں ان کے مطابق کنزرویٹیو پارٹی کو لیبر پارٹی پر 19 پوائنٹ کی سبقت حاصل ہے۔ اس وقت کل ووٹوں کا 47فیصد حصہ کنزرویٹیو پارٹی کے حق میں ہے جبکہ لیبر پارٹی کو 28 لیبرل ڈیمو کریٹس کو 12 اور بریگزٹ پارٹی کو صرف تین فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ملک کی تمام بڑی پارٹیوں نے اپنے انتخابی منشور میں اس وقت کے سب سے اہم موضوع بریگزٹ کو شامل کیا ہے اور اس معاملہ پر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے ۔ کنزرویٹیو پارٹی اپنی تمام انتخابی مہموں میں بریگزٹ کی بات کرتی ہے اور اپنے اس عہد پر قائم ہے کہ وہ برطانیہ کو یوروپی یونین سے علیحدہ کرکے ہی رہے گی۔ یہ پارٹی جنوری کے اختتام تک برطانیہ کو یوروپی یونین سے الگ کر کے ایک نئے برطانیہ کی تشکیل چاہتی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کو یوروپی یونین سے باہر دیکھنا چاہتی ہے تاکہ ملک کے عوام خود اپنے اسکولوں، پولیس اور این ایچ ایس میں سرمایہ کاری کر سکیں۔

لیبر پارٹی کی جانب سے حال ہی میں جاری انتخابی منشور میں پارٹی لیڈر جیریمی کاربن نے کہا کہ ان کی پارٹی چھ ماہ کے اندر بریگزٹ کا مسئلہ حل کرلے گی اور اس میں حتمی فیصلہ عوام کا ہوگا۔ عوام طے کرے گی کہ آیا یوروپی یونین میں رہنا ہے یا نہیں۔ تاہم ایک دوسرے موقع پر لیبر پارٹی لیڈر نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی کی انتخابات میں جیت ہوئی تو وہ برطانیہ کے یوروپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں کوئی مہم شروع نہیں کرے گی۔ لیبر پارٹی کا اس طرح کا غیر جانبدارانہ موقف اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کے عوام ایک ایسا لیڈر چاہتے ہیں جو ملک کے سیاسی تعطل کو ختم کر دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ عوام کی سماجی اور معاشی زندگی میں اب کوئی تعطل نہیں ہے ۔ دوسری جانب لیبرل ڈیموکریٹس نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ کبھی اقتدار میں آئے تو وہ دفعہ 50 کو منسوخ کر دیں گے کیونکہ وہ برطانیہ کو یوروپی یونین میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ادھر بریگزٹ پارٹی اس بات پرزور دے رہی ہے کہ بریگزٹ صاف و شفاف طور پر ہو۔ اس نے ایک معاہدہ کا انتظام کرنے کے لئے کنزرویٹیو پارٹی سے اپیل کی ہے۔ 

اسی دوران لیبر پارٹی نے غیر ضروری طور پر ہندوستان کو برطانوی انتخابات میں ایک موضوع بنا نے کی کوشش کی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لیبر پارٹی نے ستمبر میں اپنی کانفرنس میں ایک تحریک منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت کشمیر میں انسانی بحران ہے اور یہ کہ وہاں کے عوام کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہئے۔ لیبر پارٹی کا یہ بیان بے بنیاد اور سچائی سے کافی دور ہے۔ ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے ہندوستان کو داخلی تبدیلی کا پوراحق ہے۔ حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی دو جغرافیائی یونٹوں میں تقسیم کو داخلی اور خارجی دونوں طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ کشمیر جیسے مسئلہ کو برطانیہ کی انتخابی مہم میں ایک موضوع کے طور پر شامل کئے جانے سے انتخابات سے پہلے غیر ضروری کشیدگی پید ہو سکتی ہے۔ اگر تازہ انتخابات سے یوروپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے سلسلہ میں جو تعطل بنا ہوا ہے وہ ختم نہیں ہوا تو برطانیہ کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہوگا۔ 

بریگزٹ سے پیدا ہونے والا تعطل آئندہ سال ختم ہو جانا چاہئے کیونکہ کافی عرصہ تک چلنے والی غیر یقینی کی صورتحال سے ترقی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم بورس جانسن نے وقت سے پہلے انتخابات کا اعلان کر کے ایک خطرہ ضرور مول لیا ہے اور وزیر خزانہ رشی سوناک کے اس بیان نے کہ اگر کنزرویٹیو پارٹی کو انتخابات میں فتح حاصل ہوئی تو بغیر کسی معاہدے کے برطانیہ کے یوروپی یوین سے الگ ہونے کی تیاری جاری رہے گی، وزیراعظم کے لئے مزید پریشانی پیدا کردی ہے۔ اس کے علاوہ بورس جانسن نے دسمبر 2020 کے بعد بات چیت کو مزید آگے بڑھانے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو یا تو یوروپی یونین کی شرائط تسلیم کرنی پڑیں گی یا پھر کسی معاہدے کے بغیر یونین سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ