پاکستانی انتہائی پستی کا شکار
اپنے صدر سے لے کر وزیر خارجہ تک پاکستانی حکومت نے ایسے معاملے پر رائے زنی کی ہے جو خالصتاً ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمٹ کے ذریعے یہ ایسا اقدام ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ 9 نومبر 2019 کو ہندوستان کی عدالت عظمی کی پانچ رکنی بنچ نے اترپردیش کے صدیوں پرانے اراضی تنازعے کا اتفاقِ رائے سے فیصلہ دیا تھا جس کے بعد رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ ہندوستانی معاشرے کے تمام طبقات نے اس فیصلے کا خوش دلی سے خیرمقدم کیا ہے۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں اجودھیا کے نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لئے 5 ایکڑ اراضی مختص کرنے کے بھی احکامات صادر کئے۔ مرکزی اور ریاستی دونوں ہی حکومتوں کو اس اراضی کی نشاندہی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ فیصلے کے مطابق متنازعہ اراضی ایک ٹرسٹ کی تحویل میں رہے گی، جس کی تشکیل تین ماہ کے اندر مرکزی حکومت کرے گی۔
اجودھیا میں اراضی کی ملکیت سے متعلق فیصلے کا مقدمے میں شامل تمام فریقین نے خیرمقدم کیا ہے۔ اسی شام وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا اور اس فیصلے پر بھرپور اطمینا ن کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان معاشرے کے ہر طبقے، برادری، ہر مذہب کے لوگوں اور پوری قوم نے کھلے دل سے جس طرح اس فیصلے کو قبول کیا ہے۔ اس سے ملک کی صدیوں پرانے اقدار، ثقافت، روایات اور ہندوستانی معاشرے کی رگ و پے میں پیوست اخوت اور ہم آہنگی کا اظہار ہوتاہے۔
لیکن ان تمام حقائق سے بے نیاز اور حیران و پریشان اور مضطرب پاکستان نے اجودھیا اراضی سے متعلق متفقہ فیصلے پر بلا جواز اور گستاخانہ رائے زنی کی ہے جس کی ہندوستانی حکومت نے نہ صرف فوری طور پر سخت تنقید کی ہے بلکہ اسلام آباد حکومت کے مذموم عزائم پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی قیادت میں فہم و ادراک کی کمی، کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ نفرت پھیلانے کے ارادے سے ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اس کے خون میں شامل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے، پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بیان بازی کا جواب دیتے ہوئے، ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایک دیوانی مقدمے کے سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے پر پاکستان نے جو بلا جواز اور توہین آمیز بیان بازی کی ہے، اس کو ہندوستان سختی سے مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ اس کا خالصتاً اندرونی معاملہ ہے اور اس کا تعلق قانون کی بالا دستی سے ہے اور اس سے تمام عقائد اور تصورات کے احترام کا اظہار ہوتا ہے جن کا پاکستان کی اخلاقیات اور اقدار میں دور دور تک پتہ نہیں ہے۔
یہ بھی انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ پاکستان نے کشمیر کی صورتحال اور اجودھیا کے سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے پر کرتار پور راہداری کے افتتاح کے مبارک موقعے پر بے بنیاد بیان بازی کی ہے۔ واضح ہو کہ اس راہداری کے افتتاح سے ہندوستان میں پنجاب کے گورداس پور ضلع میں واقع ڈیرا بابا نانک اور پاکستان میں نار وال ضلع کے کرتار پور میں واقع گورداس پور دربار صاحب کے مقدس مقامات کے درمیان آمد و رفت میں سہولت پیدا ہوگئی ہے۔ ہندوستان میں کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستانیوں کے جذبات کی تفہیم اور احترام کے لئے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کی ستائش کی تھی لیکن اس کے برخلاف اپنی سرحد کے اندر منعقدہ افتتاحی تقریب میں پاکستانی رہنماؤں نے اس موقعے کو مسئلہ کشمیر اور اجودھیا فیصلے پر بے بنیاد بیان بازی کے لئے استعمال کیا۔ خیال رہے کہ 2016 میں اڑی فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تعطل کا شکار ہوگئے تھے اور جموں و کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ پوری طرح مربوط کرنے کے لئے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر پاکستان کے ردعمل کے بعد یہ تعلقات مزید تلخی کا شکار ہوگئے۔ تاہم کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پیدا خیرسگالی کے ذریعے اس تلخی کو کم کرنے کے لئے پاکستان کو جو موقع ملا تھا وہ اس نے اجودھیا فیصلے پر اپنی بے موقع اور بلا جواز بیان بازی سے کھو دیا ہے۔
عمران خان کی زیر قیادت حکومت میں پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور اس بحران کو دور کرنے میں ناکامی کے بعد ان کی حکومت اور اہلیت کو زبردست خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت جمعیت العلمائے اسلام کے ہزاروں کارکنوں نے اسلام آباد میں مظاہرہ کرکے وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کیا۔ حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں نے بھی پاکستان کی حکومت کے خلاف کمر کس لی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی پارٹی پی ایم ایل (ن) اور ان کے افراد کنبہ نے پاکستانی حکومت پر پارٹی کو ختم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان ہندوستان کے خلاف جو بیان بازیاں کررہے ہیں، شاید ان کا مقصد سنگین ملکی مسائل سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانا ہے لیکن پاکستان کو بخوبی سمجھ لینا چاہیئے کہ نئی دہلی کے ساتھ ان کے تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک وہ دہشت گردی کو فروغ دینے اور ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی پالیسی پر عملدرآمد بند نہیں کردیتا۔
اجودھیا میں اراضی کی ملکیت سے متعلق فیصلے کا مقدمے میں شامل تمام فریقین نے خیرمقدم کیا ہے۔ اسی شام وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا اور اس فیصلے پر بھرپور اطمینا ن کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان معاشرے کے ہر طبقے، برادری، ہر مذہب کے لوگوں اور پوری قوم نے کھلے دل سے جس طرح اس فیصلے کو قبول کیا ہے۔ اس سے ملک کی صدیوں پرانے اقدار، ثقافت، روایات اور ہندوستانی معاشرے کی رگ و پے میں پیوست اخوت اور ہم آہنگی کا اظہار ہوتاہے۔
لیکن ان تمام حقائق سے بے نیاز اور حیران و پریشان اور مضطرب پاکستان نے اجودھیا اراضی سے متعلق متفقہ فیصلے پر بلا جواز اور گستاخانہ رائے زنی کی ہے جس کی ہندوستانی حکومت نے نہ صرف فوری طور پر سخت تنقید کی ہے بلکہ اسلام آباد حکومت کے مذموم عزائم پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی قیادت میں فہم و ادراک کی کمی، کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ نفرت پھیلانے کے ارادے سے ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اس کے خون میں شامل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے، پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بیان بازی کا جواب دیتے ہوئے، ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایک دیوانی مقدمے کے سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے پر پاکستان نے جو بلا جواز اور توہین آمیز بیان بازی کی ہے، اس کو ہندوستان سختی سے مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ اس کا خالصتاً اندرونی معاملہ ہے اور اس کا تعلق قانون کی بالا دستی سے ہے اور اس سے تمام عقائد اور تصورات کے احترام کا اظہار ہوتا ہے جن کا پاکستان کی اخلاقیات اور اقدار میں دور دور تک پتہ نہیں ہے۔
یہ بھی انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ پاکستان نے کشمیر کی صورتحال اور اجودھیا کے سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے پر کرتار پور راہداری کے افتتاح کے مبارک موقعے پر بے بنیاد بیان بازی کی ہے۔ واضح ہو کہ اس راہداری کے افتتاح سے ہندوستان میں پنجاب کے گورداس پور ضلع میں واقع ڈیرا بابا نانک اور پاکستان میں نار وال ضلع کے کرتار پور میں واقع گورداس پور دربار صاحب کے مقدس مقامات کے درمیان آمد و رفت میں سہولت پیدا ہوگئی ہے۔ ہندوستان میں کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستانیوں کے جذبات کی تفہیم اور احترام کے لئے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کی ستائش کی تھی لیکن اس کے برخلاف اپنی سرحد کے اندر منعقدہ افتتاحی تقریب میں پاکستانی رہنماؤں نے اس موقعے کو مسئلہ کشمیر اور اجودھیا فیصلے پر بے بنیاد بیان بازی کے لئے استعمال کیا۔ خیال رہے کہ 2016 میں اڑی فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تعطل کا شکار ہوگئے تھے اور جموں و کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ پوری طرح مربوط کرنے کے لئے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر پاکستان کے ردعمل کے بعد یہ تعلقات مزید تلخی کا شکار ہوگئے۔ تاہم کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پیدا خیرسگالی کے ذریعے اس تلخی کو کم کرنے کے لئے پاکستان کو جو موقع ملا تھا وہ اس نے اجودھیا فیصلے پر اپنی بے موقع اور بلا جواز بیان بازی سے کھو دیا ہے۔
عمران خان کی زیر قیادت حکومت میں پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور اس بحران کو دور کرنے میں ناکامی کے بعد ان کی حکومت اور اہلیت کو زبردست خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت جمعیت العلمائے اسلام کے ہزاروں کارکنوں نے اسلام آباد میں مظاہرہ کرکے وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کیا۔ حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں نے بھی پاکستان کی حکومت کے خلاف کمر کس لی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی پارٹی پی ایم ایل (ن) اور ان کے افراد کنبہ نے پاکستانی حکومت پر پارٹی کو ختم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان ہندوستان کے خلاف جو بیان بازیاں کررہے ہیں، شاید ان کا مقصد سنگین ملکی مسائل سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانا ہے لیکن پاکستان کو بخوبی سمجھ لینا چاہیئے کہ نئی دہلی کے ساتھ ان کے تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک وہ دہشت گردی کو فروغ دینے اور ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی پالیسی پر عملدرآمد بند نہیں کردیتا۔
Comments
Post a Comment